Mar 24, 2015

Raqeeb -رقیب


نیند کی تار پر 
خواب پڑے ہیں،
وقت کی دھوپ
یونہی پڑتی رہے گی. 

رات کی اوس میں 
جب بھیگے بھیگے،
ساری شب 
نیند جاگتی رہے گی. 

جہاں پر دو سائے 
سہارے بنتے ہیں،
میری نیند اس بیچ 
پڑی رہے گی.

تم کروٹ کروٹ
بدلو گے،
میری آنکھوں میں
نیند جاگتی رہے گی!



بانو سازی 
اگست ٨، ٢٠١١
رات ١:٣٨

Neend ki taar per,
khwaab parr'ay hain,
Waqt ki dhoop 
yun'hi parti rahe gi,

Raat ki ows main 
jab bheege bheege ,
Saari shab 
neend jaagti rahe gi.

Jahan per do saa'ye
sahare bante hain,
Meri neend us beech 
pa'ri rahe gi.

Tum karwat karwat 
badlo gay,
Meri aankhon main
neend jaagti rahe gi


by Bano B.
August 8th, 2011
1:38 am



Mar 19, 2015

Mar 17, 2015

مصائب --- Masai'ib

   
کچھ پرانے خط 
لکھے وعدے 
وعدوں میں خواب 
خوابوں میں تم
تم سے ہم 
ہم سے میں
 مکمّل الفاظ 
ادھورے جملے

مٹی کا گھر
وقت کا طوفان 
زمانے کا قہر 
زبانوں کا زہر 
لمحوں کی رفاقت
 حیاتی جدائی

دلوں کا صیغہ  
عدّت تا  قیامت.

  

بانو سازی 
مارچ ١٧، ٢٠١٥
شام ٦:٢٧


Kuch puranay kha'tt
Likhay waaday
Waad'on main khwa'ab
Khwaab'on main tum
Tum say hum
Hum say main
Mukammal alfaaz
Adhooray jumlay

Mit'ti ka ghar
Waqt ka toofan
Zamane ka qehar
Zubano ka zehar
Lam'hon ki rafaqat

Hayati judai

Dil'on ka seegha
Idda'at ta-qayamat.


by Bano B.
March 17th, 2015
6:27pm


Mar 16, 2015

جنگ و جدل اور تم


جلتے ہوئے شہر، مرتے ہوئے لوگ اور تمہاری آمد!

یوں لگا جیسے اچانک سے دنیا نے خود کو روکا اور ہر چیز کو اپنی جگہ پر کردیا ہو. فرشتوں نے ذرا فرصت نکالی اور صفائی کی جھاڑو پھیر دی ہو. سننے میں ناممکن لگتا ہے نا ؟

لیکن نہیں!

تم میرا معجزہ ہو. یہ کوئی بھی نہیں بلکہ تم خود بھی نہیں سمجھ سکتے کہ تمہاری آنکھوں کی چمک سے میرا آسمان زمین پر اتر کر جگمگانے لگتا ہے. میری مسکراہٹ بنا میری اجازت کے  ہنسی اور ققہوں میں بدل جاتی ہے.  جانتے ہو بہت دیر تمہاری طرف دیکھ بھی نہیں سکتی......آتش گیر مادہ ہو تم!

میں جب جب تمہارے برابر میں چلتی ہوں تو سوچتی ہوں آخر دنیا میں اتنا ظلم کیوں؟ خون خرابہ کیوں؟ سب لوگ اپنا اپنا معجزہ کیوں نہیں ڈھونڈ لیتے؟

پھر سوچتی ہوں خدا تمہارے بعد شاید اتنا مہرباں ہوا ہی نہ ہو.

یہ جو گہری بھوری آنکھیں ہیں نا ......قسم لے لو بنا پلک جھپکے اک عمر گزار دوں.
چوکور سے چہرے پر باریک ہونٹ جب کچھ کہنے کہ لئے کھلتے ہیں تو لگتا ہے کسی نے بِاب فردوس کھول دیا ہو.

میرا قوی یقین ہے تم نے بھی خود کو کبھی آئینے میں یوں نہ دیکھا ہوگا جتنا میں نے تم کوبہانوں بہانوں سے دیکھا. میری دھڑکن حلق میں آجاتی ہے جب تمہاری نظر مجھ پرہوتی ہے.  

دل میں کوئی محبّت نہیں تمہارے لئے کیوںکہ عمومی طور پر اس جذبے میں امیدیں، وعدے، صدمے، اور افسوس ہوتا ہے. تم جنوں بھی نہیں کیوںکہ ہمارے مابین کوئی عشقیہ معاہدہ بھی نہیں. 

اتنے سالوں میں مجھے اس جذبے کہ لئے نام نہیں ملا لیکن یہ طے ہے کہ محبّت سے بڑھ کر اور عشق سے کچھ کم  جو بھی ہو...تم ہو.....لیکن تمہیں یہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے. 


Mar 15, 2015

انقلاب نہیں تہذیب

ہم طالبان کو ایک جماعت کے طور پر جانتے ہیں جب کہ سچ تو یہ ہے کے طالبان ایک سوچ ہے جو بہت تیزی سے پاکستان میں سرائیت کر چکی ہے.  ضروری نہیں  کے یہ سوچ آپکو  بھر داڑھی اور اونچی شلوار کے ساتھ ملے. بس کسی  شخص کی زبان کھلنے کی دیر ہے اور پیٹ کی داڑھی منہ سے باہر لٹکنے لگتی ہے.

بر صغیر کے اس خطّے میں اسلام تب اتنا نہیں پھیلا تھا جب جناب محمّد بن قاسم باب السلام سے داخل ہوئے تھے، جتنا ٩/١١ کے واقعے کے بعد پھیلا ہے. کچھ دنوں میں آپ پتھر اٹھایں گے اور کیڑا کہے گا وہ بھی مذہبی ٹھیکیدار ہے. شاہد آفریدی جیسا مایہ ناز بین الاقوامی شہرت کا کھلاڑی ہو یا اوریا مقبول جان جیسے جان کے دشمن ان سب کا اسلام عورت پر نازل اور حاصل ہے.

پاکستانی فطرتاً ایک ایسی قوم ہے جس نے دنیا بھر ک مسلمانوں کا ٹھیکہ  لے رکھا ہے. سعودی عرب نے کبھی یہ باپ جیسی شفقت برما، کشمیر، بوسنیا، یا فلسطین کے مسلمانوں کے لئے نہیں دکھائی، لیکن ہماری سڑکوں اور شاہراوں پر آپکو ہندوستان اور اسرائیل کے جھنڈے جلتے نظرآیں گے اور ساتھ ہی روتی چیختی عورتوں کی تصاویر تاکہ زیادہ سے زیادہ چندہ جمع ہوسکے.

اس وقت کسی مسلمان مرد کو ان عورتوں کی نامحرم ہونے پر اور حرمت پر خیال نہیں آتا. اسلام خریدنا ہو یا بیچنا ہو، تولہ ہمیشہ عورت ک باٹ پر جاتا ہے.

میرا ذاتی اختلاف مردوں سے نہیں ہے، کیوں کہ ماشاللہ سے فرحت ہاشمی نے زنانی طالبان کوبڑا فروغ دیا ہے. پڑھی لکھی، کماؤ پوت خواتین بھی اسی طالبانی .
سوچ سے حاملہ ہیں 

شاہد آفریدی نے اپنی  پہاڑی سوچ اور شکاری دماغ کا بھرپور استمعال کرتے ہوئے
 کہا کہ عورتوں کو کچن تک ہی رہنا چاہیے.  تب سے مجھے اسکی چار بیٹیوں پر ترس اتا ہے جنکا مستقبل اب صرف چولہے کی آگ تک روشن ہوگا.  

میری اس بات پر میری ایک جان پہچان کی خاتون نے بہت اعتراض کیا.
بذات خود وہ  خاتون برطانیہ سے پڑھ کر آیی  ہیں اور آج کل پسند کی شادی کی جدوجہد کر رہی ہیں ہیں، فرمانے لگی کہ شاہد آفریدی کی بات کو غلط رنگ دیا جارہا ہے اور یہ اسلام کہ عین مطابق ہے.جب میں نے انھے حضرت خدیجہ کی تجارت یاد دلایی تو لمبی خاموشی چھا گیئ .

 روزانہ کے حساب سے سینکڑوں مثالیں ہیں جن سے ثابت ہوا پڑھ لکھ جانے سے آپ کا ذھن نہیں کھل جاتا. عزت کردار اور عمل سے نہیں بلکے حلیے سے بنایی جاتی ہے. کوئی خاتون جو بنا دوپٹتے یا جینز میں ہونگی.


زیادہ دن پرانی بات نہیں ہے جب سوشل میڈیا پر ایک تصویر بڑے زور و شور سے چلی اور وہ تھی رحام خان اور وینا ملک کی جس میں دونوں خواتین  اسلامی لحاظ سے  باپردہ اور باحیا نظر آرہی تھیں. 
یہ وہی دو عورتیں ہیں جو ماضی میں اپنے پروفیشن کے حوالے سے کسی نہ کسی طرح خبروں کی زینت بنی رہی ہیں. 

عمران خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے پہلے رحام خان بی بی سی چینل پر موسم کا حال سناتی تھیں اور جیسے تمام اور خواتین مغربی لباس پہنتی تھیں ویسے ہی وہ بھی رہتی تھیں. جرنلزم میں ڈگری رکھنے والی، تین بچوں کی ماں، اور پچھلے دو سال سے پاکستانی براڈکاسٹ جرنلسٹ ہونے کے باوجود رحام نے اپنا حلیہ کیوں بدلہ؟ رحام نے ایسا اپنی دوسری شادی کے بعد ہی کیوں  کیا؟ کیا ان سے لوگوں کی امیدیں وابستہ تھیں حلیے کو لے کر؟ یا پھر ان کو لگا کے سر ڈھانک کر وہ پاکستانی معاشرے کا زیادہ عزت دار حصّہ بنیں گی؟

وینا ملک کسی تعرف کی محتاج نہیں.
بگ باس جیسے مشہور زمانہ پروگرام میں حصّہ لینے سے لے کر برہنہ تصاویر تک وینا نے کسی نہ کسی طرح خود کو خبروں کی زینت بنا کر رکھا ہے.  آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں محمّد آصف کو بھول گی ہوں یا مولانا طارق جمیل کے حوالے یاد نہیں لیکن وہ میری بات کا مقصد نہیں. حیرانی مجھے تب ہوئی جب میں نے وینا کو عبایا میں لپٹا دیکھا. 

آخر یہ اچانک بدلاؤ کیوں وہ بھی شادی کے بعد؟ کیا ان دونوں عورتوں کی اپنی کوئی شناخت نہیں تھی اس سے پہلے؟

اس سوال کے بعد میں نے اپنے اطراف میں نظر دوڑائی تو جواب میرے سامنے تھا.

ہم ایک ایسا  معاشرہ ہیں جہاں کردار سے زیادہ دکھاوے کی قدر و قیمت ہے. ہم نے مذہب کو اور اس کے احکام کو گنگا کا پانی سمجھ لیا ہے.
میرے اس اعتراض پر کافی زبانی لبرل اور سیکولر لوگوں کا کہنا ہے کہ خدا نے ان عورتوں کو ہدایت دی ہے اور آپ بےپردگی کا دفاع نہ کریں.

با پردہ، بے پردہ، یا برہنہ......یہ سب مقصد ہی نہیں.
بات یہ ہے کہ ایک کامیاب، پڑھی لکھی، دنیا کو پرکھنے اور جانچنے والی عورت کو پاکستانی معاشرے میں اپنی جگہ بنانے کیلئے اپنی شناخت کیوں چھوڑنی پڑی ؟ 
رحام خان کیا ان عام لڑکیوں، عورتوں کی طرح نہیں رہ سکتی تھی جو انقلابی دھرنے میں شرکت کے لئے آتی تھیں؟
کیا رحام ڈان نیوز کا شو ویسے ہی کریں گی جیسے پہلے کرتی تھیں؟

کیا وینا ملک عام حلیے میں رہ کر خود کو اچھی بیوی اور ماں ثابت نہیں کرسکتی؟

جانتے ہیں ایسا کیوں ہوا؟
کیوںکہ میں اور آپ قاضی شہر بن گئے ہیں. اب ہم بتایئں گے کہ ان عورتوں کو اپنا آپ بےداغ ثابت کرنا پڑے گا اور اسکا پہلا قدم ہے سر ڈھانکنا.

شادی سے پہلے عمران خان یا اسد بشیر خان اپنی اہلیاؤں کو نہیں جانتے تھے؟ کیا انہوں نے ان عورتوں کو اس لئے پسند کیا تھا کیوںکہ وہ سر ڈھانکتی تھیں یا خود کو چادر میں لپٹتی تھیں؟
یقینن نہیں!
اہیمیت ان خواتین کی پہچان کی ہے، ان کے ذہنی خدوخال کی ہے. 

پاکستانی مسلمانہ مردانہ سوچ وہیں کپڑے اتار کر کھڑی ہوجاتی ہے جب وہ چہرے کی جگہ آپ کی ہر اٹھان دیکھنے کی کوشش میں ہوتے ہیں. لیکن قصور تو عورت کا ہے جو بنا دوپٹتے یا جینز میں آپ کی مردانگی جگانے آگئیں 
ایسے موقعے پر پیٹ میں داڑھی رکھنے والے حضرات آپ کے باپ، بھائی ، شوہر کی غیرت کو للکارنے سے بھی باز نہیں آیں گے.

پاکستان ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں عورت ہونا روز کی نوکری ہے. آپکو روز یاد دلایا جائے گا کہ عورت ہونا کتنا غیر محفوظ اور نامکمل ہے جب تک آپ کے پاس پردے اور محرم جیسا محافظ نہیں.

اس ملک کو انقلاب کی نہیں تہذیب کی ضرورت زیادہ ہے. 

اگر ہم واقعی ایک ترّقی پسند ملک اور معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں ان لبادوں سے باہر نکلنا ہوگا اور ہر انسان کو چاہے مرد ہو یا عورت اسکو عمل کی قید سے آزاد کرا کر اسکی شناخت لوٹانی ہوگی.






Mar 3, 2015

Never Ending Song of YOU - II


Ever got belly butterflies?
I do.

The ones that flutter right through my chest and make the blood rush through my cheeks. This fluttering is hard to hide because the glint in my eyes hint on the thousand stories that we have written together

I am not beautiful. 
It's your thought that does the magic.

I forget to blink when you open your symmetrical mouth to speak, and the curve that they call smile is actually a crescent on my heart.

When sun sets itself on your hands, they shine like fields of gold entangled in my fingers. I have spent hours watching you in your sleep with a gap between your lips. Those hours are so well spent that even sunshine takes time to reach us and wake you up.

I can spend my whole day in the scent that you left behind. That’s what makes me do waltz even when you aren't present because you are never gone.

Your ruffled hair set my heart on fire and everything else straight.

You are my all-time season of spring.

You are my never ending song of eternity.



by Bano B.
March 3rd, 2015
5:10 pm

Never Ending Song of You - I  can be read here

Feb 27, 2015

غبار


میری زندگی میں شاید بہت کم لوگ یہ جانتے ہوں یا انھے یاد بھی ہو کہ میں نے چودہ سے لے کر پندرہ سال کی عمر تک پردہ اپنایا تھا لیکن کچھ وجوہات کی بناہ پر میں نے ترک کردیا.

وجہ یہ نہیں تھی کہ مجھے کوئی فیشن کرنا تھا یا کچھ اور......وجہ یہ تھی مجھے بہت کم عمری میں سمجھ آگیا تھا کہ، پردہ صرف سر ڈھانکنے یا چہرہ چھپانے کو نہیں کہتے ہیں. پردہ ایک عمل نہیں بلکہ کردار ہے. 
 اس زمانے میں شاید لوگ زیادہ وسعت الذہن تھے اور بچیوں، لڑکیوں کو ان کے کردار کی تبلیغ دیتے تھے. میری والدہ نے ہمیشہ ہمیں سکھایا کہ، بیٹا آنکھ کا پردہ سب سے پہلے ہے اور میں نے کسی اور بات پر عمل کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن یہ بات گانٹھ کی طرح باندھ لی تھی .

آج تقریباً پندرہ سال بعد زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا لیکن ہمارے مسلمان بھائی بہن ابھی تک عورت ذات کو لولی پوپ سے تشبیہ دیتے پاے جاتے ہیں. یہ کافی نہیں تھا تو مشہور زمانہ باکسر محمّد علی کی اپنی بیٹی کو تنبیہ میدان میں لے آے . 

میرا اختلاف پردے سے نہیں لیکن کسی عورت کو پردے  کی بنیاد پر پرکھنے سے ہے. اگر تم خود کو مسلمان کہتے ہو چاہے کسی بھی مسلک کے ہو، مجھے جواب دو کہ تم نے معاشرہ اس پستی میں کیوں ڈال دیا ہے کہ جہاں عورت کو عزت کے لئے چادر اور عبایا اوڑھنی پڑتی ہے؟ کیا تمہاری نظریں نیچے نہیں ہو سکتی؟

لولی پاپ کی تصویر لگانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس پر بیٹھنے والی مکھی وہ  خود ہیں، محمّد علی اپنی بیٹی کو جن لوگوں کے بارے میں تنبیہ کر رہا ہے، وہ بھی تم ہو.

ایک لڑکی جو بنا سر ڈھانکے دفتر کے لئے نکلتی ہے کیا اسکی عزت اس عورت سے کم ہے جو عبایا اوڑھے بس اسٹاپ پر کسی نامحرم ک ساتھ جانے ک لئے تیار ہوتی ہے؟

بی بی خدیجہ، فاطمه بنت محمّد، زینب بنت علی کا نام لے کر خواتین بھی کود پڑتی ہیں کہ پردہ ہی کل کائنات ہے. مردوں کو بھی یہ ساری مثالیں یاد آجاتی ہیں. 
کسی کو یاد نہیں تو وہ یہ کہ ان بیبیوں کا کردار ان کی پہچان تھا. عورت کی معراج تھی یہ بیبیاں جنہوں نے تجارت سے لے کر، حسنین جیسے بیٹے پالے اور بعد کربلا لشکر سنبھالا. 
سر ڈھانک کر زبان درازی کرنا، غیبت کرنا، چغلی کھانا، حقوق العباد نہ نبھانا، اصراف کرنا، گھر سے کالج کا کہہ کر نکل کر کہیں اور نکل جانا، نا محرم سے بےجا گفتگو کرنا.......کیا یہ کردار ہے پردے کے عمل کے پیچھے؟

جس عورت کو تم ڈھکا چھپا رکھنے کا کہتے ہو، اسی کو دیکھنے اس کے ڈرائنگ روم میں ماں بہنوں ک ساتھ پہنچ جاتے ہو. آڑھی ترچھی نظروں سے اسکے خدوخال کا مکمّل جائزہ لے کر اپنا فیصلہ سناتے ہو. 

پردہ لازم ہے بلاشبہ لیکن ہمارے کردار کو اس میں قید کرنے کی اجازت کسی اسلام میں نہیں ہے.




Feb 25, 2015

خنکی --- Khunki


مجھے سرد راتیں ہمیشہ  سے ہی پسند تھیں. ایک طویل عرصے تک میں نے ان میں سکون پایا، لیکن یکدم وقت پلٹا اور یہی سردی  کی گہری خاموشیاں عجیب کھسر پھسر میں بدل گیی ..........غور سے سننے پر معلوم پڑا کہ یہ تو گزرا وقت اور اس میں گزرے میں اور تم ہیں.

تم جو کبھی میری راتوں کی سرگوشی تھے، میری نیند کی نرمی تھے، جانے کب مجھے کھلی آنکھوں میں چھوڑ کر چلے گئے. 

یہ جو خنک ہوا نا؟  چلتے چلتے تمہارا ہر خیال مجھے سناتی ہے.....پھر ہنس کر کہ دیتی ہے کہ، 
"تمہارا وجود اس کے خیال میں ٹھنڈا ہے بالکل اس سرد رات کی طرح !"


بانو سازی
٢٢ دسمبر، ٢٠١٤ 
رات ١٢:١٠ بجے 



Roman Urdu Version:
Mujhe sird raatein humesha say hi pasand theen. Ek taveel arsay tak maine unn main sukoon paaya, lekin yakdum waqt pal'ta aur isi sirdi ki gehri khamoshi'yan ajeeb khhusar phhusar main badal gayi'n..............Ghaur say sun'ne per maloom par'ra keh yeh tau guzra waqt aur us main guzray main aur tum hain.

Tum jo kabhi meri raaton ki sir'goshi they, meri neend ki narmi they, janay kab mujhe khuli aankhon main chorr kar chalay gaye.

Yeh jo khu'nk hawa haina?
Chaltay chaltay tumhara har khayal mujhe sunati hai.....phir han's kar keh deti hai keh, "tumhara wujood uss kay khayal main than'da hai bilkul iss sird raat ki tarha"

Feb 10, 2015

بلا عنوان


فروری  کی یخ بستہ
ہواؤں میں
تمہاری یادوں کی شال 
میرا آپ گرم رکھتی ہے،
لیکن میں اپنا چہرہ
کھلا رکھ چھوڑتی ہوں،
سرد موسم میں کچھ خزاں 
جیسی یادیں ہیں، 
ان یادوں کا ایک 
اون کا گولہ بناتی ہوں.

اس کا ایک سرا تمھارے 
دل کے پاس سے ہوتا 
میرے شانوں پر سمٹے 
بالوں میں چھپ جاتا ہے.

ان دو سروں کے بیچ 
گرہیں کتنی لگ چکی ہیں،
بارہا کوشش کی 
میری انگلیوں نے 
تمہاری ہتھیلیوں پر 
انہیں سلجھانے کی،



لیکن ہر بار،
سرد موسم بیچ میں 
آجاتا ہے. 
تم جم جاتے ہو،
میں
بکھر 
جاتی ہوں. 




بانو سازی 
فروری ١٠، ٢٠١٥
رات ٢ بج کر ١ منٹ 








Jan 20, 2015

کہانی تمہاری زبانی میری


پہلی بار جب میں نےاس کو دیکھا تو مجھے لگا جیسے "وہ" سامنے آگیا ہو. اتنی گہری کالی آنکھیں لیکن بلکل خشک .....میں نے کتنی ہی بار انکو پڑھنا چاہا مگر ہزار غموں اور ایک ارمان کے سوا کچھ نہ دکھا.

اسے اجنبیوں سے کچھ خاص شغف نہیں لیکن پھر بھی وہ  رش میں خود کو روز کھونے اور کھوجنے دونوں کی کوشش کرتا  ہے. عجیب سا انسان ہے بالکل میرے جیسا .....جیسے فرشتوں نے ایک ہی خمیر سے اسکو اور مجھکو بنایا بس مجھے پہلے نازل کردیا.

کچھ لوگ اپنی مسکراہٹ سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں لیکن وہ اپنے کڑوے پن سے......ایک بار غلطی سے اس نے مجھے مسکرا کر دکھا دیا، میرا دل ہوا اس  کے ہونٹ ہی سی دوں. اتنی جھوٹی اور طنزیہ تھی کے خدا دیکھ لیتا تو تا قیامت محرّم کا صور پھونک دیتا. 

وہ جو کوئی بھی تھی اس گہرے ترین کنویں جیسے انسان سے پانی کا ڈول کھینچ لایئ تھی......لیکن اسکو سدا کے لئے پیاسا چھوڑ گیی تھی.

بچوں جیسی ضد ہے....اور تلاش ایک دم انجان جیسے دنیا میں کچھ ہو ہی نہ ہو اس کی نظر کے سامنے. الٹی مانگ میں خواہشیں سیدھی کرتا رہتا ہے اور آڑھی ترچھی یادیں سمیٹتا ہے. 

آپ کبھی اسکو ملیں تو آپکو لگے گا عام سا نیم چڑھا کریلا ہے.

مجھے کیسا لگتا ہے؟
مجھے تو وہ ایسے ہی ملا تھا جیسے کسی آرٹ گیلری میں ایک کونے میں رکھا ہوا مجسّمہ جس پر ماضی کی گرد والی چادر پڑی تھی. میں نے جونہی چادر ہٹائی اس میں سانس چل پڑی. میرے لاکھ بار پوچھنے پر بھی اس نے تراشنے والے کا عشق نہ قبول کیا. 

وہ مجسّمہ ہی تو ہے جس کے خد و خال ہر کوئی چھوتا ہے ......کچھ تو پوجتے بھی ہیں.

میں بس دور کھڑی ہنستی ہوں......اپنے ہی خمیر کا عکس دیکھتی ہوں. 

وہ جس درد کے دریا میں غوطے کھا رہا ہے میں اسی دریا کی آخری تہہ میں دفن ہوں. 

  

Jan 19, 2015

جھوٹا سچ


مجھے لگتا تھا تمہارے  بعد بھی زندگی ہے، محبّت ہے، خوشی، ہنسی سب ........لیکن اب پتہ چلا کے صرف سانس ہے اور باقی سب کھوکھلا پن!

ہر صبح اسی خیال سے جاگتی ہوں کے آج جینے کی ایک اور کوشش کرونگی، تمھیں بھلا کر کچھ اور یاد کرونگی لیکن رات کو جانے کیسے میری آنکھوں سے تم لہر بن کر نکلتے ہو اور تکیے کو گیلا کر دیتے ہو. تم کبھی یہ سب پڑھو تو سوچو گے جھوٹ کہتی ہے. 

شاید جھوٹ ہی ہو کیوںکہ میں نے آگے بڑھنے کی ہر کوشش کی ہے. 

تمہاری محبّت کو لفظوں میں لپیٹ کر، کاغذوں پر لکھ کر کتنی ہی بار ذہن کے تاریک گوشے میں ردّی بنا کر پھینکا  لیکن بےسود ثابت ہوا. بستر سے اٹھ کر سفید دیوار پر سے تمہارا سایا بھی مٹایا تو تم نے آئینے میں گھر کرلیا. وہ شوخ گلابی کرتا یاد ہے؟ میں نے اس کو الماری کے سب سے نیچے ڈال دیا ہے تاکہ میری نظر سے بھی نہ گزرے.....وہ الگ بات ہے کہ اس کی خریداری کی رسید آج بھی دراز میں ہے. 

دنیا آج بھی سمجھتی ہے کہ میری منّتوں میں تم ہو اور میری دعا تم پر ختم ہے.......نادان ہیں نہیں سمجھتے کے تمہارا ہونے کہ لئے مجھے کسی منّت مراد یا پھر قاضی کی ضرورت نہیں ہے. 

میری ذات کو تم نے موم کی گڑیا بنا دیا ہے. اب میں ویسے ہی ڈھل گی ہوں جیسا تم چاہتے تھے........اس گڑیا تک پہنچ صرف تمہاری ہے. دل سے روح تک پہنچنے پر جو دروازہ ہے وہاں تم دربان بنے بیٹھے ہو.

اب بھلا بتاؤ مجھے دوبارہ کون پگھلاۓ  اور اپنا بناۓ ؟






Jan 13, 2015

Dec 31, 2014

Dec 22, 2014

Dec 5, 2014

A True Story


You are the words,
I will never speak.
You are the touch,
I will never have.

You are the dream,
that walk by my side.
You are the ache,
that pinches my heart.

We are the end,
that never begun. 

Because,
I am the love 
you never fell for. 








by Kulsoom B.
Dec 4th, 2014
11:34 pm

Nov 15, 2014

Selfie Time

Being alone is not being lonely.

This is something I learned 4 years ago when I bought a ticket for Tom Cruise’s new release Knight and Day. Being a foreigner, thousands of miles away from home and stuck up in a hotel room I felt too sad and stepped out for a movie. Before that, I never knew how to watch a movie in the cinema alone followed by dinner as well.

In all honesty, the movie was crap but I was happy as I had nobody to bother me about the story, cast, acting, and the popcorn was all mine. Later in the evening, I scouted through random restaurants checking out menus, specialties, and finally settling for my own rendezvous with Moroccan food.

We meet people every day. Some of them are friends, colleagues and above all, we have a family as well. Hence, being alone for some time is very important. You get to meet yourself and the world around you. You must learn the world and its mechanics. By mechanics, I don’t mean physics, chemistry, or math of earth.  I mean the people, the events, the daily miracles, and a new thing.

When surrounded by people, one can’t make a decision or a choice without being influenced even if it’s as minor as having a Coke or Pepsi. One may end up having water only.

My daily life doesn't even let me hear the traffic sounds because I drive with windows rolled up and music. But whenever possible, I take a walk empty-handed and drop an ear on conversations on my way. I look at couples on bike immersed in conversation, making small laughs, waiting for the red signal to go green without any agitation.

I learned it’s perfectly alright to smile back at strangers just like children do without knowing you.

The world is huge and there are so many people in it with story of their own, environments to explore, even sunsets and sunrise can be different.

Spend time with yourself. You owe it to your mind & body.

When I am alone, I am not lonely. I enjoy the company of my own.


Nov 13, 2014

Love Undone


Sitting across the small meeting table, she saw him for the first time ever. Maroon shirt, black trousers with a look fixed to ground he spoke nothing till the end except when the co interviewer nudged him if he has anything to ask. He woke up from slumber as if, and asked where she sees herself in next 5 years. Usually, candidates give long answers with significant vocabulary while she uttered “I see myself in your place.”

It’s been 9 years and memory is still imprinted with this picture.

She thought of this memory while sun was still rising and she could see from the corner of her bed how the dark was turning into light. Her head was hanging half from the bed and blood was rushing in reverse just like she wanted to reverse the last few hours. The light appearing on the infinite appearance of sky wasn't powerful enough to clear the darkness of her desires.

The dignity that she earned was lost somewhere down the trance of ecstasy; a painful one.

She stayed there watching the full sunrise and suddenly she realized a flush of anger in her heart. It was a different anger which will continue to be with her for long or maybe lifelong.

Imaginations, dreams, desires, all come thrashing into her heart. Laying in his bed they both turned faces from each other with trail of thoughts.

“I always wanted it to be out of love and not lust.” That’s all she could say.

The lust that not even lasted for minutes and never reached her lips!

The least he could do was to make her feel loved.

With every passing moment that day onward, she started sulking in the loss of love. Her smile disappeared with a fake curve on her face to avoid explanation of her blank expression. She betrayed her own self that night for nothing but a tasteless, loveless, emotionless frenzy.

She left his bed without her soul.




Nov 1, 2014

Protagonist

It was 3:30 am to be exact when her eyes opened as if she never slept, very robotic or to be more modern I would like to call it a zombie moment. Her feet were cold despite the quilt was covering her from everywhere yet she gets up and sits squarely on the bed. There is her black pullover which was lying on the empty side of the bed; the only companion to make her feel warm. This pullover is just like instant noodles except that it provides instant warmth.

Right in front of her is the huge French window which opens out on this wide terrace overlooking the main road. At this wee hour everything is closed, hence she is awestruck by the silence of the hour. The usual routine on that corner of her building is to hear the running engines at the bus stop or the children screaming & playing around the pavement.  But right now it is so dead that suddenly her eyes get fixed on the red light blinking on the skyscrapers so when clouds come down, planes can make their way without hindrance.



Sitting on her bed, staring into the blank space with no noise going down the ears, she hears him turning in his bed in a room hardly 20 steps away from hers. While sitting on her bed, she turns her head as if she wants to hear him closely. Suddenly, she remembers the time he fell asleep on the sofa and she could make out the words from his breathing. This memory made her look back towards the window and remove the quilt from her now little sweaty feet. She gets out of the bed cautiously so he doesn't get disturbed by her bed’s churning sounds, and walk bare feet towards the window. Usually, it’s the day that brings hope but suddenly she finds hope with the falling darkness.

She turns her back towards the window and looks at the warm light coming from under the door. Before going to sleep every night this is a habit to keep a small warm light open at the main entrance. She looks at the light shed and takes small steps to open the door and leave the room quietly. Her feet are taking longer than usual to cover those 20 steps which usually take a nanosecond in daylight but right now this action is making her throat dry and shoulder stiff.

His door is slightly open as he never sleeps with the door closed. She looks at him from that thin opening and sees that white street light is falling on his sharp feature. She opens the door enough for her to enter and walk towards the other end of the bed and stand there looking at him. She breathes in and sits down on her knees on the cold tiled floor; a feeling that hurts normally but at this moment her mind was fixed on his face just like her eyes.

She raises her pretty hand and makes her fingers run through the contour of his face. He mumbles in his sleep and slightly tosses which made her hand stop right on his cheekbone. His face told her that either he is dreaming or trying to dream so she runs down her fingers to his lips, and at that very moment, he utters a name.

A name which is not hers and once again the night becomes cold!



Oct 26, 2014

Educate Waziristan

I am the kind of person who loves striking up a conversation with random strangers when traveling. It gives me the knowledge which no book, blog, or site can provide. This is pure first hand, eye witness sort of accounts which mostly brings an interesting perspective to my thought process.

When I say random people, I even speak to fruit sellers or taxi drivers for that matter. Today it was a taxi driver from Waziristan; a war-stricken area for over a decade on the borders of Pakistan & Afghanistan.

Dubai is full of Pathan, Malayalam, Sikh or Bengali drivers and every time I surprise them by speaking in Urdu or Hindi because of my looks will deceive them as if I am an Arab. Their surprise turn into happiness and lead to a conversation from expensive South Indian weddings to Haseena Wajid and how she will be punished by God.

Mostly Pathans I have spoken to in and out of Pakistan are pro-Taliban but today I got lucky.

Sadiq, hailing from a small village in South Waziristan is working as a taxi driver in Dubai for the past 6 years. His family moved out of Waziristan and settled in D.I.Khan in the late 90’s but the whole war/operation situation made them lose people, property, and above all educational resources.

According to Sadiq, only education can eliminate the root of evil called the Taliban. Even to understand the difference between heaven or hell or to read Quran in detail you require educational skills which these Taliban are taking away from us. I was shocked when he said that “Madam,brain wash unhi ka hoga jin kay dimagh main taleem naam ki cheez nahi hogi. Taleem ayegi tau soch bhi paida hogi.”

Sadiq’s family and relatives have land near Miranshah and they also work on contract for constructions yet they don’t live on that side. For the sake of children’s education, they are now living in Attock, Punjab and he sounded very proud of telling me that his son is in class II. When I asked what else he expects this education will bring to his people, he replied “Education hogi tau West ka muqabla hoga warna baatein tau Imran aur Fazlur Rahman bhi karlete hain.”



When I left his cab I was content & smiling, knowing that my countrymen are on the path for which Malala and many others fight every day.