Mar 15, 2015

انقلاب نہیں تہذیب

ہم طالبان کو ایک جماعت کے طور پر جانتے ہیں جب کہ سچ تو یہ ہے کے طالبان ایک سوچ ہے جو بہت تیزی سے پاکستان میں سرائیت کر چکی ہے.  ضروری نہیں  کے یہ سوچ آپکو  بھر داڑھی اور اونچی شلوار کے ساتھ ملے. بس کسی  شخص کی زبان کھلنے کی دیر ہے اور پیٹ کی داڑھی منہ سے باہر لٹکنے لگتی ہے.

بر صغیر کے اس خطّے میں اسلام تب اتنا نہیں پھیلا تھا جب جناب محمّد بن قاسم باب السلام سے داخل ہوئے تھے، جتنا ٩/١١ کے واقعے کے بعد پھیلا ہے. کچھ دنوں میں آپ پتھر اٹھایں گے اور کیڑا کہے گا وہ بھی مذہبی ٹھیکیدار ہے. شاہد آفریدی جیسا مایہ ناز بین الاقوامی شہرت کا کھلاڑی ہو یا اوریا مقبول جان جیسے جان کے دشمن ان سب کا اسلام عورت پر نازل اور حاصل ہے.

پاکستانی فطرتاً ایک ایسی قوم ہے جس نے دنیا بھر ک مسلمانوں کا ٹھیکہ  لے رکھا ہے. سعودی عرب نے کبھی یہ باپ جیسی شفقت برما، کشمیر، بوسنیا، یا فلسطین کے مسلمانوں کے لئے نہیں دکھائی، لیکن ہماری سڑکوں اور شاہراوں پر آپکو ہندوستان اور اسرائیل کے جھنڈے جلتے نظرآیں گے اور ساتھ ہی روتی چیختی عورتوں کی تصاویر تاکہ زیادہ سے زیادہ چندہ جمع ہوسکے.

اس وقت کسی مسلمان مرد کو ان عورتوں کی نامحرم ہونے پر اور حرمت پر خیال نہیں آتا. اسلام خریدنا ہو یا بیچنا ہو، تولہ ہمیشہ عورت ک باٹ پر جاتا ہے.

میرا ذاتی اختلاف مردوں سے نہیں ہے، کیوں کہ ماشاللہ سے فرحت ہاشمی نے زنانی طالبان کوبڑا فروغ دیا ہے. پڑھی لکھی، کماؤ پوت خواتین بھی اسی طالبانی .
سوچ سے حاملہ ہیں 

شاہد آفریدی نے اپنی  پہاڑی سوچ اور شکاری دماغ کا بھرپور استمعال کرتے ہوئے
 کہا کہ عورتوں کو کچن تک ہی رہنا چاہیے.  تب سے مجھے اسکی چار بیٹیوں پر ترس اتا ہے جنکا مستقبل اب صرف چولہے کی آگ تک روشن ہوگا.  

میری اس بات پر میری ایک جان پہچان کی خاتون نے بہت اعتراض کیا.
بذات خود وہ  خاتون برطانیہ سے پڑھ کر آیی  ہیں اور آج کل پسند کی شادی کی جدوجہد کر رہی ہیں ہیں، فرمانے لگی کہ شاہد آفریدی کی بات کو غلط رنگ دیا جارہا ہے اور یہ اسلام کہ عین مطابق ہے.جب میں نے انھے حضرت خدیجہ کی تجارت یاد دلایی تو لمبی خاموشی چھا گیئ .

 روزانہ کے حساب سے سینکڑوں مثالیں ہیں جن سے ثابت ہوا پڑھ لکھ جانے سے آپ کا ذھن نہیں کھل جاتا. عزت کردار اور عمل سے نہیں بلکے حلیے سے بنایی جاتی ہے. کوئی خاتون جو بنا دوپٹتے یا جینز میں ہونگی.


زیادہ دن پرانی بات نہیں ہے جب سوشل میڈیا پر ایک تصویر بڑے زور و شور سے چلی اور وہ تھی رحام خان اور وینا ملک کی جس میں دونوں خواتین  اسلامی لحاظ سے  باپردہ اور باحیا نظر آرہی تھیں. 
یہ وہی دو عورتیں ہیں جو ماضی میں اپنے پروفیشن کے حوالے سے کسی نہ کسی طرح خبروں کی زینت بنی رہی ہیں. 

عمران خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے پہلے رحام خان بی بی سی چینل پر موسم کا حال سناتی تھیں اور جیسے تمام اور خواتین مغربی لباس پہنتی تھیں ویسے ہی وہ بھی رہتی تھیں. جرنلزم میں ڈگری رکھنے والی، تین بچوں کی ماں، اور پچھلے دو سال سے پاکستانی براڈکاسٹ جرنلسٹ ہونے کے باوجود رحام نے اپنا حلیہ کیوں بدلہ؟ رحام نے ایسا اپنی دوسری شادی کے بعد ہی کیوں  کیا؟ کیا ان سے لوگوں کی امیدیں وابستہ تھیں حلیے کو لے کر؟ یا پھر ان کو لگا کے سر ڈھانک کر وہ پاکستانی معاشرے کا زیادہ عزت دار حصّہ بنیں گی؟

وینا ملک کسی تعرف کی محتاج نہیں.
بگ باس جیسے مشہور زمانہ پروگرام میں حصّہ لینے سے لے کر برہنہ تصاویر تک وینا نے کسی نہ کسی طرح خود کو خبروں کی زینت بنا کر رکھا ہے.  آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں محمّد آصف کو بھول گی ہوں یا مولانا طارق جمیل کے حوالے یاد نہیں لیکن وہ میری بات کا مقصد نہیں. حیرانی مجھے تب ہوئی جب میں نے وینا کو عبایا میں لپٹا دیکھا. 

آخر یہ اچانک بدلاؤ کیوں وہ بھی شادی کے بعد؟ کیا ان دونوں عورتوں کی اپنی کوئی شناخت نہیں تھی اس سے پہلے؟

اس سوال کے بعد میں نے اپنے اطراف میں نظر دوڑائی تو جواب میرے سامنے تھا.

ہم ایک ایسا  معاشرہ ہیں جہاں کردار سے زیادہ دکھاوے کی قدر و قیمت ہے. ہم نے مذہب کو اور اس کے احکام کو گنگا کا پانی سمجھ لیا ہے.
میرے اس اعتراض پر کافی زبانی لبرل اور سیکولر لوگوں کا کہنا ہے کہ خدا نے ان عورتوں کو ہدایت دی ہے اور آپ بےپردگی کا دفاع نہ کریں.

با پردہ، بے پردہ، یا برہنہ......یہ سب مقصد ہی نہیں.
بات یہ ہے کہ ایک کامیاب، پڑھی لکھی، دنیا کو پرکھنے اور جانچنے والی عورت کو پاکستانی معاشرے میں اپنی جگہ بنانے کیلئے اپنی شناخت کیوں چھوڑنی پڑی ؟ 
رحام خان کیا ان عام لڑکیوں، عورتوں کی طرح نہیں رہ سکتی تھی جو انقلابی دھرنے میں شرکت کے لئے آتی تھیں؟
کیا رحام ڈان نیوز کا شو ویسے ہی کریں گی جیسے پہلے کرتی تھیں؟

کیا وینا ملک عام حلیے میں رہ کر خود کو اچھی بیوی اور ماں ثابت نہیں کرسکتی؟

جانتے ہیں ایسا کیوں ہوا؟
کیوںکہ میں اور آپ قاضی شہر بن گئے ہیں. اب ہم بتایئں گے کہ ان عورتوں کو اپنا آپ بےداغ ثابت کرنا پڑے گا اور اسکا پہلا قدم ہے سر ڈھانکنا.

شادی سے پہلے عمران خان یا اسد بشیر خان اپنی اہلیاؤں کو نہیں جانتے تھے؟ کیا انہوں نے ان عورتوں کو اس لئے پسند کیا تھا کیوںکہ وہ سر ڈھانکتی تھیں یا خود کو چادر میں لپٹتی تھیں؟
یقینن نہیں!
اہیمیت ان خواتین کی پہچان کی ہے، ان کے ذہنی خدوخال کی ہے. 

پاکستانی مسلمانہ مردانہ سوچ وہیں کپڑے اتار کر کھڑی ہوجاتی ہے جب وہ چہرے کی جگہ آپ کی ہر اٹھان دیکھنے کی کوشش میں ہوتے ہیں. لیکن قصور تو عورت کا ہے جو بنا دوپٹتے یا جینز میں آپ کی مردانگی جگانے آگئیں 
ایسے موقعے پر پیٹ میں داڑھی رکھنے والے حضرات آپ کے باپ، بھائی ، شوہر کی غیرت کو للکارنے سے بھی باز نہیں آیں گے.

پاکستان ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں عورت ہونا روز کی نوکری ہے. آپکو روز یاد دلایا جائے گا کہ عورت ہونا کتنا غیر محفوظ اور نامکمل ہے جب تک آپ کے پاس پردے اور محرم جیسا محافظ نہیں.

اس ملک کو انقلاب کی نہیں تہذیب کی ضرورت زیادہ ہے. 

اگر ہم واقعی ایک ترّقی پسند ملک اور معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں ان لبادوں سے باہر نکلنا ہوگا اور ہر انسان کو چاہے مرد ہو یا عورت اسکو عمل کی قید سے آزاد کرا کر اسکی شناخت لوٹانی ہوگی.






0 comments: