Showing posts with label women. Show all posts
Showing posts with label women. Show all posts

Jun 21, 2021

"پیارے وزیر اعظم "

تو سنو، ابن آدم !!

Picture by Felipe Vallin

تمہاری  سوچ کا دائرہ،  

بنت حوا کے کپڑوں سے چھوٹا ہے 

 

سات سالہ کا ڈھکا چھپا بدن، 

تمہارا آپ برہنہ کرتا ہے 

بارہ سالہ کی معصوم ہنسی،

تمہارے اندر کا جانور جگاتی ہے

تین سالہ کا پھولوں والا فراک،

تمہاری غلاظت سے مرجھا جاتا ہے  


وہ بس میں دھکّے کھاتی عورت،

تمہاری انگلیوں سے ڈرتی ہے 

کھلے بازار میں خود کو چھپاتی،

ہر مردانہ جنبش پر نظر رکھتی ہے 

میرا پردہ میرا محافظ نہیں، کہ 

تمہاری نظروں کی چبھن آر پار جاتی ہے  


جب زندہ لاشوں سے دل بھر جائے،

تمہاری حوس، کفن کی بھی پامالی کرتی ہے 

ابن آدم،

زمین بھی تمہارے گناہوں سے گھن کھاتی ہے


عقل و فہم کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والے،

تیری نظر، میرے چہرے کے نیچے کیوں جاتی ہے؟ 


#بانوسازی 



Jul 10, 2020

"شوہرکو چھوڑ دو!"

Originally published here NayaDaur Urdu


پچھلے چوبیس گھنٹے سے سوشل میڈیا پر ایک خبر زور و شور سے گردش کر رہی ہے جس میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک خود ساختہ صحافی، ٹی وی پروڈیوسر نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کا قتل کردیا ہے. 

یہ قتل ٢٩ جون کو ہوا تھا اور مقتولہ کی بہن کے مطابق، ان کی بہن ظالمانہ گھریلو تشدد کا شکار تھی. یوں تو قتل کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ابتدائی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے معلوم پڑتا ہے کہ موت گلا دبانے سے ہوئی تھی.

ظلم، تشدد، قتل، خودکشی، یہ کچھ بھی مملکت خداداد میں نیا نہیں ہے. 

سنہ ٢٠١٨ میں ہونے والی Thompson Reuters سروے کے مطابق پاکستان عورتوں کے لئے دنیا کا چھٹا خطرناک ملک ہے. اس خطرے کی بنیادی وجہ عزت کے نام پہ قتل، ریپ، اور گھریلو تشدد ہے. 

ایسے تمام واقعات جب سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آتے ہیں توعمومی طور پر لوگ اپنی دانست میں، شدید جدّت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لڑکی کو شوہر کو چھوڑ دینا چاہئے تھا. 

کیا ہمارے معاشرے میں شوہر کو چھوڑنا اتنا آسان ہے؟
نہیں !

ہمارے معاشرے میں لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اس کی بنیادی تربیت اس طرز پہ کی جاتی ہے کہ اس کو کل کو 'دوسرے'  گھر جانا ہے. ایسی معاشرتی روایات اور اصولوں پہ پروان چڑھنے والی بچیوں یا خواتین سے یہ امید کرنا کہ انہوں نے شوہر کے غلط روّیے کے باعث 'گھر کیوں نہیں چھوڑ دیا؟' انتہائی بیوقوفانہ امید ہے.

بچیاں بچے، کم عمری سے ہی اپنے آس پاس کے ماحول کو اپنانے لگتے ہیں جہاں وہ عورت کو چولہے چکّی میں پستا، باپ سے پٹتا، گھر والوں سے کوسنے سنتے، بزرگوں سے صبر کی تلقین اور ہر طرح کی قربانی کا واعظ سنتے ہیں.

خصوصی طور پی لڑکیوں کو شروع سے جھکاؤ سکھایا جاتا ہے. بھائی چھوٹا بھی ہو تو رعب دبدبہ بڑوں والا ہوگا. باپ کا غصہ ٹھنڈے پانی کی طرح پی جانے کا حکم ہوگا کیوںکہ وہ تمہاری دال روٹی کا مالک ہے. حد تو حد، اگر کوئی اولاد اپنے ساتھ ہونے والی کسی قسم کی زیادتی، بشمول جنسی، کی شکایات کردے تو اس کو خاموشی کا درس سکھایا جاتا ہے.

ہم نے تو اپنے بچوں کو بھی وہ محفوظ گھر نہیں دیا جہاں انکی چیخ سنی جا سکے، جہاں انہیں رشتوں پر اعتبار ہو کہ وہ ان کے حقوق کا استحصال نہیں کریں گے. 

ایسے ماحول میں ہم ایسا کیسے سوچ لیں کے صدیوں کی روایات اور بوسیدہ اقدار کو ایک کمزور عورت للکارنے کی جرّت کرے گی.

لڑکیوں کو یہ تو سکھایا جاتا ہے کہ انہوں نے دوسرے گھر جانا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ اس گھر سے واپس بھی آسکتی ہے. ہم انہیں ان کی ذات کی نفی سکھا کر ، شادی قائم رکھنے کے بہترین سماجی ٹوٹکے بتاتے ہیں. حالانکہ بتانا یہ چاہئے کہ یہ نکاح نامہ ہے، تمہاری موت کا پروانہ نہیں ہے.

طلاق، جو کہ ایک مذہبی اور معاشرتی حق ہے، اس کو کالا دھبّہ بنا کر اپنے والدین ہونے کا بھرپور ثبوت دیتے ہیں. اس تربیتی طرز کے علاوہ بھی سینکڑوں ایسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر لڑکیاں گھر واپسی کا راستہ نہیں چنتی ہیں، بلکہ زندہ یا مردہ بیاہتا قبر میں دفن ہوجاتی ہیں. 

پہلی اور سب سے اہم وجہ ہے مضبوط تعلیم!
گھر میں اگر ٤ بچے ہوں تو سب سے زیادہ تعلیم کا دھیان لڑکے کی جانب جاتا ہے. اسے مہنگے سکول میں ڈالا جاتا ہے، پروفیشنل ڈگری دلوائی جاتی ہے، کیوںکہ اس نے بوڑھے ما باپ کا سہارا بننا ہوتا ہے. دوسری جانب لڑکیوں کو زیادہ سے زیادہ BA پاس کروا کر شادی کے پلو میں بندہ دیا جاتا ہے کہ تم اب اپنے شوہر کی ذمے داری ہو. 

جب لڑکی نے دنیا داری تو سیکھی ہو لیکن دنیا نہ دیکھی ہو تو اس کے اندر خود اعتمادی کا شدید فقدان ہوتا ہے اور یوں وہ مکمل طور پر شوہر کے رحم و کرم پر ہوتی ہے. ماں باپ اپنی بیٹیوں کو تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم کرکے چار ثواب زیادہ نہیں کمائیں گے. 

اب آپ کہ ذہن میں آئے گا کہ پھر پڑھی لکھی عورتیں کیوں پرتشدد زندگی سہتی ہیں؟ اس کا جواب ہیں آپ اور آپ کا بنایا ہوا کھوکھلا سماج!

سال ٢٠٢٠ ہے، لیکن پاکستانی ڈراموں میں ابھی بھی طلاق ایک انتہائی ممنوع فعل ہے. حالیہ ہی ایک ڈرامے میں دکھایا جارہا ہے کیسے ایک لڑکے کی ماں اپنے پڑوس کی لڑکی پر پہلے الزام لگاتی ہے کہ وہ اس کے معصوم بیٹے کو پھنسا رہی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتی ہے کہ "میرے بیٹے کے لئے طلاق یافتہ ہی رہ گئی ہے؟"

جب لاکھوں لوگ پرائم ٹائم میں بیٹھ کر یہ ڈرامہ دیکھیں گے تو ان کے ذہن طلاق یافتہ عورت ایک گالی کی صورت ابھرے گی. 

آج بھی برصغیر میں شادی بیاہ، بچے کی پیدائش جیسے خوشی کے موقعے پر طلاق شدہ اور بانجھ عورتوں کو دلہن سے فاصلے پر رکھا جاتا ہے کہ کہیں اس کا 'منحوس' سایا نو بیاہتا پر نہ پڑ جائے. سننے میں یہ باتیں زمانہ قدیم کی لگتی ہیں لیکن یہ ہیں اسی جدید اکیسویں صدی کی باتیں.

سماجی بے دخلی یا در بدری ایک بہت بڑی وجہ ہے جو عورتوں کو بے وفا،ظالم،یا فحش شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبورکردیتا ہے. ہمارے سماج میں مرد کتنا ہی ناکارہ کیوں نہ ہو، اسکا نام عورت کے ساتھ ہونا چاہئے. 

اگر کوئی عورت طلاق یا شوہر سے علیحدگی سوچ بھی لیتی ہے تو اس کے دل میں طرح طرح کے خوف ڈالے جاتے ہیں. جیسے.....

-- بھابھی کے ساتھ رہو گی؟
-- بوڑھے ماں باپ خاندان میں کیا منہ دکھائیں گے؟
-- چھوٹی بہنوں کا رشتہ کیسے ہوگا؟
-- بچے اکیلے پال لو گی؟
-- کل کو بیٹی کے سسرال والوں سے کیا کہو گی؟
-- اکیلی عورت کی کوئی عزت نہیں ہوتی. سوچ لو؟

قصّہ مختصر، طلاق کو تیسری عالمی جنگ کا درجہ دے دیا جائے گا. اس بیچاری عورت کو لگے گا اگر اس نے طلاق لی یا دی تو حضرت اسرافیل صور پھونک دیں گے.

اب آپ ہی بتایئں، کون عورت اپنے سر یہ گناہ لے گی؟

اکثر لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ پسند کی شادی کا نتیجہ ہمیشہ برا ہوتا ہے جیسا لاہور کے صحافی کی بیوی کے ساتھ ہوا.

اصل میں یہ تمام باتیں ایک سوچی سمجھی، سماجی منصوبہ بندی ہے جس کا بنیادی مقصد عورت کو بندی نہیں بلکہ باندی بنانا مقصد ہے.اس منصوبہ بندی کا سہرا یوں تو پدر شاہی کو جاتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس میں عورت کا کردار بھی ہے جیسے ماں، ساس، نند، بہنیں،خالہ، پھوپھی، جیٹھانی، دیورانی، بھابھی، اور محللے والیاں بھی......یہ وہ زنانہ رشتے ہیں جن میں مردوں سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے تو وہ نظام میں رہ کر نظام کا ساتھ دیتی ہیں.

ایسی کوئی تحقیق نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ شادی اگر والدین کی مرضی سے ہوگی تو کامیاب ہوگی. کامیابی کا انحصار آپ کی پسند پر نہیں ہے. 
شادی والدین کی پسند سے ہو یا اپنی پسند سے، واپسی کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہونا چاہئے اور کھلے دل سے ہونا چاہئے.

پاکستان میں سماجی فقدان کے ساتھ ہی حکومتی منصوبہ بندی بھی ناکام ہے. ملک میں تقریبآ ایک تہائی کیسز گھریلو تشدد سے جڑے ہوتے ہیں لیکن بمشکل صرف ١-٢.٥% ہی قانونی انجام کو پہنچتے ہیں. ہمارے ملک میں عورتوں کے لئے پناہ گاہوں کی کمی ہے اور جو ہیں وہاں وہ محفوظ نہیں ہیں.

اس کے ساتھ ہی قانونی چارہ جوئی ایک انتہائی مشکل کام ہے. ہمارے معاشرے میں تھانہ کچہری کرنا شرمندگی کا باعث بنتا ہے بھلے قصور سامنے والے کا ہو. ہم بیٹی پر چار لات گھونسیں برداشت کرلیں گے لیکن تھانے جا کر رپورٹ نہیں کریں گے. جو رپورٹ ہو بھی گئی، تو ایک بار پھر قانون آپ کو تاریخوں کے لئے دوڑائے گا.

مضبوط قانونی نظام اور سماجی و اخلاقی حمایت  کی کمی ہماری عورتوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ دنیا چھوڑ دیتی ہیں لیکن 'شوہر کا گھر' نہیں چھوڑتی ہیں.  












Aug 31, 2019

امرتا پریتم - ایک صدی

Originally published here Independent Urdu 



میرا ماننا ہے کہ امرتا جی کو صرف ماضی میں نہیں رہنا بلکہ کتابوں سے نکل کر مستقبل بھی بننا ہے۔ ایسی ہستی آج کے دور میں ہونے والی ڈھیروں تحریکوں اور جوان ذہنوں کی نفسا نفسی کا جواب ہے۔ 

امرتا جی اکیسویں صدی کا انجانا خواب ہیں،اور پچھلی صدی کا انقلاب ہیں. 

یہاں میں ضروری سمجھتی ہوں کہ امرتا جیسی لکھاری جنہیں یوں تو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہونا چاہئیے،  ان کا سرسری سا تعارف کرادوں۔ دراصل یہ محتاجی اس لئے ہے کیوں کہ آج کل لوگ Harry Potter کو تو رٹ بیٹھے ہیں لیکن مادری  زبانوں کے شہنشاوں کا ذکر بس فیس بک کی حد تک، اور وہ بھی غلط اقوال میں۔ خیر بات کہاں سے کہاں پہنچ گئیں۔ چلیں تقسیم ہند سے پہلے والے پنجاب چلتے ہیں اور ملتے ہیں 'ہیر وارث شاہ' والی امرتا سے!

٣١ اگست، سنہ ١٩١٩میں گوجرانوالہ کی سرزمین پر امرتا کور نامی پہلی اور اکلوتی اولاد نے راج بی بی اور کرتار سنگھ کے یہاں گرہ پرویش کیا. ماں جی استانی اور والد صاحب بنیادی طور پر شاعر لیکن روزی کی مناسبت سے وہ بھی استاد تھے. یوں سمجھ لیجیۓ، قلم اس گھر کا غلام تھا. 


امرتا جی اپنی کسی ایک نظم یا کسی ایک افسانے سے نہیں سمجھی جا سکتیں. امرتا جی کو سمجھنے کے لئے ایک آزاد ذہن اور باغی دل چاہئے. ایک ایسا ذہن جو سطحی سوچ سے بالاتر ہو، دل میں حوس نہ ہو لیکن بےباک ہو. پڑھنے والا ایسے مقام پر ہو جہاں وہ سماجی اور مذہبی شرائط سے آزاد ہو.

میرے ایک دوست ہیں رضوان، ان کا کہنا ہے امرتا پریتم کو صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی ذات کسی بھی قسم کے عدم تحفّظ کا شکار نہ ہو.

امرتا کور کی بہت کم عمری میں پریتم سنگھ جی سے شادی ہوگئی تھی، جس کے بعد تا عمر انہوں نے اپنے نام کے آگے کور کی جگہ پریتم لگا لیا تھا. جچتا بھی تھا.......آخر امرتا جی کی زندگی پریت ہی پر تو مبنی تھی. 

اس کم عمری کے رشتہ جڑنے اور ختم ہونے کی چھوٹی سی داستان امرتا جی نے اپنی کتاب رسیدی ٹکٹ میں لکھی ہے. پرانے وقتوں میں اپنے شوہر سے الگ ہوجانا اور وہ بھی دوستانہ طریقے سے، ایک طرح کا سوال تھا. اس سوال کو بنا امرتا جی اور پریتم جی سے پوچھے، کئی لوگوں نے اپنے سعی جواب دینے کی کوشش کی. 
جب کہ بات بڑی معمولی مگر گہری تھی. امرتا جی اپنے شوہر کے ساتھ تو تھیں، پاس نہیں تھیں. انکی نظر میں یہ پریتم جی حق تلفی تھی. 

ہم ٢٠١٩ میں ہیں لیکن آج بھی لوگوں کو میاں بیوی کا باہمی اتفاق سے الگ ہوجانا، یا سمجھ بوجھ الگ ہونے کی بنیاد پر طلاق لینا سمجھ نہیں آتا ہے. پھر وہ تو ١٩٦٠ تھا اور امرتا پریتم تھیں......ذہنی سطح کے ساتویں درجے پر فائز!

مجھے افسوس رہے گا کہ امرتا جی میری زندگی میں بہت دیر سے داخل ہوئیں.

اردو ادب سے شغف شاید میرے خون میں ہے کیوں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کو اسکول کالج کے دور میں ہی منٹو کے افسانے بھائی کے شیلف پر، اور عصمت چغتائی کی لحاف اماں کے سرہانے پر مل جایا کرتی تھی۔ ان تمام باتوں کے باوجود امرتا پریتم سے میری پہلی ملاقات سرسری تھی کیوں کہ پنجابی میں لکھی گئی "ہیر" مجھے کون سمجھاتا بھلا؟ 


 پھر سنہ 2005 میں بھارتی سینیما کی فلم "پنجار" ریلیز ہوئی۔ اس میں مرکزی کردار نبھانے والے دو اداکار تھے: ارمیلا مٹونڈکر اور منوج باجپائی۔ فلم دیکھنے کے بعد پتہ چلا کہ یہ امرتا پریتم کے مشہور زمانہ ناول پر مبنی ہے۔ اگر آپ نے فلم نہیں دیکھی تو دیکھئے، جذبات کا بہاو اتنا تیز ہے کہ سینے کا پنجرہ توڑ کر باہر اجائے۔

بس وہ دن تھا اور میں امرتا جی کی ذات، ذندگی اور قلم کی کھوجی بن گئی!

سرسری طور پر امرتا پریتم کو لوگ بس دو تین حوالوں سے جانتے ہیں جیسے "ہیر وارث شاہ"،یا پھر "میں تینوں پھر ملاں گی"، یا "ساحر لدھیانوی" سے ان مٹ عشق. 

امرتا پریتم ان حوالوں سے کہیں آگے ہیں. یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ امرتا جی نے اپنے درد کو اپنے مفاد میں اپنایا. خود کی ذات کو زندگی کی بھٹی میں جلایا تو کہیں جا کر 'تیرہواں سورج، 'ڈاکٹر دیو'، اور 'پنجار' جیسی کہانیاں ادب کے کینوس پر اتریں. 

برصغیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں زہین عورت مردانگی کے لئے دھمکی سمجھی جاتی ہے، لیکن اسی خطے میں ایک امرتا پریتم بھی تھیں جنہوں نے زندگی اپنی شرائط پر گزاری. امرتا جی نے کبھی بھی اپنے عشق کو کسی پردے میں قید کر کے نہیں رکھا، نہ اپنے جذبات کی عکاسی میں کوئی شرمندگی محسوس کی.

امرتا پریتم نے اپنی عورت اور ادیب دونوں کو ساتھ ساتھ رکھا. چاہے وہ ساحر کی محبّت میں لکھے گئے سنھڑے ہوں، یا امروز کی مستقل رفاقت، امرتا جی نے کبھی بھی خود سے بغاوت نہیں کی نہ ہی زمانے کو باتیں کرنے کی تسّلی دی. 
لکھاری تھیں تو خود بھی کھلی کتاب بن کر زندگی جی !

جب میں آج کل کی خواتین ادیب کو دیکھتی یا پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں تو سوچ میں پڑ جاتی ہوں کہ خوف کیوں ہے ان کے الفاظوں میں، کہانیوں میں، کرداروں میں. کہاں ہے وہ نڈر عورت جو بلا خوف و خطراپنے وجود اور اسکی آزادی کا پرچار کرے. کہاں ہے عورت جس کی پہچان کسی رشتے کی محتاج نہیں، کسی بندھن کی باندی نہیں.

امرتا پریتم اپنے اور آنے والے تمام وقتوں کے انسانوں کی مشعل ہیں، اور اس مشعل کو ساتھ لے کر چلنے والے کا نام ہے 'امروز'. 

امروز، امرتا جی کی زندگی کا وہ کردار ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جب آپ کسی سے عشق کرتے ہیں تو اس کے عشق سمیت اسکو اپناتے ہیں. 


امرتا جی کے ١٠٠ سال کو انہی کے الفاظ میں یاد کروں گی:
"جہاں بھی آزاد روح کی جھلک پڑے، سمجھ لینا وہی میرا گھر ہے."

کاش پھر کوئی "امرتا" پیدا ہو اور زمین کا وجود سیراب کردے!




  


Aug 20, 2019

دوپٹے کی دیوار

Originally published here Independent Urdu 

دوپٹہ، چنری، اوڑھنی، چادر، یا کچھ بھی کہہ لیں اپنی زبان اور علاقے کے مطابق، مقصد اسکا عمومی طور پر عورت کے آگے دیوار بنے رہنے کا ہے. ایسی دیوار جو سامنے والے (مردوں) کو مجبور کردے کہ وہ صرف آپ کا چہرہ دیکھیں یا پھر سوچتے رہیں کہ اس کپڑے کی پھیلی ہوئی دیوار کے نیچے قدرت کے کونسے راز پنہاں ہیں.

در حقیقت، لفظ دوپٹہ سنسکرت کا ہے جس کے معنی دو طرفہ پٹے کے ہیں. ارے نہیں نہیں، کتے کا پٹہ نہیں، دوپٹہ!

تاریخ بتاتی ہے، دوپٹے تب سے ہیں جب سے تہذیب و تمدن کا قیام ہے. یوں لگتا ہے تہذیب کا تمام دھیان عورت کے نقوش پر تھا کہ کیسے اسکو رنگ برنگے، جھلملاتے، چمکتے ہوئے کپڑے میں لپیٹ دیں. 

محترمہ فاطمہ جناح ہوں یا بیگم رعنا لیاقت علی، یا پھر بینظر بھٹو. ان تمام خواتین نے دوپٹے کو معاشرتی شرم و حیا کو لحاظ میں رکھتے ہوئے پہنا تھا. 
ایک دور تھا جب PTV کی خبرنامہ پڑھنے والی خواتین بھی سر پر دوپٹہ نہیں لیتی تھیں لیکن پھر سیاست بدلی، ماحول بدلا، تو حلیے بھی بدل گئے.

سوال پھر وہی کہ آخر دوپٹے کی ضرورت ہی کیوں؟ کیا سامنے والے کی نظر صرف چہرے تک نہیں روک سکتی؟ کیا وہ بلاوجہ خلق خدا کو گھورنا یا ناپنا بند نہیں کر سکتا؟

عمومی طور پر بر صغیر میں لڑکیوں کا دوپٹہ اسکول کے V یا Sash کی صورت میں متعارف ہوتا ہے اور جلد ہی دوپٹے میں تبدیل ہوجاتا ہے. دوپٹہ دراصل اس بات کا اشارہ ہے کہ لڑکی نے بلوغت میں قدم رکھ دیا ہے اور اب لگامیں کھینچنے کا وقت آگیا ہے. اس لگام کا پہلا پٹہ، دوپٹہ ہے. 

ذاتی طور پر میں نے آٹھویں جماعت سے باہر جانے پر دوپٹہ لینا شروع کیا تھا. وقت کے ساتھ ساتھ دوپٹہ اور میں دو قلب یک جان ہوگئے.
 میں نے کچھ سال مشنری اسکول میں گزارے ہیں، جو کہ باقی مشنری کی طرح صرف لڑکیوں کا تھا. واحد مرد ذات ایک اکاؤنٹنٹ کی تھی جو دور پرے دفتر میں بیٹھتا تھا. 
ایک روز میں سیڑھیوں پر دوستوں کے ساتھ بیٹھی تھی اور میرا دوپٹہ برابر میں پڑا تھا. پوری عمارت میں لڑکیاں تھیں یا راہبائیں، جن میں سے ایک راہبہ نے ہمیں بنا دوپٹے کے دیکھ لیا. جانے کیا کیا کہا اور سب نے سر جھکا کر سنا،لیکن ایک بات دماغ میں بیٹھ گئی جو انہوں نے کچھ یوں کہی تھی "بنا دوپٹے کے کونسی تمیز تہذیب لے کر یہاں سے باہر نکلو گی؟".

شکر میرا اسکول تبدیل ہوگیا ورنہ راہباؤں کو تبدیل کردیتی!

خزیمہ، ماسٹرز کی طالبہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نو عمری میں دوپٹہ پہننا شروع کیا تھا. اس کی بنیادی وجہ اس وقت کے فیشن کی تنگ قمیضیں تھیں اور بنا دوپٹے کے خاندان یا معاشرے میں بات نہیں بنتی. کچھ سالوں بعد جب کرتا پہننے کا فیشن آیا تو خزیمہ نے خود کو دوپٹے سے آزاد کردیا. 

شہر بڑا ہو یا چھوٹا، عورت کی عمر کوئی بھی ہو، لیکن ان  کے مسائل دوپٹے کو لے کر تقریباً ایک جیسے ہونگے. غلط بھی نہیں ہے کیوںکہ معاشرتی درندے صرف جنس دیکھتے ہیں، باقی سب تفصیلات کے زمرے میں آتا ہے جس کے لئے ان کے پاس فرصت نہیں ہے.

سائرہ، جو اب کئی سالوں سے غیر ملک میں مقیم ہیں، بتاتی ہیں کہ  وہ صرف سسرال میں جب ہوتی ہیں تب گلے میں دوپٹہ ڈالے رکھتی ہیں یا اپنے شوہر کی بات کا مان رکھنے باہر ملک میں بھی شلوار قمیض کی صورت میں دوپٹہ ضرور لیتی ہیں. اگر جینز شرٹ ہو تب بھی کوئی سکارف وغیرہ ڈال لیتی ہیں. مزے کی بات یہ ہے کہ جب وہ اکیلی باہر نکلتی ہیں تو دوپٹے کو بھی اکیلا چھوڑ دیتی ہیں......گھر پر!

پاکستان میں خواتین پر ایک جانا انجانا معاشرتی دباؤ ہے کہ وہ گھر کے مردوں کے سامنے، گھر کے داخلی دروازے پر، یا  بازار وغیرہ جاتے ہوئے دوپٹے کا خیال رکھیں. مکمل پھیلا کر پہنا ہو تو واہ واہ، سر پر بھی ڈال لیں تو سبحان اللہ، ورنہ گلے کا پھندا بنا کر تو رکھیں ہی رکھیں. 

کئی خواتین، جن کو گھر سے دوپٹہ پہننے کی پابندی نہیں ہوتی، وہ باہر جاتے ہوئے صرف اس لئے پہنتی ہیں تاکہ انہیں ہوس بھری نظروں کا سامنا نہ کرنا پڑے. 
ساتھ ہی ساتھ، دوپٹہ پہننے والی خواتین کی ہمارے معاشرے میں زیادہ عزت ہے.

یقین نہ آئے تو عمیرہ احمد کے ڈرامے دیکھ لیں!
دوپٹے والی لڑکی ہمیشہ صابر و شاکر،پرہیزگار،خدمت گزار، خاموش طبیعت، اوررسم و رواج کی پابند ہوگی. دوسری طرف آپ کو ملیں گی جینز شرٹ، یا بنا دوپٹے کے کرتے والی لڑکی جو انتہائی تیز طرار، اپنے حقوق سے آگاہ، بد زبان، بد لحاظ، بدتمیز قسم کی ہوگی. 

معاشرہ تھوڑا میڈیا سے سیکھتا ہے، تو تھوڑا میڈیا بھی معاشرے سے سیکھتا ہے. 

خاندانی تقریبات ہوں، ہسپتال میں ڈاکٹر ہو، سڑک پر رپورٹر ہو، یا گھر پر رہنے والی خواتین، سب کا طریقہ استعمال ایک ہی ہے. ان میں سے کچھ اپنی مرضی اور موجودہ دورکے فیشن کے لئے دوپٹہ پہنتی ہیں لیکن یہ ایک دھوکہ ہے. دوپٹہ صدیوں پرانا طریقہ ہے یہ جتانے کا، کہ عورت اپنے عمل کی ذمہ دار ہے سو وہ دوپٹہ اگر نہیں پہنے گی تو وہ دعوت عام دے رہی ہے. دوسری جانب، مرد اپنے عمل سے مبرہ ہے. حرف عام میں اسکو victim shaming کہتے ہیں. 

کئی گھروں میں عورتیں گھر کے اندر بھی پہنتی ہیں جبکہ دوسری طرف گھر کے مرد بنیان اور شلوار میں گھومتے نظر آئیں گے کیوںکہ "گرمی بہت ہے." بیچاری عورتیں گرم چولہے کے پاس کھڑی ہو کر اسی دوپٹے سے پسینہ خشک کریں گی، یا اسکا ہلکا پنکھا بنا کر چہرے کو ہوا دینگی. 

گھر کی عورتوں اور مردوں دونوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ دوپٹہ کچن میں لے جانا خطرناک عمل ہے. اسی طرح جب "ہوا میں اڑتا جائے میرا لال دوپٹہ ململ کا" موٹر سائیکل کے پہیے میں پھنستا ہے تو جان لیوا ہو سکتا ہے.

آخر ایک غیر ضروری چیز کو معاشرے کا حصّہ کیوں بنایئں؟

کئی بزرگ خواتین کہتی ملیں گی کہ پردہ نہیں کرتی ہو تو دوپٹہ تو اوڑھ لو. بات صرف اتنی ہے کہ کوئی عورت کچھ بھی پہنے، مگر اپنی مرضی سے پہنے. اس خوف سے نہ پہنے کے مرد اسے وحشی نگاہوں سے دیکھیں گے یا خاندان والے کردار پر انگلی اٹھائیں گے.

دیکھا جائے تو دوپٹے کا کچھ خاص استعمال نہیں ہے. ایک اضافی ڈھائی گز کا کپڑا ہے جس کا مقصد صرف اوباش نظروں کو آپ سے دور رکھنا ہے. وہ الگ بات ہے کہ دیکھنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں. 
اسی لئے آج کل اکثریت اس دوپٹے کی ایک اور قمیض بنا لیتی ہے!




Jun 27, 2019

‘کبیر سنگھ’ میں وہ سب کچھ ہے جو محبت میں نہیں ہونا چاہیے

Originally published here HumSub

اگر میں ١٩ سال کی ہوتی تو "کبیر سنگھ" میرا خواب ہوتا !
خوش قسمتی سے اب میں کافی زیادہ عاقل و بالغ ہو چکی ہوں.

"کبیر سنگھ" اپنی تمام تر رجعت پسندی کے باوجود ایک ایسی فلم ہے جو آج بھی کئی لوگوں کو پسند آئے گی. یہ ایسی فلم ہے جس میں شدّت، محبّت پر غالب ہے. 
بر صغیر میں عشق، محبّت، جنوں تب تک مکمّل نہیں سمجھے جاتے جب تک ان میں پاگل پین کا عنصر شامل نہ ہو.



فلم "کبیر سنگھ" میں محبّت اندھی ہی نہیں، بلکہ اچھی خاصی گونگی بھی ہے. محبّت کا نام ہے پریتی سکا اور فلم کے زیادہ تر حصّے میں انہوں نے منہ کو مسکراہٹ کا تالا ڈالا ہوا ہے. ایسی کچی عمر کی دوشیزائیں آپ کو آسانی سے کالج/یونیورسٹی میں مل جائیں گی.

ایسے ہی تھوڑی "کبیر سنگھ" باکس آفس پر ہٹ ہوگئی ہے!

فلم میں ویسے تو بہت کچھ غلط ہے لیکن جو سب سے غلط ہے وہ ہے محبّت کو ملکیت سمجھنا.

ہندوستان پاکستان میں لڑکی کو ویسے ہی "چیز" سمجھتے ہیں، سونے پر سہاگہ اسکو "کبیر سنگھ" جیسا مالک چاہیے. 

میرا آپ کو مشورہ ہے، وہ بھی بلکل مفت، کہ آپ کو ذرا سا بھی شک ہوآپ کا بوائے فرینڈ کبیر سنگھ جیسی شخصیت کا حامل ہے تو جان اور عزت دونوں بچا کر بھاگ جایئں. ایسے مرد آپ کی شخصیت کو کبھی بھی تجربہ کرنے کا موقع نہیں دیںگے، اور آپ کو انسان کی جگہ موم سمجھ کر سانچے میں ڈھال دیںگے. 

"کبیر سنگھ" نے ١٨/١٩ سال کی لڑکی کو پہلے دن سے ہی اپنے نام لکھوا لیا جیسے لڑکی نہیں، ابّا جی کی زمین ہو. 
کیا لڑکی سے پوچھا؟ لڑکی کی مرضی جانی؟ 

بہنوں، اس کو کہتے ہیں "consent" جو انتہائی ضروری ہے چاہے محبّت اندھی گونگی بھری سب ہو. اس کچی عمر میں "کبیر سنگھ" جیسا مرد جنّت کا دروازہ لگتا ہے جب کہ ہے وہ عمر بھر کا قفل.
کس سے دوستی کرنی چاہیے، کس سے نہیں، چنری کیسے اوڑھنی ہے، کیسے نہیں، یہ سب کسی بھی لڑکی کو اپنی مرضی سے منتخب کرنا چاہیے نا کہ کوئی "کبیر سنگھ" آپ کو بتاۓ.

بیچ سڑک، لوگوں کے سامنے اپنی محبّت کو تھپڑ مارنا، اس پر چیخنا چلانا کوئی عشق جنوں نہیں ہے. یہ سماجی بےعزتی، اور ذاتی ضرب ہے. یہ بات لڑکا اور لڑکی دونوں پر لاگو ہوتی ہے. محبّت کی آڑ میں آپ غصے کی غلاظت نہیں پھیلا سکتے. 

"کبیر سنگھ" صرف لڑکیوں نہیں، بلکہ لڑکوں کہ لئے بھی ایک سبق آزمودہ فلم ہے. ایک سین میں ہیرو کا دوست اسکو کہتا ہے "لڑکے روتے ہیں کیا؟" کیوںکہ یہ تو حدیث اور شاستروں  میں آیا ہے کہ لڑکے نہیں روتے ہیں. 
اب کیوںکہ ہم اکیسویں صدی کے باسی ہیں تو میں بتاتی چلوں کہ مرد اگر ہنس سکتے ہیں تو رو بھی سکتے ہیں. آپ کے tear glands اچھے خاصے ایکٹو ہیں اور ان کا آپ کی مردانہ صلاحیتوں پر کوئی اثر نہیں ہے. 

سب سے زیادہ جس منظر نے مجھے حیران کیا وہ یہ کہ، "کبیر سنگھ" کو فیملی پلاننگ اور برتھ کنٹرول جیسی چیز کا خاص اندازہ نہیں تھا. وہ اپنے بھائی کو تقریباً تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پلاننگ کیا ہوتی ہے؟ یہ تو بس جذبات ہیں. 

برائے مہربانی، ہند و پاک کی بڑھتی ہوئی آبادی کا خیال کریں اور بچے کو محبّت کی نشانی سمجھنے سے گریز کریں. 

فلم کی موسیقی بہترین ہے اور میرے کانوں میں ابھی بھی بج رہی ہے. میوزک اور فلم ڈائریکٹر نے شدّت کا رنگ فلم کی موسیقی میں بھی ڈالا ہے. شاہد کپور سے بہتر کوئی اور یہ کردار نہ کر پاتا. کئی مناظر میں آپ کو "حیدر" فلم یاد آئے گی. 
کیارہ اڈوانی کی معصومیت اور نو عمری ان کے کردارمیں گھل مل گئی تھی.  

"کبیر سنگھ" اپنی تمام تر برائیوں کے باوجود ایک دیکھنے قابل فلم ہے. یہ فلم آپ کوہر وہ چیز سکھائے گی جو محبّت میں نہیں ہونی چاہیے. 








May 25, 2019

کام کرنے کی جگہوں پر جنسی ہراسانی

Originally published here HumSub

ہم نے ہمیشہ یہی سنا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے اور قانون کے لئے سب برابر ہیں. کیا یہ بات حقیقت ہے؟ اصولی طور پر تو قانون کو اندھا نہیں، بلکہ منصف ہونا چاہیے کیوںکہ اندھا ہونے کی صورت میں تووہ استغاثہ اور دفاع دونوں ہی کو نقصان پہنچا سکتا ہے.

پاکستان میں قانون بہت لیکن استعمال اتنا ہی جتنا آٹے میں نمک!

میشا شفی کے ساتھ جو ہوا غلط ہوا، لیکن معاشرتی طور پر ایک فائدہ یہ ہوا کہ لوگوں کو جنسی ہراسائی کی قانونی سمجھ بوجھ آگئی. میشا شفی ایک مشہور شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ بااثر بھی ہیں جو اپنے حقوق سے بخوبی واقف ہیں اور ان کے لئے لڑنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں. اس کیس کے دوران ہم نے دیکھا کے انکا خاندان، دوست، اور متعدد چاہنے والے ان کے ساتھ کھڑے ہیں.

بدقسمتی سے ہر کسی کے نصیب میں نہ اتنی ہمّت ہے کہ وہ جنسی طورپرہراساں  ہونے کی شکایات کر سکے یا اس کے خلاف کیس لڑ سکے. آئے دن ہم مدرسے میں ہونے والے گھنونے واقعات کی ویڈیوز دیکھتے ہیں، خبریں سنتے ہیں لیکن کیا کسی والدین نے کیس لڑا؟ جیتا؟ .......شاید نہیں!

ہمارے ملک میں قانون تو ہے لیکن سجا سجایا. بلکل قرآن پاک کی طرح جس کو ہم گھر میں سب سے بہترین کپڑے میں لپیٹ کرطاق پر رکھ دیتے ہیں اور کبھی کبھی کھول کر دیکھ لیتے ہیں. 

اپریل ٢٠١٨ میں ڈان اخبار نے ایک آن لائن سروے کیا جو تقریباً ٣٠٠ عورتوں پر مشتمل تھا. اس سروے ک مطابق ٨٣% عورتوں کا ماننا تھا کہ دفاتر میں عمومی طور پر مرد نامناسب روّیہ اختیار کئے رہتے ہیں کیوںکہ انہیں یقین ہوتا ہے کے کوئی کاروائی یا چارہ جوئی نہیں ہوگی. 
یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان میں دفاتر میں ہونے والی جنسی ہراسائی کے لئے قانون موجود ہے:

Protection against Harassment of Women at the Workplace Act 2010:"Harassment as any unwelcome sexual advance, request for sexual favors or other verbal or written communication or physical conduct of a sexual nature or sexually demeaning attitudes, causing interference with work performance or creating an intimidating, hostile or offensive work environment, or the attempt to punish the complainant for refusal to comply with such a request or is made a condition of employment."

پاکستان کا کوئی حصّہ یا طبقہ ایسا نہیں ہے جہاں کام کرنے والی عورتوں کو ہراساں ہونے کا تجربہ نہ ہوا ہو. ٩ سال گزرنے کے باوجود مندرجہ بالا قانون سے کئی عورتیں ناواقف ہیں یا ڈرتی ہیں کے انصاف کے کٹہرے میں ان کی دھجیاں نہ اڑا دی جایئں. 
وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم کے مطابق ٢٠١٤ سے ٢٠١٨ کے درمیان ٣٧٨ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ملک بھر سے، جن میں سے ٢٢٠ شکایات حکومتی اداروں سے آئ تھیں. 

جب بات آتی ہے اداروں کی تو ہمارا پہلا خیال یہ ہوتا ہے کہ شاید تعلیمی ادارے اس سے محفوظ ہوں. آخر کو استاد تو روحانی والدین کا درجہ رکھتے ہیں اور پھر تعلیم و تدریس بذات خود ایک انتہائی عزت دار پیشہ ہے.

ان تمام باتوں کے باوجود، پروٹیکشن ایکٹ ٢٠١٠ کے تحت موصول ہونے والی شکایات میں قائد اعظم، LUMS، جیسی یونیورسٹیز شامل تھیں.

٢٠١٨ میں ایک اور مشہور کیس اخباروں کی زینت بنا تھا جب پاکستان کے جانے مانے اردو کے شاعر پروفیسر سحر انصاری پر جنسی ہراسائ کا کیس ہوا تھا. پروفیسر صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں بلکہ اردو کی خدمات کے انجام میں حکومت پاکستان سےستارہ-امتیاز بھی حاصل کر چکے ہیں. 

شکایات درج کرنے والی خاتون خود بھی اسسٹنٹ پروفیسر تھیں اور ان کے ساتھ یہ واقعہ ٢٠١٦ میں پیش آیا تھا. اس شکایت کی بنیاد پر جامعہ کراچی نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے ایک ماہ کے اندر پروفیسر صاحب کو کلین چٹ دے دی. 

خاتون برحق تھیں تو انہوں نے سندھ صوبائی محتسب کو اپیل دائر کی جس نے سوا سال بعد اگست ٢٠١٧ میں جامعہ کراچی کی کمیٹی رپورٹ کو رد کر کے نئی کمیٹی، پروٹیکشن ایکٹ ٢٠١٠ کے تحت تشکیل کرنے کا حکم دیا. 
جنوری ٢٠١٨ میں حتمی فیصلہ یہ ہوا کہ پروفیسر سحر انصاری پر ہراسائی کی شکایت ثابت ہوئی جس میں جامعہ کراچی کی جانب سے کئی طالبات کی شکایات بھی شامل تھیں اور جامعہ کے چند ملازمین کی گواہی بھی شامل تھی.

پھر کیا ہوا؟
کوئی نہیں جانتا!

سندھ محتسب نے ایک بہترین قدم اٹھایا لیکن کیا اس کو مثالی بنا پائے؟ کیا پروفیسر سحر انصاری پر قانونی فیصلہ محفوظ ہوا؟  کیا جامعہ کراچی نے اس سلسلے میں پیش و رفت کی؟ مستقبل میں اساتذہ اور طالبات کو محفوظ بنانے کے لئے کیا اقدام کئے؟ 


حکومت پاکستان میں وفاق نے ایک پوری وزارت اس پروٹیکشن ایکٹ کے لئے محفوظ کی ہے جس کی وزیر اس وقت کشمالہ طارق ہیں. مجھے یقین ہے اگر حکومت چاہے تو اس قانون کو ہرچھوٹے بڑے دفاتر میں عمل میں لا سکتی ہے. عورتوں کو اس قانون کے بارے میں آگاہ کیا جائے، ان کو ان کے حقوق کا احساس دلایا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انکی شکایات اور کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا.  

جب فیصلے ہوا میں معلق ہوں، توقانون پر سے یقین ڈگمگانے لگتا ہے جو معاشرتی طور پر خطرناک ہے. پاکستان میں دفاتر میں ہونے والی ہراسائی کے خلاف ایک مثبت قانون ہے جس کا یقینی استعمال ضروری ہے. 












  

May 3, 2019

Even Pakistani Tinder Isn’t Safe From Married Men


Originally published here NayaDaur



“What were you doing on Tinder?”

Khadija* was expecting anything but this. She was talking to the wife of a man who had recently deceived her. She had met this man on the dating app Tinder where they had immediately struck up a lively conversation. He told her that he was divorced and she had taken most of what he said on face value, convincing as his tales of the every day seemed. Even when she met him in real life, she did not think anything was amiss. 

But several months later the game of deception had finally come to an end after Khadija found out about his wife and children through a network of women online who have each other’s backs in matters like these and keep a check on philandering men through various whisper networks. This is what had brought Khadija and Sameen together to talk about the man who had deceived them both.

The most notable part of this awkward conversation was that the wife wanted to know why Khadija had been on Tinder to begin with. “Because I am single”, sputtered Khadija. I also told her “You should be asking your husband this question, not me”, she says, putting her glass of ice-filled cola on the table and trying to control herself.

In any civil society, people will not judge each other for being on a dating app. The judgment criteria begin when one lies about their marital status and think of oneself as a trophy that women are dying to take home.

Almost 2 decades back, we had chatrooms such as MSN, Yahoo, MIRC, or ICQ for meeting/dating new people. You could have entered a chatroom and befriended a boy disguised as a girl. This can still be considered comparatively better than finding yourself dating a man who has not put his legitimate marital status on the table.

Internet became further prevalent, and everything became on-the-go, courtesy of smart phones. Eventually, these rooms got replaced by exclusive dating apps such as Tinder, OkCupid, or the latest Muslim sensation called MuzMatch – a halal way to date.

Unlike West, Pakistan has nothing to offer to adults for casual socializing and that is when we resort to the modern mode of dating.

According to Zaafir*, a young engineer who regularly uses Tinder, dating in Pakistan is an act of rebel. A small gesture against cultural and social norms which bars you from meeting singles and know them. A country where women are still objectified and considered as “ghairat”, dating openly can be as dangerous as entering a tribal area without precaution.

Pakistan, where dating is anyway a taboo, such apps not only create room for potential companionship but also test users’ level of trust in strangers. An average Pakistani find it safer to look for a date online as compared to his or her surroundings where a judgment awaits by society.
Hasan* met his girlfriend on WeChat, a Chinese multipurpose messaging app. He is a 26year old, full-time student who accidentally found his partner on this app. Initially, the girl she met was using a fake identity for safety purpose but over time, as trust developed, she revealed her real identity. 

Two years later, they are still together. Hasan* thinks, it is unethical for committed or married people to be on a dating platform.

He further added that Pakistan is a culturally restricted society limits their chances to date or get-to-know a new person. Also, men and women have a conflict of interest where men are mostly looking for one-night stands, or rather a time-pass, while the majority of women go for something meaningful or deeper connection.

Pakistan is a tough country for single women and it becomes quite difficult for them to put themselves out there on dating platforms. In case you happen to be independent, outspoken, opinionated then Pakistani men tend to take you for granted and consider you as “available”. The sense of entitlement is quite evident on dating apps like Tinder where our desi men shamelessly date to demonstrate their masculinity.

Tinder already has around 57million users worldwide and can be ranked as one of the most growing dating apps in Pakistan.

Ideally, any dating app should be the hub of singletons looking for 50 shades of romance but, we rather find 50 shades of shadiness. Back in 2015, Global Web Index, an independent survey of Tinder found that around 30% of its users are married and 12% are highly committed in their relationships.

Such statistics can only speak of figures, but not the motive or authenticity of users!
Farheen*, a 33-year-old media professional, consumed by her work-life, gave Tinder a try. 
Just like Khadija*, she met a too-good-to-be-true guy, Mr. Z, whom she dated for a little over 2 months and eventually discovered that he is not only married but also fathering 2 children. 

Unfortunately, Farheen* was not his only prey but Mr. Z was a compulsive liar who had a wife, a steady girlfriend and a few side flings through dating apps.

Being married is not a problem, but what is problematic is deceiving multiple women at one point of time. Farheen* added, that such incidences can make people bitter and losing out on any chance of finding a reliable man.

Most men get away with such situations because they know, how easy it is to be a man in Pakistani society where they can be “themselves” in the name of patriarchy. Tinder is full of profiles where men literally write in their bio “Let’s not judge each other for being on Tinder” as if being on a dating app is a crime or a mortal sin.

While writing this piece, I spoke to many women who were duped by married men by showing themselves as single, separated, or even divorced. These men kept a smooth relationship, at max, a month or two and eventually their identity got revealed. Unfortunately, the most appalling part is that when wives learn of these incidents, they question the victim of deception before they question the deceiver – the husband.

A country like Pakistan, where sex and dating both are considered as best kept secret, these dating apps are giving avenues to married male to explore their fantasies.

Razee*, a 45year old married male, used OKCupid while going through a rough patch in his marriage. According to Razee, he could never find a match because he was honest about his marital status. OkCupid was his escape from marital life, responsibilities, and temporarily answered his fanciful desires in life.

Duplicity is an art, and not everyone can master it. Hence, Razee* had to withdraw himself from these dating apps where honesty could not get him a single date. Also, he mentioned that he did not have the guts to maintain an alternate identity just to fancy himself on cupidity.

But what makes a married man lie about his marital status?

“Well, it is all about how a man is raised because this is what leads to ineffective emotional awareness and communication with a partner.”, says Shazia Ahmed, a counseling psychologist.

According to Shazia, men are not taught how to recognize their emotions, and the only emotions they can have without shame are anger or aggression. Our primary issue begins when socially men are told that they are entitled to everything because they are men which eventually takes away their basic human need of being emotionally vulnerable.

Pakistani marriages are pre-dominantly arranged by parents which gives hardly any chances to two people to understand each other and match their frequency. Mostly in an arrange setup, it’s the men who has supremacy in relationship which takes away the equal sharing of responsibility and feelings towards each other.

In order to sustain a long-term partnership, man and woman both should work on it. Unfortunately, in Pakistani society, we put women through emotional labor of child upbringing, handling in-laws, and entertaining husband. While all this, the only standard expectation from a man is to be breadwinner.

Meanwhile, most of Pakistani wives are consumed in their chaotic marital life, their husbands find time to fulfill their fantasies and satisfy their ego through online mean and mode.

Shazia further explained, that men lack emotional awareness and deduce themselves to some attention from an unknown woman who is not bound by the same constraints as his wife. Instead of resolving their emotional needs with their partners, married men enjoy the attention and entitlement under the pretext of being single.

In a typical desi setup, where your parents chose your partner, you are very unlikely to develop that deep and secure emotional bond. Only this kind of bond has capability to communicate freely with your partner and share the weight of relationship, equally.

The time a man spends while talking to his Tinder match, he can choose to spend that with his wife while helping her with daily household labor. Unfortunately, most men are neither brought up nor they have seen other men helping their spouses. The way married men explain their fantasies to their online dates, they should rather try explaining them to their partners without any fear of being misunderstood.

If you cannot be principled enough in your marriage, one cannot expect you to have them on Tinder. 

The amount of creative thinking and labor, our men put into creating an alternative identity in online dating world, they should probably put that into their marriage.
This will save many women time and energy, both!




Oct 12, 2018

جنسی ہراسانی کی چیخ

Originally published here HumSub

 اگر میں ایک شخص کو تھپڑ ماروں اور دوسرے کو گولی، تو کیا آپ دونوں حملوں کو جان لیوا کہیں گے؟
یقیناً نہیں!

٢٠١٤ میں میری ایک معمولی سی سرجری ہوئی تھی، جس کے باعث مجھے پھیپھڑوں میں تکلیف تھی. ایک رات، قریب ٣ بجے میں نے درد کی شکایت کی اور غصّے میں شفٹ پر ڈاکٹر کو بلوایا جو اس وقت ایک شیعہ ہزارہ کی جان بچانے میں مصروف تھی. میری چیخ چللاہٹ سے اس کو آنا پڑا. پہلی بات جو اس ڈاکٹر نے کہی وہ یہ تھی "کلثوم تمہارا درد تکلیف دہ ہوگا لیکن جان نہیں لیگا. تمھارے اس ہنگامے سے اس آدمی کی جان بچانے کہ لئے ایک ڈاکٹر ضرور کم ہورہا ہے." 

اس رات مجھے احساس ہوا کہ، میری چیخ میں اس شخص کی چیخ کوئی نہیں سن پائے گا، جو چیخ بھی نہیں سکتا. 

  کچھ ایسا ہی موجودہ دور میں "جنسی ہراسائ" کو لے کر ہو رہا ہے.    
می ٹو تحریک نے دنیا بھر کی عورتوں کو نہ ہی تو صرف آواز دی ہے بلکہ دنیا کو ساتھ ہی ساتھ باور کرایا ہے کہ کیا امیر، کیا غریب، کیا عام، کیا خاص، کیا جاہل، کیا دانا، سب ہی میں صلاحیت ہے عورت کو زیر کرنے کی!

اس تحریک پر بہت سارے سوال بھی اٹھتے ہیں جن میں پہلا سوال ہوتا ہے "ثبوت کیا ہے؟". ایسے لوگوں کہ لئے دو باتیں سمجھنا بہت ضروری ہے:
١) جنسی ہرسائ کہتے کسے ہیں؟
٢) خوف کس بلا کا نام ہے؟

ہم پہلے سوال کے جواب کی طرف بڑھتے ہیں:
اقوام متحدہ کے مطابق، کوئی بھی ایسا ناپسندیدہ جسمانی یا زبانی فعل جوآپ سے آپ کی اجازت کے بغیر، زبردستی ہو. 
    
اگر آسان الفاظ میں بات کی جائے تو، آواز کسنا،گندی آوازیں نکلنا، بلا اجازت چھونا، یہ سب ہمارے معاشرے میں روز مرہ کی ہراساں کرنے والی حرکات ہیں. اب ذرا آپ اپنے گھٹنوں......میرا مطلب ہے چھوٹے سے دماغ پر زور لگایں اور بتایئں اگر راہ چلتے کوئی مجھے "ماشاللہ" یا "آئٹم " وغیرہ جیسے الفاظ سے پکارے تو میں اس کا گواہ یا ثبوت کہاں سے لاؤں گی؟ بھرے بازار میں کسی لڑکی کو کوئی بھی لالچی مرد اگر چھو لے تو وہاں کہاں سے ثبوت لاے گی؟ چلتی بس میں جو انگلیاں سیٹ میں سے راستے بنا لیتی ہیں، ان کا ثبوت کیسے اکھٹا کریں؟

دراصل کیا ہے نا، ہم عورتیں اپنے سر پر ڈرون کیمرے تو لے کر چلتی نہیں ہیں اس لئے ثبوت مانگنے کے بجائے اگر آپ ان صرف اپنی سوچ کی اڑان اونچی کرلیں تو مہربانی ہوگی.

یہی وجہ ہے کہ، میشا شفی کوئی ثبوت نہ پیش کرسکیں کیوںکہ وہ سوچ کر مردوں سے نہیں ملتی تھیں کہ اس نے مجھے ہراساں کیا تو میرے سر پر اڑتا ہوا ڈرون کیمرے اسکی ویڈیو بنا لیگا. 
صرف میشا ہی نہیں، بلکہ ہر وہ عورت جو اپنی روز مرہ کی زندگی میں مردوں سے ملتی ہے، یہ نہیں سوچتی کہ آج یہ مجھ سے زبردستی کی کوشش کریگا. عروج ضیاء کو خبر نہیں تھی کہ فیصل ایدھی ان کا فائدہ اٹھانا چاہیں گے، یا وہ لڑکیاں جو جنید اکرم کے خوف سے پبلک نہیں ہو پا رہیں. اگر ان میں سے کسی کو پتا ہوتا کہ ان کی تکلیف پر سوال اٹھیں گے، تو وہ یقیناً ساتھ میں کیمرے رپورٹر سب رکھتی تاکہ قوم کو بروقت اطلاع دی جا سکتی.......بریکنگ نیوز بھی تو کوئی چیز ہے!

 ملک کی لاکھوں عورتیں، اپنا آپ چادر میں اس لئے نہیں ڈھانپتی کہ حکم الہی ہے. چادر ان کی باریک محافظ ہے، گندی نظروں، ہاتھوں، اور فقرے بازیوں سے!
اگر صرف ہاتھ لگانا، آواز کسنا اتنی ذہنی تکلیف پہنچا سکتا ہے، تو سوچیں اس سے آگے کی ہرسائ کتنی تکلیف دہ ہوگی. عورت جب بازار سے گھر آتی ہے تو وہ یہ نہیں بتاتی کہ اگلی گلی کے مزدور نے اسکو آدھی تعمیر شدہ عمارت میں انے کی دعوت دی تھی....وہ اپنا راستہ بدل لیتی ہے بس. وجہ؟
وجہ آپ ہیں. آپ کی سوچ اور سوال ہیں جو اس عورت کو اسی کی نظر میں مجرم بنا دیںگے. 

خود کو خوف سے آزاد کرانا ایک اندرونی جنگ ہے. 
یاد رہے، جنگ کے شروع ہونے کا وقت تو ہوتا ہے لیکن ختم کب ہوگی، معلوم نہیں. جب ہوتی ہے تب متاثرین باہر آ کر خود پر گزرا وقت بتاتے ہیں. 
جن بھوت، اندھیرے، پانی، پہاڑ، اور کئی سارے خوف ہیں جو نظر آتے ہیں لیکن جگ ہنسائی کا خوف نظر نہیں آتا. یہی وہ خوف ہے جو ان متاثرین کو اپنے خول میں بند رکھتا ہے. 

اگلا مرحلہ، معاملے کی سمجھ اور بوجھ کا ہے. 
یہ وہ دور ہے جب پاکستان میں ایک طرف تصوّف اور روحانیت کا بول بالا ہے تو دوسری طرف ملک کے مختلف حصّوں سے نوزائدہ بچیوں کی لاشیں مل رہی ہیں. 

معاملہ جب عورت کی برابری اور حقوق کا آتا ہے تو ہمارا پہلا مقصد ہوتا ہے پدرانہ نظام کے زیر اثر متاثرین کو انصاف دلوانا، ان کی آواز کو اونچا کرنا، خوف کی سرحد پار کروانا. بدقسمتی سے، ان تمام مرحلوں کے بیچ اکثر آوازیں دب جاتی ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کی ابھی سرگوشی ہی کی تھی. 

اگر کسی مرد یا عورت نے آپ کو ہراساں کیا ہے تو اسکو ہراساں ہونا ہی کہیں گے، لیکن اگر آپ کسی غیر آرام دہ گفتگو کا حصّہ بن رہے ہیں تو وہ ابھی تک جنسی ہرسائ کی تعریف میں نہیں آیا. ہراساں ہونا مذاق نہیں ہے، اور نہ ہی اسکو اتنا آسان لیا جائے.

تحریک کو تحریک ہی رکھا جائے تو ٹھیک ہے، مزاق نہ بنائیں تاکہ قاضی شہر کو انصاف دینے میں آسانی ہو.  


  


٠

Apr 30, 2018

میں کینسر کی مریضہ ہوں

Originally published here HumSub

گزرتے وقت میں، مجھے چند چیزوں سے  بڑی چڑ ہوگئی ہے چاہے آگے جا کر ان کا کتنا ہی فائدہ کیوں ہو. مثال کے طور پر کدو!

کدوکی سبزی سے مجھے کبھی بھی شغف  رہا چاہے اکیلی پکی ملے یا بوٹیوں کے ساتھ شوربے میں غوطے لگاتی ہوئی. ھماری والدہ ماجدہ کدو کے قصیدوں میں کمی نہیں کرتیں اوردسترخوان پر افادیت اور کدو ساتھ رکھ دیتی تھیں. 
اب کدو مہاراج کی بدقسمتی کہئے یا نصیب کا کھیل، جہاں جہاں جس کے ساتھ لگے، اس کی عزت میں کمی آتی گئی. چند روز پہلے، فاروق ستار نے ملکی مستقبل کے سب سے عزت دار سانحے یعنی الیکشن ٢٠١٨ کو بھی کدوکہہ ڈالا. اب بیچارے کدو کی عزت تو ویسے ہی کچھ خاص نہیں، ساتھ میں الیکشن بیچارہ بھی منہ چھپاتا پھر رہا ہے. 

سچ پوچھئے تو، مجھے کدو اور آنے والا الیکشن،دونوں سے ہی لگاؤ نہیں لیکن پھر بھی مستقبل کا سوال ہے تو ہم کدو بھی کھالیتے ہیں اور ووٹ بھی دے دیںگے.  آنے والے وقتوں کی فکر میں، مجھے ایک مرض بھی لاحق ہوگیا  ہے: کینسر!
تشخیص کرنے والوں کا کہنا ہے یہ ایک نئے قسم کا کینسر دریافت ہوا ہے جس کی جڑیں بنیادی انسانی حقوق سے جڑی ہیں، اور اسکی ایک شاخ میرے مرض کی وجہ ہے. 

فیمینزم کا کینسر!
آپ سوچیں گے، مجھے فورا اس کا علاج کروانا چاہئے لیکن میں ایسا نہیں کرونگی. میں اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے فائدے کیلئے یہ بیماری برداشت کرلونگی. اگر میں کدو کھا سکتی ہوں، اور ووٹ پر یقین رکھ سکتی ہوں تو فیمینزم کا تو حق ہے میری نسوانیت پر. نہیں؟

پچھلے ١٥ ماہ میں، ایدھی سینٹر اور چھیپا ویلفیئر نے سینکڑوں نوزائیدہ بچوں کی لاشیں کچرے کے ڈھیر سے اٹھائی ہیں جن میں ٩٩% لڑکیاں تھیں. یاد رہے یہ صرف وہ بچیاں ہیں جہاں تا ایدھی اور چھیپا کی رسائی ہے، یا وہ جن کو دنیا میں چند سانسوں کا شرف بخشا گیا. کتنے ہی بیج ایسے بوئے گئے ہونگے، جن کی صرف جنس معلوم پڑنے پر ہی ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا ہوگا. 
ایک طرح سے اچھا ہی ہے کیوںکہ جس معاشرے میں انسانیت کے حقوق پر اٹھنے والی آوازوں کو کینسر کا نام دیا جاۓ وہاں ہم آنے والی نسل کو کیا دیںگے؟ آج نہیں تو کل اس لڑکی کو تو مرنا ہی ہے. غیرت کے نام پر، رشتے سے انکار کرنے پر، طلاق مانگنے پر، اور کچھ نہیں اور کچھ نہیں تو کھانا ٹھیک سے گرم نہ کرنے پر.

نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے تازہ اشاعت ہوئے شمار کے مطابق، پاکستان میں پچھلے ٥ سالوں میں ایک لاکھ سے زائد انسانی حقوق کے کیس درج ہوئے ہیں جس میں، غیرت کے نام پر قتل، ریپ ،گھریلو تشدد، تیزاب پھینکنے جیسے تمام جرم شامل ہیں. یہ صرف وہ کیسز ہیں جن کا پرچہ تھانے میں درج ہوا تھا جس کے باعث یہ اعداد و شمار انتہائی کم ہیں. 

ہم وہ قوم ہیں جہاں کھانے کی میز پر اگر شوہر بیوی کے کھانے کی تعریف کردے تو جورو کا غلام، لیکن پلیٹ منہ پر دے مارے تو "مردانگی" پر پورے ١٠ نمبر اس کے ہوجاتے ہیں. ہر دوسرے دن، ہمارے معصوم بچے کسی مولوی کی حوس کا نشانہ بن جاتے ہیں، پھر بھی ہم کہتے نہیں تھکتے "کوئی مسلمان ایسا کیسے کرسکتا ہے؟"
ہم ایسے تمام جرم پر دو دن یا زیادہ سے زیادہ چار دن تھو تھو کرتےہیں لیکن سد باب نہیں کرتے. اگرآپ ایسے گناہوں اور جرائم کو بدلاؤ کے دائرے میں نہیں لائیں گے تو آپ تنقید کا بھی حق نہیں رکھتے ہیں. یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ووٹ نہ دیا ہو اور حکومتی نظام پر اپنی رائے پس کردیں.

جرم کرنے کے لئے مسلمان یا ہندو ہونا شرط نہیں ہوتی،بس حیوانیت چاہئے. جہالت کا خول چاہئے، وہ لبادہ چاہئے جسے اوڑھ کر آپ میرے مرض کی تشخیص کرتے ہیں. پاکستان میں حقوق کی جنگ لڑنا دن بدن مشکل ہورہا ہے. میرے ملک میں تو جو حق کی بات کرے وہ غدّار، جو سوال کرے وہ گمشدہ. اگر پشتین اور طاہر خان ہزارہ جیسے لوگوں کو اپنی آواز پہنچانے میں اتنی مشکلات کا سامنا ہے تو میں تو ایک "مریضہ" ہوں.

مجھے یہ مرض بخوشی قبول ہے کیوںکہ یہ میرے وجود کا سبب اور میرے کل کی جنگ ہے. ان چہروں کی روشنی ہے جو کسی جہل کے تیزاب میں دھندلا گئے. ان پھولوں کی خوشبو ہیں جو بن کھلے مرجھا گئے. ان گردنوں کے محافظ ہیں جو اپنی پسند پر سر بلند ہونگے. ان آوازوں کی چیخ ہیں جوچار دیواری سے باہر نہیں نکلتیں.

میرا مرض پدر شاہی کے خلاف بغاوت ہے!


Apr 22, 2018

"میں"

پیدا ہوئی حوا کی بیٹی تھی
جو مریم کا پاک دامن تھی 
آزاد فیصلہ تھی خدیجہ کا 
نسل سے بنت محمّد تھی

آج وقت کے رحم و کرم پر 
زمانے کے فیصلوں کی منتظر 
چند شہادتوں کی متلاشی
سینکڑوں کرداروں میں لپٹی 
گھر سجاۓ، دل بہلاۓ، 
یا ٹوٹ جاۓ 

دفن کیا حوا کے کرداروں کو 
میں اب آزاد ہوئی،
اپنی ذات ہوئی ! 




#بانوسازی 
  

Oct 14, 2017

نعیم بخاری “ایک کلومیٹر سے خاتون کا کردار” پہچان لیتے ہیں

Originally published here HumSub

حال ہی میں، ملک کے مشہور میزبان اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل نعیم بخاری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ "ایک کلومیٹر سے خاتون کا کردار پہچان جاتا ہوں".
یقین جانئے، سن کر دل کوتسلّی ہوئی کہ بالاخر ہم نے بحیثیت قوم اتنی ترقی تو کرلی کہ کردار جانچنے کی پیمائش ایک کلومیٹر ہے. اچھے وقتوں میں، بنا دوپٹے، گہرے گلے، بنا آستین وغیرہ کے کپڑے پہننے والی خواتین کا ہی کردار شبہے کے دائرے میں آتا تھا. بہت چھلانگ ماری، تو سگریٹ پینے والی اور مردوں کے ساتھ قہقہہ لگانے والی کو بھی ١٠٠ مردوں کے بستر سے گزار دیتے تھے.
اب سچ پوچھئے توقصور بھی عورتوں کا ہی ہے، خامخواہ آجاتی ہیں  سامنے ایسے واہیات معاشرے کے سامنے جہاں لوگ کپڑے تو پہنتے ہیں لیکن سوچ ننگی ہے، روٹی چاول سے پیٹ تو بھرتے ہیں لیکن ہوس بھوکی ہے.
ایک چٹکی سندور تو سنا تھا لیکن ایک  کلومیٹر کی کیا ہی بات ہے.سو بس مذاق کی رو میں بہہ کر نعیم بخاری صاحب نے بھی ملک کا انتہائی پیچیدہ مثلا حل کردیا اور وہ  ہے عورت کا کردار جس کی حد ہے ایک کلومیٹر!
اب پنچایت کو فیصلہ سنانے کے لئے گواہ کی نہیں بس ایک کلومیٹر سے دیکھنے کی ضرورت ہے اس معصوم کو جس پر الزام ہے. مقدّر تو ویسے بھی اس بیچاری کا قتل یا ریپ ہے تو گواہ کو کیوں تکلیف دیں؟ بس ایک کلومیٹر سے دیکھ لینگے. وہ غیرت مند بھائی جن کا خون نیلم سے زیادہ ٹھنڈا پر جوشیلا ہے، وہ بھی اپنی بہن بھابھی کا کردار ایک کلومیٹر سے پہچان لینگے.

میری نظر میں اس کا بہترین فائدہ جو ہوگا وہ ہوگا رشتہ ڈھونڈتے وقت آنٹی قسم کی خواتین کو کیوںکہ میرے تجربے کے مطابق خواتین لیپسٹک کے کلر،لڑکی کے بال وغیرہ اور شاید بکری کے دو دانت بھی دیکھتی ہونگی. ان سب باتوں سے لڑکی پہلا مرحلہ رشتہ پاس کرتی ہے. اب نعیم بخاری کے ماہرانہ سائنسی فارمولا کے مطابق آپ رشتہ طے کرسکتی ہیں صرف ایک کلومیٹر سے. آپ  اپنے تیز ذہن کو ذرا تخیل کی دنیا میں لے جائیں اور سوچیں: یونیورسٹی، کالج کے باہر لڑکے کی ماں انتظار کررہی ہے تاکہ وہ ایک کلومیٹر سے ہی چند لڑکیوں کو منتخب کرلے جن کا کردار اچھا ہو.
نعیم بخاری صاحب بھی اسی معاشرے کا حصّہ ہیں. گو کہ وہ کہیں گے کہ یہ بات انہوں نے ازراہ مذاق کہی تھی لیکن سوال یہ بنتا ہے آخر تذلیل اور تحزیک کا نشانہ عورت کے وجود کہ اس پاس ہی کیوں  گھومتا ہے؟ گالی دینی ہو تو ماں بہن، تھیٹر کامیڈی میں ہنسانا ہو تو بیوی پر فقرہ کس دو، مذاق اڑا لو، فون پر لطیفے اتے ہوں تو اکثریت عورتوں پر ہوتی ہے. 
پچھلے کچھ ماہ میں شہر ممبئی اور کراچی میں موسلادھار بارشیں ہوئیں جس کے باعث کاروباری اور ذاتی زندگی مفلوج ہوگئی. اس دوران فیس بک، ٹویٹر، اور وہاٹسپپ وغیرہ پر ایک ہی طرح کا لطیفہ مرد حضرات لگا رہے تھے کہ انھیں انکی بیویوں سے بچایا جائے. مرد دوست ہاسا اڑا رہے تھے، خواتین بھی internal misogyny کا منہ بولتا ثبوت دیتے ہوئے کھی کھی کر رہی تھیں. اس دوران میں یہ سوچ رہی تھی کیا یہ عورتیں اس طرح کا مزاق شوہر کا یا کسی بھی مردانہ رشتے کا اڑا سکتی ہیں؟ یا جس خاتون سے اپکا صیغہ پڑھا گیا ہے اپ اسکو یوں چار لوگوں کے بیچ ہنسی کا بیان بنا رہے ہیں؟
پڑھنے والے کہیں گے یار آگئی یہ خاتون اپنا "فیمینزم" اور "مساوی حقوق" کا بینڈ باجا لے کر لیکن میری باتیں درحقیقت بنیادی انسانی حقوق کی ہے. ہم ہر بات کو جو عورت کے قلم اور زبان سے نکلے اس کو ہنسی میں اڑا کر اصل مسائل سے توجہ نہیں ہٹا سکتے.

چاہے وہ بلیو وہیل کا گیم ہو یا شہر کراچی میں چاقو گھونپنے والا چھلاوا، ہمارے ملک میں ہر چیز کا مزاق بن گیا ہے. کوئی اپنی بیوی کو بلیو وہیل گیم کھیلنے کا مشورہ دے رہا ہے تو کوئی بیگم کو گلستان جوہر جانے کو کہ رہا ہے. قتل یا خودکشی کوئی معنی نہیں رکھتی کیا؟
ان ساری باتوں کا المیہ یہ ہے کہ، جس کی تذلیل ہورہی ہے وہ اصل ذلیل نہیں ہے، بلکہ وہ ہے جو تذلیل کر رہا ہے، لیکن بلی  کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟
  
گویا تمہارا جنم عورت کے بطن سے، تمہاری نسل اس عورت سے، تمھارے گھر کی چولھا چکّی اس عورت سے،  تمہارا جسمانی عیش و عشرت، دماغی سکون اس عورت سے ہے. قصّہ مختصر کہ زندگی مکمّل کرنے اور گزارنے کا انحصار عورت پر ہے پھر بھی اس کی عزت کا انحصار مرد پرہے. واہ رے انسان!


Mar 15, 2015

انقلاب نہیں تہذیب

ہم طالبان کو ایک جماعت کے طور پر جانتے ہیں جب کہ سچ تو یہ ہے کے طالبان ایک سوچ ہے جو بہت تیزی سے پاکستان میں سرائیت کر چکی ہے.  ضروری نہیں  کے یہ سوچ آپکو  بھر داڑھی اور اونچی شلوار کے ساتھ ملے. بس کسی  شخص کی زبان کھلنے کی دیر ہے اور پیٹ کی داڑھی منہ سے باہر لٹکنے لگتی ہے.

بر صغیر کے اس خطّے میں اسلام تب اتنا نہیں پھیلا تھا جب جناب محمّد بن قاسم باب السلام سے داخل ہوئے تھے، جتنا ٩/١١ کے واقعے کے بعد پھیلا ہے. کچھ دنوں میں آپ پتھر اٹھایں گے اور کیڑا کہے گا وہ بھی مذہبی ٹھیکیدار ہے. شاہد آفریدی جیسا مایہ ناز بین الاقوامی شہرت کا کھلاڑی ہو یا اوریا مقبول جان جیسے جان کے دشمن ان سب کا اسلام عورت پر نازل اور حاصل ہے.

پاکستانی فطرتاً ایک ایسی قوم ہے جس نے دنیا بھر ک مسلمانوں کا ٹھیکہ  لے رکھا ہے. سعودی عرب نے کبھی یہ باپ جیسی شفقت برما، کشمیر، بوسنیا، یا فلسطین کے مسلمانوں کے لئے نہیں دکھائی، لیکن ہماری سڑکوں اور شاہراوں پر آپکو ہندوستان اور اسرائیل کے جھنڈے جلتے نظرآیں گے اور ساتھ ہی روتی چیختی عورتوں کی تصاویر تاکہ زیادہ سے زیادہ چندہ جمع ہوسکے.

اس وقت کسی مسلمان مرد کو ان عورتوں کی نامحرم ہونے پر اور حرمت پر خیال نہیں آتا. اسلام خریدنا ہو یا بیچنا ہو، تولہ ہمیشہ عورت ک باٹ پر جاتا ہے.

میرا ذاتی اختلاف مردوں سے نہیں ہے، کیوں کہ ماشاللہ سے فرحت ہاشمی نے زنانی طالبان کوبڑا فروغ دیا ہے. پڑھی لکھی، کماؤ پوت خواتین بھی اسی طالبانی .
سوچ سے حاملہ ہیں 

شاہد آفریدی نے اپنی  پہاڑی سوچ اور شکاری دماغ کا بھرپور استمعال کرتے ہوئے
 کہا کہ عورتوں کو کچن تک ہی رہنا چاہیے.  تب سے مجھے اسکی چار بیٹیوں پر ترس اتا ہے جنکا مستقبل اب صرف چولہے کی آگ تک روشن ہوگا.  

میری اس بات پر میری ایک جان پہچان کی خاتون نے بہت اعتراض کیا.
بذات خود وہ  خاتون برطانیہ سے پڑھ کر آیی  ہیں اور آج کل پسند کی شادی کی جدوجہد کر رہی ہیں ہیں، فرمانے لگی کہ شاہد آفریدی کی بات کو غلط رنگ دیا جارہا ہے اور یہ اسلام کہ عین مطابق ہے.جب میں نے انھے حضرت خدیجہ کی تجارت یاد دلایی تو لمبی خاموشی چھا گیئ .

 روزانہ کے حساب سے سینکڑوں مثالیں ہیں جن سے ثابت ہوا پڑھ لکھ جانے سے آپ کا ذھن نہیں کھل جاتا. عزت کردار اور عمل سے نہیں بلکے حلیے سے بنایی جاتی ہے. کوئی خاتون جو بنا دوپٹتے یا جینز میں ہونگی.


زیادہ دن پرانی بات نہیں ہے جب سوشل میڈیا پر ایک تصویر بڑے زور و شور سے چلی اور وہ تھی رحام خان اور وینا ملک کی جس میں دونوں خواتین  اسلامی لحاظ سے  باپردہ اور باحیا نظر آرہی تھیں. 
یہ وہی دو عورتیں ہیں جو ماضی میں اپنے پروفیشن کے حوالے سے کسی نہ کسی طرح خبروں کی زینت بنی رہی ہیں. 

عمران خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے پہلے رحام خان بی بی سی چینل پر موسم کا حال سناتی تھیں اور جیسے تمام اور خواتین مغربی لباس پہنتی تھیں ویسے ہی وہ بھی رہتی تھیں. جرنلزم میں ڈگری رکھنے والی، تین بچوں کی ماں، اور پچھلے دو سال سے پاکستانی براڈکاسٹ جرنلسٹ ہونے کے باوجود رحام نے اپنا حلیہ کیوں بدلہ؟ رحام نے ایسا اپنی دوسری شادی کے بعد ہی کیوں  کیا؟ کیا ان سے لوگوں کی امیدیں وابستہ تھیں حلیے کو لے کر؟ یا پھر ان کو لگا کے سر ڈھانک کر وہ پاکستانی معاشرے کا زیادہ عزت دار حصّہ بنیں گی؟

وینا ملک کسی تعرف کی محتاج نہیں.
بگ باس جیسے مشہور زمانہ پروگرام میں حصّہ لینے سے لے کر برہنہ تصاویر تک وینا نے کسی نہ کسی طرح خود کو خبروں کی زینت بنا کر رکھا ہے.  آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں محمّد آصف کو بھول گی ہوں یا مولانا طارق جمیل کے حوالے یاد نہیں لیکن وہ میری بات کا مقصد نہیں. حیرانی مجھے تب ہوئی جب میں نے وینا کو عبایا میں لپٹا دیکھا. 

آخر یہ اچانک بدلاؤ کیوں وہ بھی شادی کے بعد؟ کیا ان دونوں عورتوں کی اپنی کوئی شناخت نہیں تھی اس سے پہلے؟

اس سوال کے بعد میں نے اپنے اطراف میں نظر دوڑائی تو جواب میرے سامنے تھا.

ہم ایک ایسا  معاشرہ ہیں جہاں کردار سے زیادہ دکھاوے کی قدر و قیمت ہے. ہم نے مذہب کو اور اس کے احکام کو گنگا کا پانی سمجھ لیا ہے.
میرے اس اعتراض پر کافی زبانی لبرل اور سیکولر لوگوں کا کہنا ہے کہ خدا نے ان عورتوں کو ہدایت دی ہے اور آپ بےپردگی کا دفاع نہ کریں.

با پردہ، بے پردہ، یا برہنہ......یہ سب مقصد ہی نہیں.
بات یہ ہے کہ ایک کامیاب، پڑھی لکھی، دنیا کو پرکھنے اور جانچنے والی عورت کو پاکستانی معاشرے میں اپنی جگہ بنانے کیلئے اپنی شناخت کیوں چھوڑنی پڑی ؟ 
رحام خان کیا ان عام لڑکیوں، عورتوں کی طرح نہیں رہ سکتی تھی جو انقلابی دھرنے میں شرکت کے لئے آتی تھیں؟
کیا رحام ڈان نیوز کا شو ویسے ہی کریں گی جیسے پہلے کرتی تھیں؟

کیا وینا ملک عام حلیے میں رہ کر خود کو اچھی بیوی اور ماں ثابت نہیں کرسکتی؟

جانتے ہیں ایسا کیوں ہوا؟
کیوںکہ میں اور آپ قاضی شہر بن گئے ہیں. اب ہم بتایئں گے کہ ان عورتوں کو اپنا آپ بےداغ ثابت کرنا پڑے گا اور اسکا پہلا قدم ہے سر ڈھانکنا.

شادی سے پہلے عمران خان یا اسد بشیر خان اپنی اہلیاؤں کو نہیں جانتے تھے؟ کیا انہوں نے ان عورتوں کو اس لئے پسند کیا تھا کیوںکہ وہ سر ڈھانکتی تھیں یا خود کو چادر میں لپٹتی تھیں؟
یقینن نہیں!
اہیمیت ان خواتین کی پہچان کی ہے، ان کے ذہنی خدوخال کی ہے. 

پاکستانی مسلمانہ مردانہ سوچ وہیں کپڑے اتار کر کھڑی ہوجاتی ہے جب وہ چہرے کی جگہ آپ کی ہر اٹھان دیکھنے کی کوشش میں ہوتے ہیں. لیکن قصور تو عورت کا ہے جو بنا دوپٹتے یا جینز میں آپ کی مردانگی جگانے آگئیں 
ایسے موقعے پر پیٹ میں داڑھی رکھنے والے حضرات آپ کے باپ، بھائی ، شوہر کی غیرت کو للکارنے سے بھی باز نہیں آیں گے.

پاکستان ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں عورت ہونا روز کی نوکری ہے. آپکو روز یاد دلایا جائے گا کہ عورت ہونا کتنا غیر محفوظ اور نامکمل ہے جب تک آپ کے پاس پردے اور محرم جیسا محافظ نہیں.

اس ملک کو انقلاب کی نہیں تہذیب کی ضرورت زیادہ ہے. 

اگر ہم واقعی ایک ترّقی پسند ملک اور معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں ان لبادوں سے باہر نکلنا ہوگا اور ہر انسان کو چاہے مرد ہو یا عورت اسکو عمل کی قید سے آزاد کرا کر اسکی شناخت لوٹانی ہوگی.