Showing posts with label social. Show all posts
Showing posts with label social. Show all posts

Jul 10, 2020

"شوہرکو چھوڑ دو!"

Originally published here NayaDaur Urdu


پچھلے چوبیس گھنٹے سے سوشل میڈیا پر ایک خبر زور و شور سے گردش کر رہی ہے جس میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک خود ساختہ صحافی، ٹی وی پروڈیوسر نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کا قتل کردیا ہے. 

یہ قتل ٢٩ جون کو ہوا تھا اور مقتولہ کی بہن کے مطابق، ان کی بہن ظالمانہ گھریلو تشدد کا شکار تھی. یوں تو قتل کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ابتدائی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے معلوم پڑتا ہے کہ موت گلا دبانے سے ہوئی تھی.

ظلم، تشدد، قتل، خودکشی، یہ کچھ بھی مملکت خداداد میں نیا نہیں ہے. 

سنہ ٢٠١٨ میں ہونے والی Thompson Reuters سروے کے مطابق پاکستان عورتوں کے لئے دنیا کا چھٹا خطرناک ملک ہے. اس خطرے کی بنیادی وجہ عزت کے نام پہ قتل، ریپ، اور گھریلو تشدد ہے. 

ایسے تمام واقعات جب سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آتے ہیں توعمومی طور پر لوگ اپنی دانست میں، شدید جدّت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لڑکی کو شوہر کو چھوڑ دینا چاہئے تھا. 

کیا ہمارے معاشرے میں شوہر کو چھوڑنا اتنا آسان ہے؟
نہیں !

ہمارے معاشرے میں لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اس کی بنیادی تربیت اس طرز پہ کی جاتی ہے کہ اس کو کل کو 'دوسرے'  گھر جانا ہے. ایسی معاشرتی روایات اور اصولوں پہ پروان چڑھنے والی بچیوں یا خواتین سے یہ امید کرنا کہ انہوں نے شوہر کے غلط روّیے کے باعث 'گھر کیوں نہیں چھوڑ دیا؟' انتہائی بیوقوفانہ امید ہے.

بچیاں بچے، کم عمری سے ہی اپنے آس پاس کے ماحول کو اپنانے لگتے ہیں جہاں وہ عورت کو چولہے چکّی میں پستا، باپ سے پٹتا، گھر والوں سے کوسنے سنتے، بزرگوں سے صبر کی تلقین اور ہر طرح کی قربانی کا واعظ سنتے ہیں.

خصوصی طور پی لڑکیوں کو شروع سے جھکاؤ سکھایا جاتا ہے. بھائی چھوٹا بھی ہو تو رعب دبدبہ بڑوں والا ہوگا. باپ کا غصہ ٹھنڈے پانی کی طرح پی جانے کا حکم ہوگا کیوںکہ وہ تمہاری دال روٹی کا مالک ہے. حد تو حد، اگر کوئی اولاد اپنے ساتھ ہونے والی کسی قسم کی زیادتی، بشمول جنسی، کی شکایات کردے تو اس کو خاموشی کا درس سکھایا جاتا ہے.

ہم نے تو اپنے بچوں کو بھی وہ محفوظ گھر نہیں دیا جہاں انکی چیخ سنی جا سکے، جہاں انہیں رشتوں پر اعتبار ہو کہ وہ ان کے حقوق کا استحصال نہیں کریں گے. 

ایسے ماحول میں ہم ایسا کیسے سوچ لیں کے صدیوں کی روایات اور بوسیدہ اقدار کو ایک کمزور عورت للکارنے کی جرّت کرے گی.

لڑکیوں کو یہ تو سکھایا جاتا ہے کہ انہوں نے دوسرے گھر جانا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ اس گھر سے واپس بھی آسکتی ہے. ہم انہیں ان کی ذات کی نفی سکھا کر ، شادی قائم رکھنے کے بہترین سماجی ٹوٹکے بتاتے ہیں. حالانکہ بتانا یہ چاہئے کہ یہ نکاح نامہ ہے، تمہاری موت کا پروانہ نہیں ہے.

طلاق، جو کہ ایک مذہبی اور معاشرتی حق ہے، اس کو کالا دھبّہ بنا کر اپنے والدین ہونے کا بھرپور ثبوت دیتے ہیں. اس تربیتی طرز کے علاوہ بھی سینکڑوں ایسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر لڑکیاں گھر واپسی کا راستہ نہیں چنتی ہیں، بلکہ زندہ یا مردہ بیاہتا قبر میں دفن ہوجاتی ہیں. 

پہلی اور سب سے اہم وجہ ہے مضبوط تعلیم!
گھر میں اگر ٤ بچے ہوں تو سب سے زیادہ تعلیم کا دھیان لڑکے کی جانب جاتا ہے. اسے مہنگے سکول میں ڈالا جاتا ہے، پروفیشنل ڈگری دلوائی جاتی ہے، کیوںکہ اس نے بوڑھے ما باپ کا سہارا بننا ہوتا ہے. دوسری جانب لڑکیوں کو زیادہ سے زیادہ BA پاس کروا کر شادی کے پلو میں بندہ دیا جاتا ہے کہ تم اب اپنے شوہر کی ذمے داری ہو. 

جب لڑکی نے دنیا داری تو سیکھی ہو لیکن دنیا نہ دیکھی ہو تو اس کے اندر خود اعتمادی کا شدید فقدان ہوتا ہے اور یوں وہ مکمل طور پر شوہر کے رحم و کرم پر ہوتی ہے. ماں باپ اپنی بیٹیوں کو تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم کرکے چار ثواب زیادہ نہیں کمائیں گے. 

اب آپ کہ ذہن میں آئے گا کہ پھر پڑھی لکھی عورتیں کیوں پرتشدد زندگی سہتی ہیں؟ اس کا جواب ہیں آپ اور آپ کا بنایا ہوا کھوکھلا سماج!

سال ٢٠٢٠ ہے، لیکن پاکستانی ڈراموں میں ابھی بھی طلاق ایک انتہائی ممنوع فعل ہے. حالیہ ہی ایک ڈرامے میں دکھایا جارہا ہے کیسے ایک لڑکے کی ماں اپنے پڑوس کی لڑکی پر پہلے الزام لگاتی ہے کہ وہ اس کے معصوم بیٹے کو پھنسا رہی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتی ہے کہ "میرے بیٹے کے لئے طلاق یافتہ ہی رہ گئی ہے؟"

جب لاکھوں لوگ پرائم ٹائم میں بیٹھ کر یہ ڈرامہ دیکھیں گے تو ان کے ذہن طلاق یافتہ عورت ایک گالی کی صورت ابھرے گی. 

آج بھی برصغیر میں شادی بیاہ، بچے کی پیدائش جیسے خوشی کے موقعے پر طلاق شدہ اور بانجھ عورتوں کو دلہن سے فاصلے پر رکھا جاتا ہے کہ کہیں اس کا 'منحوس' سایا نو بیاہتا پر نہ پڑ جائے. سننے میں یہ باتیں زمانہ قدیم کی لگتی ہیں لیکن یہ ہیں اسی جدید اکیسویں صدی کی باتیں.

سماجی بے دخلی یا در بدری ایک بہت بڑی وجہ ہے جو عورتوں کو بے وفا،ظالم،یا فحش شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبورکردیتا ہے. ہمارے سماج میں مرد کتنا ہی ناکارہ کیوں نہ ہو، اسکا نام عورت کے ساتھ ہونا چاہئے. 

اگر کوئی عورت طلاق یا شوہر سے علیحدگی سوچ بھی لیتی ہے تو اس کے دل میں طرح طرح کے خوف ڈالے جاتے ہیں. جیسے.....

-- بھابھی کے ساتھ رہو گی؟
-- بوڑھے ماں باپ خاندان میں کیا منہ دکھائیں گے؟
-- چھوٹی بہنوں کا رشتہ کیسے ہوگا؟
-- بچے اکیلے پال لو گی؟
-- کل کو بیٹی کے سسرال والوں سے کیا کہو گی؟
-- اکیلی عورت کی کوئی عزت نہیں ہوتی. سوچ لو؟

قصّہ مختصر، طلاق کو تیسری عالمی جنگ کا درجہ دے دیا جائے گا. اس بیچاری عورت کو لگے گا اگر اس نے طلاق لی یا دی تو حضرت اسرافیل صور پھونک دیں گے.

اب آپ ہی بتایئں، کون عورت اپنے سر یہ گناہ لے گی؟

اکثر لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ پسند کی شادی کا نتیجہ ہمیشہ برا ہوتا ہے جیسا لاہور کے صحافی کی بیوی کے ساتھ ہوا.

اصل میں یہ تمام باتیں ایک سوچی سمجھی، سماجی منصوبہ بندی ہے جس کا بنیادی مقصد عورت کو بندی نہیں بلکہ باندی بنانا مقصد ہے.اس منصوبہ بندی کا سہرا یوں تو پدر شاہی کو جاتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس میں عورت کا کردار بھی ہے جیسے ماں، ساس، نند، بہنیں،خالہ، پھوپھی، جیٹھانی، دیورانی، بھابھی، اور محللے والیاں بھی......یہ وہ زنانہ رشتے ہیں جن میں مردوں سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے تو وہ نظام میں رہ کر نظام کا ساتھ دیتی ہیں.

ایسی کوئی تحقیق نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ شادی اگر والدین کی مرضی سے ہوگی تو کامیاب ہوگی. کامیابی کا انحصار آپ کی پسند پر نہیں ہے. 
شادی والدین کی پسند سے ہو یا اپنی پسند سے، واپسی کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہونا چاہئے اور کھلے دل سے ہونا چاہئے.

پاکستان میں سماجی فقدان کے ساتھ ہی حکومتی منصوبہ بندی بھی ناکام ہے. ملک میں تقریبآ ایک تہائی کیسز گھریلو تشدد سے جڑے ہوتے ہیں لیکن بمشکل صرف ١-٢.٥% ہی قانونی انجام کو پہنچتے ہیں. ہمارے ملک میں عورتوں کے لئے پناہ گاہوں کی کمی ہے اور جو ہیں وہاں وہ محفوظ نہیں ہیں.

اس کے ساتھ ہی قانونی چارہ جوئی ایک انتہائی مشکل کام ہے. ہمارے معاشرے میں تھانہ کچہری کرنا شرمندگی کا باعث بنتا ہے بھلے قصور سامنے والے کا ہو. ہم بیٹی پر چار لات گھونسیں برداشت کرلیں گے لیکن تھانے جا کر رپورٹ نہیں کریں گے. جو رپورٹ ہو بھی گئی، تو ایک بار پھر قانون آپ کو تاریخوں کے لئے دوڑائے گا.

مضبوط قانونی نظام اور سماجی و اخلاقی حمایت  کی کمی ہماری عورتوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ دنیا چھوڑ دیتی ہیں لیکن 'شوہر کا گھر' نہیں چھوڑتی ہیں.  












May 11, 2020

تئیس ہزار کا دوپٹہ، تین ٹکے کی غربت

 Originally published here HumSub

چند روز پہلے، سوشل میڈیا پر ایک ٹوئیٹ نے کافی شور مچا رکھا تھا جس میں درخت کی شاخ پر دو دوپٹے لہرا رہے تھے. عمومی طور پر شاخ پر الّو بیٹھتا ہے لیکن یہاں الّو بنانے والے دوپٹے تھے.

  
اس ٹوئیٹ کو لکھنے والے خود بھی ایک بہترین فوٹوگرافر ہیں اور انہوں نے نہ صرف دوپٹے کی قیمت پر ہم غریبوں کا دھیان کروایا بلکہ یہ بھی بتلایا کہ یہ کس قسم کی تصاویر ہیں. مجھے لگتا ہے اوسط درجے سے نیچے کی ہونگی کیوںکہ الّو کی آرامگاہ کو آپ نے ململ کے دوپٹے کی آماجگاہ بنا دیا. 

خیر، بندر کیا جانے ادرک کا سواد!

ہم ٹھہرے مڈل کلاس اور ہمارے پاس اس دور میں اگر اضافی ٢٠ ہزار آ بھی جاتے تو ہم اسے درخت پر لٹکانے کے بجاۓ کسی غریب کا راشن ڈلوا دیتے، کرایہ دے دیتے، بل یا فیس بھروا دیتے. 

پہلے پہل ہمیں لگا کہ کون اس قسم کے واہیات مہنگے دوپٹے خریدے گا جن میں نہ تو سونے کے تار کا کام ہے، نہ فیروزے یاقوت کا جڑاؤ ! جب آس پاس دیکھا تو پتہ چلا پاکستانی قوم جوش و خروش سے عید منانے کا ارادہ رکھتی ہے اور کیوںکہ موسم گرما ہے تو ایسے جا بجا ڈیزائنر ہیں جو ململ اور سوتی کی قمیضیں ہزاروں میں بچ رہے ہیں اور خواتین لہک لہک کر خرید بھی رہی ہیں.

غلطی سے ایسی ہی ایک خاتون کو ہم نے عادت سے مجبور ہو کر ٹوک دیا کہ دور خراب ہے، وبا پھیلی ہوئی ہے، لوگوں کے پاس اگلے وقت کا کھانا نہیں ہے، تو وہ کیوں ١٥ ہزار کا جوڑا لے رہی ہیں؟ جواب آیا انہوں نے اپنے حصّے کی زکوة اور فلاحی کام انجام دے لئے ہیں.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف اپنے حصّے کا فلاحی کام کردینا کافی ہے؟ کیا اصراف کی کوئی پوچھ نہیں ہے؟ کیا ہم ایک سال عید پر بنا نئے جوڑے کے نہیں رہ سکتے؟

دسمبر ٢٠١٩ میں،ماہراقتصادیات ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق پاکستان جون ٢٠٢٠ تک غربت کی چالیس فیصد سے اوپر کی سطح پر موجود ہوگا. اس کے نتیجے میں تقریباً ستاسی ملین لوگ غربت کی زندگی گزاریں گے. یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام تجزیہ نگاری، کورونا وائرس پھیلنے سے پہلے کی ہے. 

اس عالمی وبا سے تیسری دنیا کے ممالک کی اقتصادی حالت شدید کمزور ہوگئی ہے. آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر Ian Golding کا ماننا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا ہماری زندگی کی سب سے بڑی آفت ہوگی جس کا براہ راست اثر ترقی پذیر ممالک پہ ہوگا. خصوصی طور پروہاں رہنے والوں کی صحت اور معاشی حالت اثر انداز ہوگی.  


اس وقت ملک میں جہاں ایک طرف لاک ڈاؤن کو کھولنے کی بات ہو رہی ہے تو دوسری طرف اس سے ہونے والے نقصانات کا بھی ذکر ہے. ان سب کے بیچ آپ کو ملے گا سرمایہ دار نظام اور مادیت پسندی!

کورونا وائرس کے نتیجے میں بازار بند ہونے کے باعث تمام برانڈز اور ڈیزائنر نے آن لائن شاپنگ میں شدید تیزی پیدا کردی ہے. عام دنوں میں مارچ اپریل کے مہینے میں Spring/Summer Vol. 1 آیا کرتا تھا جو اس بار بھی آیا لیکن تیس سے چالیس فیصد چھوٹ کے ساتھ! جو پیسے عوام نے سیل کے نام پر وہاں بچاۓ، وہ اب عید کے جوڑوں پر خرچ ہونگے. 

پچیس ہزار، اٹھارہ ہزار، اور کم سے کم گیارہ ہزار کے عید کے جوڑے دیکھے گئے ہیں جو لوگ آرڈر بھی کر رہے ہیں، سلوا بھی رہے ہیں، اور یقیناً عید پر پہنے بھی جائیں گے. اب دیکھیں نا غریب ویسے بھی پچیس ہزار کا کیا کرے گا؟ وہ تو بمشکل روز کا آٹھ سو یا ہزار کما لیتا تھا. 

آپ لوگ امیروں سے جلتے ہیں. اب دیکھیں اگر آپ نے بھی کسی غریب کا حق مارا ہوتا، کم سے کم اجرت پر مزدوریاں، کاری گری کروائی ہوتی، تازہ کی جگہ جھوٹا کھانا دیا ہوتا، کم عمر سے گھر کا جھاڑو پوچھا لگوایا ہوتا تو آج آپ بھی پچیس چھوڑیں، پینتیس ہزار کا جوڑا پہنتے!  

دنیا نے بہت ترقی کرلی ہے اور ہمارے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم آپس میں جڑے ہوئے ہیں. ہمارے سیاسی، معاشی، مذہبی، یا فقہی اختلافات کرونا وائرس کی وبا کے آگے بے معنی ہیں. غربت جرائم کو جنم دیتی ہے. اس لئے بہتر ہوگا، ہم غربت کی نشونما کا حصّہ نہ بنیں اور اپنی دولت اور آمدن کو مساوات کے ساتھ استعمال کریں.......اس تئیس ہزار کے دوپٹے کو کسی کی موت اور بھوک کا پھندا بننے کا موقع نہ دیں. 


Nov 14, 2019

ہجرت کا درد

Originally published here NayaDaur Urdu

اماں کوئی سترہ سال کی ہونگی جب وہ ایک دن سکول سے گھر واپس آئیں اور میری نانی نے ان کو بتایا کے ان کی منگنی ہوگئی ہے. اتفاقاً، ابّا کے چچا اور میرے نانا دوست تھے اور انہوں نے سوچا کیوں نہ اس عظیم دوستی کو ایک ارینج رشتے داری میں تبدیل کردیا جائے. میرے ابّا تب کوئی پچیس سال کے تھے اور ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے. گھر بار ہندوستان میں، لیکن نوکری کا جنجال بنگال میں تھا. 

الله الله خیر سلا، مارچ '٧١ میں اماں نے ابّا کے نام کی انگوٹھی پہن لی، اور حالات کو کروٹ لیتے دیکھنے لگی. 

یہی وہ مہینہ بھی تھا جب پاکستانی افواج نے ڈھاکہ میں آپریشن سرچ لائٹ کا آغاز کیا تھا اورشیخ مجیب ارحمن کو گرفتار بھی اسی دوران کیا گیا تھا. آج بھی سقوط ڈھاکہ کی تاریخ اور بنگلادیش کی آزادی کی تاریخ مختلف ہے.

حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے میرے نانا نانی نے اماں ابّا کی شادی عجلت میں اسی سال اگست میں کردی. ماں باپ کو لگا لڑکی اپنے گھر کی ہوگی تو عزت کم خطرے میں رہے گی. مگر یہ خام خیالی تھی !

مارچ کی آزادی سے سقوط ڈھاکہ تک، مشرقی پاکستان میں ایک عجیب تلاطم تھا. قتل و غارت اور جنگی حالات روز مرہ کا معمول تھے. عورتوں، بچیوں کا گھر سے نکلنا تقریباً بند تھا. چند عقلمند لوگ تھے اور حیثیت بھی رکھتے تھے، انہوں نے سقوط کا انتظار نہ کیا بلکہ بذریعہ نیپال، لندن چلے گئے. پھر وہاں سے کراچی کوچ کیا.

جنہوں نے اچھے وقت کی امید اور انتظار کیا، وہ جنگی قیدی بن گئے جیسے میرے اماں ابّا اور ڈھیروں دوست، رشتےدار، پڑوسی وغیرہ.  

قیدی بننا تو بعد کا ظلم تھا، میری اماں اس سے پہلے ایک اور ظلم سہہ رہی تھیں لیکن شور کرنے یا ماتم منانے کا وقت نہ ملا. میری نانی  انھیں شب و روز کے ہنگاموں میں ایک روز اپنے ٨ سالہ بھانجے کے ساتھ پڑوس میں جانے کو نکلی اور پھر کبھی واپس نہیں آئیں. میرے نانا کئی سال وہیں گزرے، آبائی لوگوں کی مدد سے بہت ڈھونڈا مگر سب بے-سود!

آج بھی میری اماں اکثر مجھے کہتی ہیں کہ تمہاری نانی میرے خواب میں کیوں نہیں آتیں؟ کیا معلوم وہ زندہ ہوں؟ کیا وہ مجھ سے ناراض ہیں؟
حد تو حد ہم نے آیت اللہ سے بھی پوچھوا لیا کہ نانی خواب میں کیوں نہیں آتیں؟ وہ بھی جواب دینے سے قاصر رہے.

ہم آج بھی فاتحہ درور کرتے ہیں مگرمیری ماں نے اپنی ماں کا چہرہ دیکھے بغیر انہیں مردہ تصور کرلیا ہے اور اسکا درد انھیں آج بھی ہے. جنگ بنجر کردیتی ہے.....اس زمین کو بھی جہاں اسکا خون بہا اور ان کا بھی جو کبھی اس زمین کے باسی تھے.

راتوں رات گھر گلیاں چوبارہ سب چھوڑا. قیدی بننے سے پہلے اتنی بھی مہلت نہیں ملی کے اپنے بچپن، لڑکپن، اور جوانی کو الوداع کہتے یہ لوگ! 

اماں ابّا کو لگا چلو جب سب ٹھیک ہوجاۓ گا تو گھر واپس آجاییں گے. ان کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا اب جو گئے تو اجنبی ہوگئے. نئے نویلے دولہا دلہن نے فوجی ٹرک میں اپنی ہجرت کا آغاز کیا. لوگوں کے پاس ان کے والدین کی نشانیاں ہوتی ہیں جیسے شادی کا جوڑا، کوئی پشتینی زیور، یا کوئی بھی اور ایسی چیز جو نسل دار نسل یاد کے طور پر منتقل ہوتی ہے.

مجھے میری اماں سے بس قصّے اور یادیں ملی. وہ سب کچھ جو انہوں نے ہمارے بڑے ہونے پر ہمیں بتائی.

میرے ابّا تو بمشکل ہی بات کرتے ہیں ان ٢٢ مہینوں کے بارے میں جو انہوں نے قید میں گزارے، یا وہ وقت جو انہیں کیمپ تک پہنچنے میں لگا، یا پھر وہ سب کچھ جو انہوں نے ڈھاکہ چھوڑتے وقت دیکھا. بزرگ کہتے ہیں، ہم نے جوان بچیوں کو کنویں میں کودتے دیکھا، نالیوں سے خون بہتا دیکھا، اور تو اور سقوط میں الجھے انسانوں کو بچھڑتے اجڑتے دیکھا.

'٧١ دسمبر کو جو شہر چھوڑا تو پھر کبھی واپس نہیں گئے!

میں نے اکثر خود کو رکھ کر سوچا کے کوئی مجھ سے میرا کراچی چھین لے، یا مجھے کہے اب یہ تمہارا گھر نہیں تو مجھے یقین ہے کہ میرا دل بند ہوجاۓ گا. جس شہر نے میرا وجود، میری شخصیت سینچی، وہ دھڑکن کا ایک حصّہ ہوتا ہے. میں کہیں بھی گئی، اس امید سے گئی کہ گھر تو کراچی ہے. 

ایک میں ہوں جو سوچ بھی نہیں سکتی اور ایک مہاجرین ہیں جن کے پاس واپسی کا راستہ ہی نہیں. جن کی یادوں پر خون کے دھبّے اور چیخوں کا دھمال ہے.

 چند روز پہلے جب کرتارپور بارڈر کی تقریب دیکھی، اور اس سے جڑی خبریں جہاں لوگ ایک دوسرے سے ملنے بارڈر پار آئے ہیں، تو میں نے مجبوراً سوچا کہ اماں سے پوچھوں اگر وہ ڈھاکہ چلنا چاہیں گی؟

اماں نے کہا، "بیٹا، اس بڑھاپے میں اتنی ہمّت نہیں کہ اس یاد سے پھر گزریں."

میری اماں کا آبائی گھر اب ایک بڑے شاپنگ مال میں تبدیل ہوگیا ہے. آس پاس کی گلیاں، علاقے، محلے، سب بدل گیا ہے. کچھ نہیں بدلہ تو میرے والدین کے اندر ہجرت کا درد!
  







Sep 30, 2019

چاۓ کا کپ اور صبین محمود


گزرے ہوئے اتوار کی صبح، میں جلدی جلدی تیار ہوئی اور اپنی دوست کے ساتھ کراچی شہر کے کیپری سنیما پہنچی. وہاں  جرمن گوئتھے انسٹیٹیوٹ کی جانب سے صبین محمود پربنی ڈوکمنٹری فلم  دکھائی جارہی تھی.

ڈوکمنٹری کے اختتام پرمیں اور میری دوست خاموشی سے ہجوم سے الگ ہو کر باہر آگئے.ایک طرف خوشی اس بات کی تھی کہ صبین کو یاد کرنے والے ہیں دنیا کے ہر کونے میں ہیں اور ان میں سے ایک ہیں اس  ڈوکمنٹری فلم  کی ڈائریکٹر شوکوفی کامیز. دوسری جانب دل میں ایک سوال آیا کاش کسی ہم وطن نے صبین محمود کو یہ نذرانہ پیش کیا ہوتا.     

 صبین محمود کا جب ٢٤ اپریل، ٢٠١٥ میں قتل ہوا تھا تو ملک کا ہر ذی شعور انسان سوالیہ نشان بنا ہوا تھا. یہ سوال اس ڈوکمنٹری کی اسکریننگ کے بعد ایک بار پھر تازہ ہوگیا. 

سنہ ٢٠١٥ میں سائبر کرائم بل پاس ہونے کے بعد کئی ایسے موضوعات ایسے تھے جن کے بارے میں گفتگو کرنے سے بڑے بڑے اداروں نے بھی معذرت کرلی تھی. ان میں سے ایک موضوع تھا "بلوچستان".

صبین کا قتل اس سیمینار سے واپسی پر ہوا جس کا موضوع "unsilencing balochistan" تھا. یہ سیمینار کوئی ہفتہ بھر پہلے، پاکستان کی ایک پائے کی یونیورسٹی نے کرنے سے انکار کردیا تھا، لیکن صبین محمود نے اپنے کیفے T2F میں اس کو آواز دی. 

افسوس، اس سیمینار کے فوراً بعد ہی صبین محمود ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئیں.

کراچی نے ٹارگٹ کلنگ کے نام پر کئی گوہر نایاب کھوۓ ہیں. پروین رحمان، علی رضا عابدی،امجد علی صابری، خرّم زکی، اور صبین محمود ان میں سے چند ایک نام ہیں. یہ تمام نام دن دہاڑے، کراچی میں سچ بولنے یا اس کی پیروی کرنے کے جرم میں قتل ہوئے. غور کیا جاۓ تو ان تمام لوگوں میں ایک بات مشترکہ تھی اور وہ تھی "بے خوفی"!

 سنیما کی دوسری جانب ایک چائے کا ہوٹل تھا لیکن اس تک جانے کے لئے ہمیں انتہائی ٹوٹی پھوٹی سڑک پار کرنی پڑی، گٹر اور بارش کے پانی کو پھلانگ کر ہوٹل تک جانا ہوا.





ہم نے دو چائے منگوائی اور کھنڈر سے بدتر سڑک دیکھنے لگ گئے. میں اور میری دوست دونوں ہی ملک سے باہر ایک عرصہ گزار چکے ہیں لیکن اس وقت ڈھابے پر بیٹھے ہم نے یہی سوچا کہ اپنا شہر پھر اپنا ہوتا ہے. ہم اس کو اس کی تمام تر کمی اور کم ظرفی کے باوجود اپنا مانتے ہیں. 

جانے کہ ایک گھونٹ میں ہی یہ بات صاف دکھنے لگی کے خوف سے بھاگ کر جینا بھی کوئی جینا ہے.صبین محمود اپنے اطراف کے خطروں سے واقف تھیں لیکن نہ ہی اپنے لئے محافظ رکھے، نہ  پھونک پھونک کر قدم اٹھایا اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کوچ کیا. 

یہ وہ لوگ تھے جو اپنے شہر کو اپنا گھر سمجھتے تھے، اپنے ملک کو اپنا محافظ مانتے تھے. صبین کو قتل کرنے والے اس بات سے ناواقف تھے کہ جسم چھلنی کر سکتے ہیں لیکن خیال نہیں!

صبین کی سوچ آج بھی ان کی والدہ اور دوستوں کے زریعے PeaceNiche اور T2F کی صورت میں زندہ ہے. امید ہے کہ کبھی نہ کبھی تو میرے لوگ آزادی کو آزاد کریں گے، اور برابری کے حقوق کا آغاز کریں گے.



کب نظر میں  آئے  گی  بے داغ  سبزے  کی  بہار
خون کے دھبّے دھلیں گے، کتنی برساتوں کے بعد  
                                                                              (فیض)


Sep 7, 2019

شیعہ سکاؤٹس - گمنام سپاہی

Originally published here NayaDaur Urdu



میں کراچی کے ایک مرکزی امام بارگاہ میں پچھلے ١٥ سال سے مسلسل مجلس سننے جاتی ہوں. کل جب لاؤڈ سپیکر خراب ہوگیا میری سڑک کی طرف والا تو میں نے ایک چودہ پندرہ سال کے بچے کو روکا اور پوچھا، "بیٹا سپیکر تو کھلوا دو." 
اس بچے نے بڑی عاجزی سے مجھے کہا "آنٹی، بارش کی وجہ سے تار خراب ہیں. ہم کام کر رہے ہیں. آپ سے معذرت."

یہ بچہ ایک "سکاؤٹ" تھا!
تمیز، تہذیب، صبر، عاجزی، اور نظم و ضبط کی بہترین مثال اگر دیکھنی ہو تو پاکستان سکاؤٹس کے شیعہ رضاکاروں کو دیکھئے. 

 پاکستان میں پورے ملک سے اس وقت تقریباً آٹھ لاکھ سے اوپر رجسٹرڈ سکاؤٹس ہیں جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں. 

 شیعہ سکاؤٹ بالخصوص محرم اور صفر کے مہینے میں متحرک ہوجاتے ہیں اور جذبہ حسینی کی خاطر رضاکارانہ طور پر مجلس جلوس میں انے والے عزاداروں کی خدمات میں کوشاں ہوتے ہیں.  

٩/١١ کے بعد دنیا میں جو تبدیلیاں آئیں وہ الگ، لیکن جو نقصان اور خطرہ پاکستان کی شیعہ برادری نے مول لیا وہ الگ.

سب سے زیادہ آسان اور کھلا ہدف محرم کے جلوس اور مجالس ہوتی ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں حضرت امام حسینؑ کے ماننے اور چاہنے والے جمع ہوتے ہیں. ایسی جگہوں کو محفوظ بنانا یقینن ایک انتہائی مشکل کام ہے جو اکیلے پاکستان کے حفاظتی ادارے جیسے آرمی، رینجرز، اور پولیس نہیں کر سکتی. 

ایسے وقت میں شیعہ سکاؤٹس - رضاکار عوام اور اداروں کے بیچ میں رابطے کی صورت اختیار کرتے ہیں. کوئٹہ ہو یا کراچی، گلگت ہو یا پاراچنار، یہ رضاکار اپنی جان ہتھیلی پر لئے، تمام خطرات سے اگاہ ہوتے ہوئے بھی عزادار حسینی کی حفاظت کو اولین فرض سمجھتے ہی.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان سکاؤٹس کی حفاظت کے لئے بھی کوئی اقدامات ہیں؟

سرور حسین (سردار) صاحب ١٩٧٧ سے پاکستان سکاؤٹس کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس وقت سندھ سکاؤٹس کے محرم کوارڈینیٹر اور کراچی اوپن ڈسٹرکٹ کے رجسٹرار  بھی ہیں. سردار صاحب کا ماننا ہے کہ سکاؤٹس ایک رضاکارانہ خدمت ضرور ہے لیکن اچھا ہوگا اگر مختلف سکاؤٹس انجمن گروپ کی صورت میں لائف انشورنس یا میڈیکل انشورنس جیسی سہولیات کا سوچیں.

سردار صاحب کے مطابق محرم سے پہلے سندھ رینجرز، اور سندھ پولیس سکاؤٹس کو ممکنہ ٹریننگ دیتی ہے جس میں بم ڈسپوزل، دہشت گردی کا حملے کی روک تھام اور چیکنگ وغیرہ شامل ہوتی ہے. 

کراچی کے مرکزی جلوسوں میں حملے میں شدید جانی نقصان اٹھایا ہے. اس میں کئی سکاؤٹس کے جوان بھی تھے جو ماتمین کی حفاظت کرتے ہوۓ شہید ہوگئے. 

زین، ٢٩ سال کے ہیں، ٢ بیٹیوں کے باپ، اور کراچی میں ایک جانے مانے امام بارگاہ میں ١٢ سال سے سکاؤٹ کی خدمات انجام دیتے ہیں. زین کا کہنا ہے کہ کیا ہی اچھا ہو اگر سکاؤٹس اور ان سے منسلک انجمن کو چندے کی صورت میں عزادار بھی مدد کریں. اس سے حفاظتی اقدام لینے میں آسانی ہوگی. 

زین کہتے ہیں، جو پیسہ چندے کی صورت جمع ہوگا وہ سکاؤٹس کی ٹریننگ اور حفاظتی اقدام پر استعمال ہوگا، کیوںکہ جان سب کی قیمتی ہے.  

دوسری جانب سید عظیم ہیں جو ٥ سال کی عمر سے العباس سکاؤٹس کراچی، سے منسلک ہیں. عظیم کا ماننا ہے کہ انہوں نے پچھلے ١٥ سالوں میں سکاؤٹس کو اپنی مدد آپ ک تحت بہتر ہوتے دیکھا ہے. امام بارگاہوں میں بہتر سیکورٹی آلات نصب کرنا، حفاظتی اداروں کے ساتھ مل کر نت نئی حفاظتی طریقے کار کا اقدام کرنا. یہ سب سکاؤٹس اب اور زیادہ دھیان اور جذبے سے کرتی ہے کیوںکہ عزادار حسینی کا ان پر اندھا اعتماد ہے.

پاکستان شیعہ سکاؤٹس آپ کو بلا کسی غرض کے کام کرتے نظر آئیں گے. چاہے وہ کراچی کی تیز بارش ہو، یا گلگت کی برفباری. شیعہ سکاؤٹس کی تربیتی اقدار باقی تمام سکاؤٹس سے قدرے مختلف ہیں. 

انہیں معلوم ہوتا ہے کے یہ جلوس کے سامنے چلتے ہوئے جایئں گے لیکن شاید واپس نہ آئیں. ہو سکتا ہے حفاظتی چیکنگ کرتے ہوئے کوئی خودکش ان سے لپٹ جائے اور ان کا جنازہ بھی سلامت گھر نہ پہنچے.

کیا ان سب باتوں کے باوجود، کبھی کسی گھر والے یا پیاروں نے ان کو روکا خدمات حسینی سے؟

فروا کے والد صاحب کراچی کی مختلف سکاؤٹ انجمن کے ساتھ منسلک رہے اور کراچی میں ہونے والے دھماکوں اور تباہی کے عینی شاہد تھے. فروا کہتی ہیں، شہادت ہماری عقیدت کا بنیادی حصہ ہے. ہم کسی کو اس سے روک نہیں سکتے اور نہ ہی اس کام کے لئے اپ کبھی کسی سکاؤٹ کو پیچھے ہٹتا دیکھیں گے. ہر دہشت گردی کے حملے کے بعد، شیعہ برادری اور زور و شور سے آگے آتی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ہم کفن پہن کر گھر سے نکلتے ہیں. 

"گھر والے بس گاہے بگاہے فون کرتے ہیں اور محفوظ رہنے کا کہتے ہیں." 
عظیم جو کراچی میں تو سکاؤٹس کی خدمات انجام دیتے ہی ہیں، ساتھ میں عراق میں بھی عاشورہ اور اربعین کے رضاکار ہیں. ان کا ماننا ہے کہ آپ کسی کو اس نیک عمل سے روک نہیں سکتے. 

دوران مجلس آپ کا کبھی بھی اتفاق ہو تو آپ سکاؤٹ سے پوچھیں کہ وہ کب سے یہ خدمات انجام دے رہے ہیں اور کیوں؟

عمومی طور پر یہ بچپن سے ہی سکاؤٹ میں آجاتے ہیں اور "حسینؑ کی خدمت" کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں. جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، سکاؤٹس کے جوان اور بوڑھے اپنی روز مرہ کی زندگی کو محرم کیلنڈر کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں. 

جو سٹوڈنٹس ہوتے ہیں وہ تعلیمی مصروفیت  ختم کرتے ہی امام بارگاہ اور انجمن کا رخ کرتے ہیں. دفتر جانے والے یا تو جلدی چھٹی لیتے ہیں یا پھر پہلے عشرے میں مکمل چھٹیاں. زین، اپنے دفتر کی چھٹیاں بچا کر رکھتے ہیں تاکہ محرم میں کام آسکیں. 

سکاؤٹس، ایام حسینی میں اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے خود کو بھول جاتے ہیں اور صرف اپنا رضاکارانہ فرض یاد رکھتے ہیں. ان کا مقصد صرف انسانیت کی خدمت ہوتا ہے جو مسلک، مذہب ہر چیز سےبالاتر ہے. 
عظیم بتاتے ہیں کہ محرم کے شروع ١٠  دن،سکاؤٹس آرام بھول جاتی ہے. یہ مسلسل مجلس کے ایک کونسے سے دوسرے کونے تک خدمات میں مصروف رہتے ہیں. گاڑیاں پارکنگ میں لگوانے سے لے کر چیکنگ تک ہر چھوٹا بڑا حفاظتی اقدام ان کے سر ہوتا ہے، جس کی اجرت کوئی نہیں لیکن لطف بہت. 

پاکستان سکاؤٹس- بالخصوص محرم میں آپ کی خدمت میں لگے ہوتے ہیں. ان کے لئے نہ کوئی شیعہ ہے نہ سنی، نہ ہندو، نہ عیسائی. ان کے لئے سب انسان ہیں جن کی خدمت ایام حسینی میں سکاؤٹس خود پر فرض سمجھتی ہیں.

وقت بدل رہا ہے، ملکی حالات بدل رہے ہیں، اور اس میں یہی امید کی جا سکتی ہے کے شیعہ نگران اور انجمنیں سکاؤٹس کی ذاتی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی بہتر اقدام لیں گی.

بحثیت قوم، سکاؤٹس کے ساتھ تعاون کریں، عزت کریں، اوران کا کام آسان بنائیں!

Sep 1, 2019

تاریخ عزاداری

Originally published here HumSub


یوں تڑپتے ہیں محرم کے لئے اہل عزا
حبس میں جیسے کوئی تڑپے ہوا کے واسطے
                                               (ماخوز) 

لغوی بیانیے کے مطابق لفظ عزاداری فارسی کا ہے جس کے معنی سوگواری یا غم منانے کے ہیں. عام طور پر آپ سنیں گے کہ مجلس، ماتم، اور عزاداری جیسی روایت نئی نویلی ہیں اور ان کا تاریخ سے یا  مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے.

سچ تو یہ ہے کہ، اسلام کا سیاسی رخ بدلنے اور بنانے میں سب سے بڑا واقعہ، واقعہ کربلا ہے. یہ وہ سانحہ ہے جس نے صحیح اور غلط، حق و باطل، سیاہ و سفید، ظالم و ملزوم، اور ایسی تمام تفریق کو میدان کربلا کے پلڑے میں کھڑا کردیا. یوں تا قیامت، بنی آدم کے لئے اپنا راستہ چننے میں آسانی ہوگئی. 

بعد از کربلا، تقریباً ایک سال کے بعد جب اسیران شام کی رہائی ہونے جارہی تھی، تب یزید نے حضرت زینبؑ سے پوچھا اگر بی بی کی وقت رخصت کوئی خواھش ہو. بی بی زینب نے فرمایا کہ جنگ کے بعد انہیں اپنے پیاروں کی بے درد شہادت پر رونے اور گریہ و زاری کا موقع نہیں ملا. 

یوں زینبؑ بنت علیؑ نے تاریخ میں پہلی عزاداری براۓ کربلا کی بنیاد رکھی!

١٠ محرم، روز عاشور جب امام حسینؑ نے "ھل من الناصر؟" کی صدا لگائی تھی توکوئی نہیں آیا تھا اور امام نے اپنے خاندان، صحابہ، اور ناصرین کے ساتھ یہ جنگ اکیلے لڑی. 

اس روز کے بعد، مسلمان بلخصوص شیعہ مسلمان عزاداری حسین کا اہتمام کرتے ہیں اور زمانے میں ہونے والی ناانصافی اور عدم مساوات کے خلاف یک آواز ہوتے ہیں. ساتھ ہی ساتھ محرم کا پہلا عشرہ اور اس میں ہونے والی مجالس، کائنات کے لئے یاد دہانی ہیں کہ واقعہ کربلا کیا تھا، کیوں تھا،اور کس کے ساتھ پیش آیا تھا. 

یتزاک نکاش، شیعہ تاریخ کے ماہرین میں سے ہیں اور انکی ریسرچ کے مطابق بی بی زینبؑ کے بعد بھی عزاداری حسین کا سلسلہ جاری تھا. خلافت امّید کے دوران عزاداری کا رواج خاموش اور ایک طرح سے تقیے کی نظر تھا. تمام مجالس و گریہ امام یا ان کے شعیوں کے گھر منعقد ہوتی تھیں. عباسی خلافت کے دوران یہ مجالس کچھ عرصہ کھلے عام ہوئیں.

لفظ عزا الحسین  کا تریقتاً استعمال پہلی بار حضرت امام جعفر صادقؑ نے اپنے دور میں کیا تھا اور فرمایا تھا کہ میرے جد کو رونے والی مجلس کی میں تائید کرتا ہوں. 

پیٹر چیلکووسکی نیو یارک جامعہ سے تعلق رکھنے والے ایک لکھاری ہیں اور مشرق وسطیٰ کی تاریخ و حالات پر عبور رکھتے ہیں. انہوں نے اپنے ایک ریسرچ جرنل میں بیان کیا ہے کہ عزاداری کا پہلا سرکاری درجے کا واقعہ چوتھی صدی میں، سلطان معیز الدین دولہ کے دور میں پیش آیا تھا. تب بازار و دفاتر بینڈ ہوتے تھے اور روز عاشور عزاداری بپا ہوتی تھی.

دوسری طرف جے.کلمرڈ نے اپنے مذہبی مقالے میں لکھا ہے کہ ایران میں عزاداری اور ماتم کی روایت بارہویں صدی میں زور پکڑ گئی، اور سفوید خلافت کے دوران اسکو بھی سرکاری درجے پر لایا گیا.  

تیمور لنگ کا دور آیا اور عزاداری کا دائرہ جغرافیہ فارس اور عراق سے نکل کر سمرقند، بخارہ، اور آگے تک آگیا. ہم یہاں صرف تاریخ عزاداری کا بیان کر رہے ہیں تو ان ادوار اور بادشاہوں کی سیاسی اور مذہبی رجحانیت کا تذکرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا. 

برصغیر میں یوں تو حوالہ ہے کہ سندھ میں جب عرب بسنا شروع ہوئے تو عزاداری کا اہتمام ہوا، مگر اس عزاداری کی صحیح ساعت لکھنؤ سے ہوئی جہاں آج بھی سب سے بڑا مرکزی جلوس روز عاشور نکلتا ہے. مرثیہ کی روایت یوں تو امام جعفر صادقؑ کے زمانے سے ہے لیکن اردو میں مرثیے کو روح بخشنے کا سہرا لکھنؤ کے سر جاتا ہے.

اٹھارویں صدی نے لکھنؤ کو ایک سے بڑھ کر ایک مرثیہ لکھنے والوں سے نوازا جیسے میر انیس، مرزا دبیر، اورعلی حیدر طباطبائ وغیرہ. 
لکھنؤ کی عزاداری نے برصغیر میں امام حسین کے غم کو آگے بڑھایا اور تبلیغ کی صورت پھیلا دیا. 

١٩٣٠میں مولانا سبط حسن وہ پہلے مولانا تھے جنہوں نے لکھنؤ میں عزاداری کو لیکچر کی شکل دی جو آج تک تمام مجالس میں دوہرائی جاتی ہے. مولانا کے اس طریقت میں پہلے سلام، پھر مرثیہ، پھر ذاکر کا بیان جو فضائل اور مصائب پر مبنی ہوتا ہے، اور سب سے آخر میں نوحہ خوانی ہوتی ہے. 

عزاداری نے بیسویں صدی میں جو نیا رخ لیا اس سے شیعہ مسلمانوں کو پیغام حسینی اور مقصد حسینی کو آگے بڑھانے میں مدد ملی. یہ ایک ایسی تبلیغ کی صورت اختیار کرگئی ہے کہ جو چاہے آ کر بیٹھے، سنے، سوال پوچھے، سمجھے، بلا تفریق!

محرم میں ہونے والی عزاداری دراصل ایک یاد دہانی ہے ہر زی روح کے لئے چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو کہ ہر دور میں سوچ دو ہی قسم کی ہو سکتی ہیں؛ یا حسینی یا یزیدی. ہر زمانے میں حق کی لڑائی لڑنی ہوگی، سچ کی قیمت خون سے ادا کرنی ہوگی، دشمن بہت دوست کوئی کوئی ہوگا.


انسان  کو   بیدار  تو  ہو   لینے   دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں 'حسین' 

  

Aug 31, 2019

بارش، بجلی، اور غریب

Originally published here HumSub

پچھلے کچھ سالوں میں موسم کی تبدیلی کے باعث، کراچی میں بارش کا آنا جانا بس اتنا ہی تھا، جتنا ہمارے وزیر اعظم کا قومی اسمبلی میں ہے. 
دوسرے صوبے کے یار دوست کہتے تھے، تم کراچی والوں کے ہاں بارش نہیں مذاق ہوتا ہے. لاہور کی ایک مشہور ماڈل نے بھی سال رواں کی لاہوری بارش کے بعد ہمیں کہا کہ کراچی میں اتنی بارش نہیں ہوتی جتنی ہم اپنی سبزی پر چھڑکاؤ کرلیتے ہیں. 

قدرت کو یہ مزاق پسند نہ آیا!

موجودہ ہفتے میں بحیرہ عرب اور خلیج بنگال نے آپس میں ہی صلح مشورہ کر کے کراچی شہر کو ٥٠ملی میٹر سے اوپر کی بارش دے ڈالی. 

ہماری والدہ ماجدہ کو آدھا بنگالی ہونے کی وجہ سے قدرت کا یہ فیصلہ بہت پسند آیا اور انہوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کرخدا سے دعا مانگی کہ دل کھول کر بادل برسیں.
خدا نے میری ماں کی اور کوئی دعا  سنی ہو یا نہ سنی ہو، یہ والی لمحوں میں قبول کرلی.

شروع شروع میں تو دھلے دھلے درخت، سرمئی چادر لپیٹے آسمان بلکل اسلام آباد کا سا سماں پیش کر رہا تھا. ہمیں یقین نہیں آیا کہ یہ ہمارا کراچی ہے!
ہمیں یقین دلانے کی ذمہ داری ذاتی طور پر کے-الیکٹرک نے لے لی اور ہم جو پنکھے کے نیچے آرام فرما تھے، بجلی والوں کو ان کے گھر والوں کی یاد دلاتے ہوئے اٹھ بیٹھے. 

صبح کے ١٠ بجے تک یہ طے ہو چکا تھا کے آج برتن دھونے سے لے کر کھانا پکانے تک تمام کام گھر والوں کو ہی کرنے پڑیں گے. 
اماں حضور کو اپنی دعا کے غلط اثرات بجلی اور گھریلو مدد کی صورت میں دکھنا شروع ہوگئے تھے. چار و ناچار انہوں نے تمام کام منصفانہ طریقے سے بانٹ کر بجلی بحال ہونے کا انتظار شروع کردیا. 

کے-الیکٹرک نے صدیوں پرانی مہارت دکھاتے ہوئے اپنی ہیلپ لائن بند کردی اور صارفین پر چھوڑ دیا کہ وہ خود ہی سوچ لیں بجلی کب اپنا منہ دکھاے گی. خدا جھوٹ نہ بلائے، کمبخت منہ موڑ کر ہی بیٹھی رہی. قسمت کی ستم ظریفی یہ کہ ہمارا جنریٹر خراب تھا اور دماغ بھی کیوںکہ کسی کو بنوانے کا خیال نہیں تھا. 
بہرحال ہم نے کچھ نہ کچھ انتظام کر کہ دن اور رات کاٹ لئے.

مولا کا کرم کہہ لیں کہ ہم اس طبقے سے ہیں جہاں تو نہ گھر کے اندر باڑھ آئی نہ چھت گری، اور نہ ہی کوئی بچہ بجلی کے کھمبے سے چپکا. 

اب تک کی خبروں کے مطابق، طوفانی بارشوں کے باعث کراچی میں ١٤ اموات ہو چکی ہیں، جس میں ٦ بچے بھی شامل ہیں. بچوں کو کیا خبر کے ایسی طوفانی بارش غربت کا مذاق اڑانے آتی ہے، اور ساتھ انھیں بھی لے اڑتی ہے. 

روز کی دیہاڑی والے گھر میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں. کچی آبادی والے اپنے تمام برتن ٹپکتی ہوئی چھتوں سے لگا دیتے ہیں. بیمار کی چارپائی کے پاس کوئی گھر والا پنکھا جھلتا ہے اور باقی کے گھر والے بارش سے بنتی لہروں کو گھر میں داخل ہونے سے روکتے ہیں، ناکام ہوتے ہیں لیکن پھر روکتے ہیں.

لیکن ان سب سے بھی جو بدتر ہیں، وہ ہیں بے گھر خاندان!

چند ہفتے پہلے ہی تقریباً ہزاروں کے قریب خاندان کوسپریم کورٹ کے احکام پر  بے-گھر کیا گیا تاکہ کراچی سرکلر ریلوے کا علاقہ خالی ہو سکے. کورٹ کے مطابق گھروں کو ١٥ دن میں مسمار کردیا جائے جب کہ ان کی متبادل رہائش کا انتظام ایک سال میں کیا جائے. کوئی اداروں سے پوچھے یہ خاندان ایک سال تک ہوا میں معلق رہیں گے یا آپ اپنے دروازے ان پر کھول دیںگے؟ 

میرے شہر کی معیشت اور بلدیاتی حالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم بارش کی دعا مانگیں. ہمیں ابر کے برسنے سے زیادہ اس کے لئے ترسنے میں فائدہ ہے. سورج ظالم تو ہے لیکن عزت ڈھانک کر رکھتا ہے. کھلے آسمان تلے بھیگنے کا یا کرنٹ سے مرنے کا خوف بھی نہیں رہتا. روز کی کمائی گھر آجاتی ہے اور بچے بھی گلی میں کھل کود کر واپس لوٹ جاتے ہیں. 

خدا کی رحمت، غریب کے لئے زحمت ہی ہوتی ہے اور یہ بات مجھ یا آپ جیسے بھرے پیٹ اور پکّی چھت والوں کے سمجھ میں نہیں آئے گی!
    

امرتا پریتم - ایک صدی

Originally published here Independent Urdu 



میرا ماننا ہے کہ امرتا جی کو صرف ماضی میں نہیں رہنا بلکہ کتابوں سے نکل کر مستقبل بھی بننا ہے۔ ایسی ہستی آج کے دور میں ہونے والی ڈھیروں تحریکوں اور جوان ذہنوں کی نفسا نفسی کا جواب ہے۔ 

امرتا جی اکیسویں صدی کا انجانا خواب ہیں،اور پچھلی صدی کا انقلاب ہیں. 

یہاں میں ضروری سمجھتی ہوں کہ امرتا جیسی لکھاری جنہیں یوں تو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہونا چاہئیے،  ان کا سرسری سا تعارف کرادوں۔ دراصل یہ محتاجی اس لئے ہے کیوں کہ آج کل لوگ Harry Potter کو تو رٹ بیٹھے ہیں لیکن مادری  زبانوں کے شہنشاوں کا ذکر بس فیس بک کی حد تک، اور وہ بھی غلط اقوال میں۔ خیر بات کہاں سے کہاں پہنچ گئیں۔ چلیں تقسیم ہند سے پہلے والے پنجاب چلتے ہیں اور ملتے ہیں 'ہیر وارث شاہ' والی امرتا سے!

٣١ اگست، سنہ ١٩١٩میں گوجرانوالہ کی سرزمین پر امرتا کور نامی پہلی اور اکلوتی اولاد نے راج بی بی اور کرتار سنگھ کے یہاں گرہ پرویش کیا. ماں جی استانی اور والد صاحب بنیادی طور پر شاعر لیکن روزی کی مناسبت سے وہ بھی استاد تھے. یوں سمجھ لیجیۓ، قلم اس گھر کا غلام تھا. 


امرتا جی اپنی کسی ایک نظم یا کسی ایک افسانے سے نہیں سمجھی جا سکتیں. امرتا جی کو سمجھنے کے لئے ایک آزاد ذہن اور باغی دل چاہئے. ایک ایسا ذہن جو سطحی سوچ سے بالاتر ہو، دل میں حوس نہ ہو لیکن بےباک ہو. پڑھنے والا ایسے مقام پر ہو جہاں وہ سماجی اور مذہبی شرائط سے آزاد ہو.

میرے ایک دوست ہیں رضوان، ان کا کہنا ہے امرتا پریتم کو صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی ذات کسی بھی قسم کے عدم تحفّظ کا شکار نہ ہو.

امرتا کور کی بہت کم عمری میں پریتم سنگھ جی سے شادی ہوگئی تھی، جس کے بعد تا عمر انہوں نے اپنے نام کے آگے کور کی جگہ پریتم لگا لیا تھا. جچتا بھی تھا.......آخر امرتا جی کی زندگی پریت ہی پر تو مبنی تھی. 

اس کم عمری کے رشتہ جڑنے اور ختم ہونے کی چھوٹی سی داستان امرتا جی نے اپنی کتاب رسیدی ٹکٹ میں لکھی ہے. پرانے وقتوں میں اپنے شوہر سے الگ ہوجانا اور وہ بھی دوستانہ طریقے سے، ایک طرح کا سوال تھا. اس سوال کو بنا امرتا جی اور پریتم جی سے پوچھے، کئی لوگوں نے اپنے سعی جواب دینے کی کوشش کی. 
جب کہ بات بڑی معمولی مگر گہری تھی. امرتا جی اپنے شوہر کے ساتھ تو تھیں، پاس نہیں تھیں. انکی نظر میں یہ پریتم جی حق تلفی تھی. 

ہم ٢٠١٩ میں ہیں لیکن آج بھی لوگوں کو میاں بیوی کا باہمی اتفاق سے الگ ہوجانا، یا سمجھ بوجھ الگ ہونے کی بنیاد پر طلاق لینا سمجھ نہیں آتا ہے. پھر وہ تو ١٩٦٠ تھا اور امرتا پریتم تھیں......ذہنی سطح کے ساتویں درجے پر فائز!

مجھے افسوس رہے گا کہ امرتا جی میری زندگی میں بہت دیر سے داخل ہوئیں.

اردو ادب سے شغف شاید میرے خون میں ہے کیوں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کو اسکول کالج کے دور میں ہی منٹو کے افسانے بھائی کے شیلف پر، اور عصمت چغتائی کی لحاف اماں کے سرہانے پر مل جایا کرتی تھی۔ ان تمام باتوں کے باوجود امرتا پریتم سے میری پہلی ملاقات سرسری تھی کیوں کہ پنجابی میں لکھی گئی "ہیر" مجھے کون سمجھاتا بھلا؟ 


 پھر سنہ 2005 میں بھارتی سینیما کی فلم "پنجار" ریلیز ہوئی۔ اس میں مرکزی کردار نبھانے والے دو اداکار تھے: ارمیلا مٹونڈکر اور منوج باجپائی۔ فلم دیکھنے کے بعد پتہ چلا کہ یہ امرتا پریتم کے مشہور زمانہ ناول پر مبنی ہے۔ اگر آپ نے فلم نہیں دیکھی تو دیکھئے، جذبات کا بہاو اتنا تیز ہے کہ سینے کا پنجرہ توڑ کر باہر اجائے۔

بس وہ دن تھا اور میں امرتا جی کی ذات، ذندگی اور قلم کی کھوجی بن گئی!

سرسری طور پر امرتا پریتم کو لوگ بس دو تین حوالوں سے جانتے ہیں جیسے "ہیر وارث شاہ"،یا پھر "میں تینوں پھر ملاں گی"، یا "ساحر لدھیانوی" سے ان مٹ عشق. 

امرتا پریتم ان حوالوں سے کہیں آگے ہیں. یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ امرتا جی نے اپنے درد کو اپنے مفاد میں اپنایا. خود کی ذات کو زندگی کی بھٹی میں جلایا تو کہیں جا کر 'تیرہواں سورج، 'ڈاکٹر دیو'، اور 'پنجار' جیسی کہانیاں ادب کے کینوس پر اتریں. 

برصغیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں زہین عورت مردانگی کے لئے دھمکی سمجھی جاتی ہے، لیکن اسی خطے میں ایک امرتا پریتم بھی تھیں جنہوں نے زندگی اپنی شرائط پر گزاری. امرتا جی نے کبھی بھی اپنے عشق کو کسی پردے میں قید کر کے نہیں رکھا، نہ اپنے جذبات کی عکاسی میں کوئی شرمندگی محسوس کی.

امرتا پریتم نے اپنی عورت اور ادیب دونوں کو ساتھ ساتھ رکھا. چاہے وہ ساحر کی محبّت میں لکھے گئے سنھڑے ہوں، یا امروز کی مستقل رفاقت، امرتا جی نے کبھی بھی خود سے بغاوت نہیں کی نہ ہی زمانے کو باتیں کرنے کی تسّلی دی. 
لکھاری تھیں تو خود بھی کھلی کتاب بن کر زندگی جی !

جب میں آج کل کی خواتین ادیب کو دیکھتی یا پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں تو سوچ میں پڑ جاتی ہوں کہ خوف کیوں ہے ان کے الفاظوں میں، کہانیوں میں، کرداروں میں. کہاں ہے وہ نڈر عورت جو بلا خوف و خطراپنے وجود اور اسکی آزادی کا پرچار کرے. کہاں ہے عورت جس کی پہچان کسی رشتے کی محتاج نہیں، کسی بندھن کی باندی نہیں.

امرتا پریتم اپنے اور آنے والے تمام وقتوں کے انسانوں کی مشعل ہیں، اور اس مشعل کو ساتھ لے کر چلنے والے کا نام ہے 'امروز'. 

امروز، امرتا جی کی زندگی کا وہ کردار ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جب آپ کسی سے عشق کرتے ہیں تو اس کے عشق سمیت اسکو اپناتے ہیں. 


امرتا جی کے ١٠٠ سال کو انہی کے الفاظ میں یاد کروں گی:
"جہاں بھی آزاد روح کی جھلک پڑے، سمجھ لینا وہی میرا گھر ہے."

کاش پھر کوئی "امرتا" پیدا ہو اور زمین کا وجود سیراب کردے!




  


Aug 20, 2019

دوپٹے کی دیوار

Originally published here Independent Urdu 

دوپٹہ، چنری، اوڑھنی، چادر، یا کچھ بھی کہہ لیں اپنی زبان اور علاقے کے مطابق، مقصد اسکا عمومی طور پر عورت کے آگے دیوار بنے رہنے کا ہے. ایسی دیوار جو سامنے والے (مردوں) کو مجبور کردے کہ وہ صرف آپ کا چہرہ دیکھیں یا پھر سوچتے رہیں کہ اس کپڑے کی پھیلی ہوئی دیوار کے نیچے قدرت کے کونسے راز پنہاں ہیں.

در حقیقت، لفظ دوپٹہ سنسکرت کا ہے جس کے معنی دو طرفہ پٹے کے ہیں. ارے نہیں نہیں، کتے کا پٹہ نہیں، دوپٹہ!

تاریخ بتاتی ہے، دوپٹے تب سے ہیں جب سے تہذیب و تمدن کا قیام ہے. یوں لگتا ہے تہذیب کا تمام دھیان عورت کے نقوش پر تھا کہ کیسے اسکو رنگ برنگے، جھلملاتے، چمکتے ہوئے کپڑے میں لپیٹ دیں. 

محترمہ فاطمہ جناح ہوں یا بیگم رعنا لیاقت علی، یا پھر بینظر بھٹو. ان تمام خواتین نے دوپٹے کو معاشرتی شرم و حیا کو لحاظ میں رکھتے ہوئے پہنا تھا. 
ایک دور تھا جب PTV کی خبرنامہ پڑھنے والی خواتین بھی سر پر دوپٹہ نہیں لیتی تھیں لیکن پھر سیاست بدلی، ماحول بدلا، تو حلیے بھی بدل گئے.

سوال پھر وہی کہ آخر دوپٹے کی ضرورت ہی کیوں؟ کیا سامنے والے کی نظر صرف چہرے تک نہیں روک سکتی؟ کیا وہ بلاوجہ خلق خدا کو گھورنا یا ناپنا بند نہیں کر سکتا؟

عمومی طور پر بر صغیر میں لڑکیوں کا دوپٹہ اسکول کے V یا Sash کی صورت میں متعارف ہوتا ہے اور جلد ہی دوپٹے میں تبدیل ہوجاتا ہے. دوپٹہ دراصل اس بات کا اشارہ ہے کہ لڑکی نے بلوغت میں قدم رکھ دیا ہے اور اب لگامیں کھینچنے کا وقت آگیا ہے. اس لگام کا پہلا پٹہ، دوپٹہ ہے. 

ذاتی طور پر میں نے آٹھویں جماعت سے باہر جانے پر دوپٹہ لینا شروع کیا تھا. وقت کے ساتھ ساتھ دوپٹہ اور میں دو قلب یک جان ہوگئے.
 میں نے کچھ سال مشنری اسکول میں گزارے ہیں، جو کہ باقی مشنری کی طرح صرف لڑکیوں کا تھا. واحد مرد ذات ایک اکاؤنٹنٹ کی تھی جو دور پرے دفتر میں بیٹھتا تھا. 
ایک روز میں سیڑھیوں پر دوستوں کے ساتھ بیٹھی تھی اور میرا دوپٹہ برابر میں پڑا تھا. پوری عمارت میں لڑکیاں تھیں یا راہبائیں، جن میں سے ایک راہبہ نے ہمیں بنا دوپٹے کے دیکھ لیا. جانے کیا کیا کہا اور سب نے سر جھکا کر سنا،لیکن ایک بات دماغ میں بیٹھ گئی جو انہوں نے کچھ یوں کہی تھی "بنا دوپٹے کے کونسی تمیز تہذیب لے کر یہاں سے باہر نکلو گی؟".

شکر میرا اسکول تبدیل ہوگیا ورنہ راہباؤں کو تبدیل کردیتی!

خزیمہ، ماسٹرز کی طالبہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نو عمری میں دوپٹہ پہننا شروع کیا تھا. اس کی بنیادی وجہ اس وقت کے فیشن کی تنگ قمیضیں تھیں اور بنا دوپٹے کے خاندان یا معاشرے میں بات نہیں بنتی. کچھ سالوں بعد جب کرتا پہننے کا فیشن آیا تو خزیمہ نے خود کو دوپٹے سے آزاد کردیا. 

شہر بڑا ہو یا چھوٹا، عورت کی عمر کوئی بھی ہو، لیکن ان  کے مسائل دوپٹے کو لے کر تقریباً ایک جیسے ہونگے. غلط بھی نہیں ہے کیوںکہ معاشرتی درندے صرف جنس دیکھتے ہیں، باقی سب تفصیلات کے زمرے میں آتا ہے جس کے لئے ان کے پاس فرصت نہیں ہے.

سائرہ، جو اب کئی سالوں سے غیر ملک میں مقیم ہیں، بتاتی ہیں کہ  وہ صرف سسرال میں جب ہوتی ہیں تب گلے میں دوپٹہ ڈالے رکھتی ہیں یا اپنے شوہر کی بات کا مان رکھنے باہر ملک میں بھی شلوار قمیض کی صورت میں دوپٹہ ضرور لیتی ہیں. اگر جینز شرٹ ہو تب بھی کوئی سکارف وغیرہ ڈال لیتی ہیں. مزے کی بات یہ ہے کہ جب وہ اکیلی باہر نکلتی ہیں تو دوپٹے کو بھی اکیلا چھوڑ دیتی ہیں......گھر پر!

پاکستان میں خواتین پر ایک جانا انجانا معاشرتی دباؤ ہے کہ وہ گھر کے مردوں کے سامنے، گھر کے داخلی دروازے پر، یا  بازار وغیرہ جاتے ہوئے دوپٹے کا خیال رکھیں. مکمل پھیلا کر پہنا ہو تو واہ واہ، سر پر بھی ڈال لیں تو سبحان اللہ، ورنہ گلے کا پھندا بنا کر تو رکھیں ہی رکھیں. 

کئی خواتین، جن کو گھر سے دوپٹہ پہننے کی پابندی نہیں ہوتی، وہ باہر جاتے ہوئے صرف اس لئے پہنتی ہیں تاکہ انہیں ہوس بھری نظروں کا سامنا نہ کرنا پڑے. 
ساتھ ہی ساتھ، دوپٹہ پہننے والی خواتین کی ہمارے معاشرے میں زیادہ عزت ہے.

یقین نہ آئے تو عمیرہ احمد کے ڈرامے دیکھ لیں!
دوپٹے والی لڑکی ہمیشہ صابر و شاکر،پرہیزگار،خدمت گزار، خاموش طبیعت، اوررسم و رواج کی پابند ہوگی. دوسری طرف آپ کو ملیں گی جینز شرٹ، یا بنا دوپٹے کے کرتے والی لڑکی جو انتہائی تیز طرار، اپنے حقوق سے آگاہ، بد زبان، بد لحاظ، بدتمیز قسم کی ہوگی. 

معاشرہ تھوڑا میڈیا سے سیکھتا ہے، تو تھوڑا میڈیا بھی معاشرے سے سیکھتا ہے. 

خاندانی تقریبات ہوں، ہسپتال میں ڈاکٹر ہو، سڑک پر رپورٹر ہو، یا گھر پر رہنے والی خواتین، سب کا طریقہ استعمال ایک ہی ہے. ان میں سے کچھ اپنی مرضی اور موجودہ دورکے فیشن کے لئے دوپٹہ پہنتی ہیں لیکن یہ ایک دھوکہ ہے. دوپٹہ صدیوں پرانا طریقہ ہے یہ جتانے کا، کہ عورت اپنے عمل کی ذمہ دار ہے سو وہ دوپٹہ اگر نہیں پہنے گی تو وہ دعوت عام دے رہی ہے. دوسری جانب، مرد اپنے عمل سے مبرہ ہے. حرف عام میں اسکو victim shaming کہتے ہیں. 

کئی گھروں میں عورتیں گھر کے اندر بھی پہنتی ہیں جبکہ دوسری طرف گھر کے مرد بنیان اور شلوار میں گھومتے نظر آئیں گے کیوںکہ "گرمی بہت ہے." بیچاری عورتیں گرم چولہے کے پاس کھڑی ہو کر اسی دوپٹے سے پسینہ خشک کریں گی، یا اسکا ہلکا پنکھا بنا کر چہرے کو ہوا دینگی. 

گھر کی عورتوں اور مردوں دونوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ دوپٹہ کچن میں لے جانا خطرناک عمل ہے. اسی طرح جب "ہوا میں اڑتا جائے میرا لال دوپٹہ ململ کا" موٹر سائیکل کے پہیے میں پھنستا ہے تو جان لیوا ہو سکتا ہے.

آخر ایک غیر ضروری چیز کو معاشرے کا حصّہ کیوں بنایئں؟

کئی بزرگ خواتین کہتی ملیں گی کہ پردہ نہیں کرتی ہو تو دوپٹہ تو اوڑھ لو. بات صرف اتنی ہے کہ کوئی عورت کچھ بھی پہنے، مگر اپنی مرضی سے پہنے. اس خوف سے نہ پہنے کے مرد اسے وحشی نگاہوں سے دیکھیں گے یا خاندان والے کردار پر انگلی اٹھائیں گے.

دیکھا جائے تو دوپٹے کا کچھ خاص استعمال نہیں ہے. ایک اضافی ڈھائی گز کا کپڑا ہے جس کا مقصد صرف اوباش نظروں کو آپ سے دور رکھنا ہے. وہ الگ بات ہے کہ دیکھنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں. 
اسی لئے آج کل اکثریت اس دوپٹے کی ایک اور قمیض بنا لیتی ہے!




May 25, 2019

کام کرنے کی جگہوں پر جنسی ہراسانی

Originally published here HumSub

ہم نے ہمیشہ یہی سنا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے اور قانون کے لئے سب برابر ہیں. کیا یہ بات حقیقت ہے؟ اصولی طور پر تو قانون کو اندھا نہیں، بلکہ منصف ہونا چاہیے کیوںکہ اندھا ہونے کی صورت میں تووہ استغاثہ اور دفاع دونوں ہی کو نقصان پہنچا سکتا ہے.

پاکستان میں قانون بہت لیکن استعمال اتنا ہی جتنا آٹے میں نمک!

میشا شفی کے ساتھ جو ہوا غلط ہوا، لیکن معاشرتی طور پر ایک فائدہ یہ ہوا کہ لوگوں کو جنسی ہراسائی کی قانونی سمجھ بوجھ آگئی. میشا شفی ایک مشہور شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ بااثر بھی ہیں جو اپنے حقوق سے بخوبی واقف ہیں اور ان کے لئے لڑنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں. اس کیس کے دوران ہم نے دیکھا کے انکا خاندان، دوست، اور متعدد چاہنے والے ان کے ساتھ کھڑے ہیں.

بدقسمتی سے ہر کسی کے نصیب میں نہ اتنی ہمّت ہے کہ وہ جنسی طورپرہراساں  ہونے کی شکایات کر سکے یا اس کے خلاف کیس لڑ سکے. آئے دن ہم مدرسے میں ہونے والے گھنونے واقعات کی ویڈیوز دیکھتے ہیں، خبریں سنتے ہیں لیکن کیا کسی والدین نے کیس لڑا؟ جیتا؟ .......شاید نہیں!

ہمارے ملک میں قانون تو ہے لیکن سجا سجایا. بلکل قرآن پاک کی طرح جس کو ہم گھر میں سب سے بہترین کپڑے میں لپیٹ کرطاق پر رکھ دیتے ہیں اور کبھی کبھی کھول کر دیکھ لیتے ہیں. 

اپریل ٢٠١٨ میں ڈان اخبار نے ایک آن لائن سروے کیا جو تقریباً ٣٠٠ عورتوں پر مشتمل تھا. اس سروے ک مطابق ٨٣% عورتوں کا ماننا تھا کہ دفاتر میں عمومی طور پر مرد نامناسب روّیہ اختیار کئے رہتے ہیں کیوںکہ انہیں یقین ہوتا ہے کے کوئی کاروائی یا چارہ جوئی نہیں ہوگی. 
یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان میں دفاتر میں ہونے والی جنسی ہراسائی کے لئے قانون موجود ہے:

Protection against Harassment of Women at the Workplace Act 2010:"Harassment as any unwelcome sexual advance, request for sexual favors or other verbal or written communication or physical conduct of a sexual nature or sexually demeaning attitudes, causing interference with work performance or creating an intimidating, hostile or offensive work environment, or the attempt to punish the complainant for refusal to comply with such a request or is made a condition of employment."

پاکستان کا کوئی حصّہ یا طبقہ ایسا نہیں ہے جہاں کام کرنے والی عورتوں کو ہراساں ہونے کا تجربہ نہ ہوا ہو. ٩ سال گزرنے کے باوجود مندرجہ بالا قانون سے کئی عورتیں ناواقف ہیں یا ڈرتی ہیں کے انصاف کے کٹہرے میں ان کی دھجیاں نہ اڑا دی جایئں. 
وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم کے مطابق ٢٠١٤ سے ٢٠١٨ کے درمیان ٣٧٨ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ملک بھر سے، جن میں سے ٢٢٠ شکایات حکومتی اداروں سے آئ تھیں. 

جب بات آتی ہے اداروں کی تو ہمارا پہلا خیال یہ ہوتا ہے کہ شاید تعلیمی ادارے اس سے محفوظ ہوں. آخر کو استاد تو روحانی والدین کا درجہ رکھتے ہیں اور پھر تعلیم و تدریس بذات خود ایک انتہائی عزت دار پیشہ ہے.

ان تمام باتوں کے باوجود، پروٹیکشن ایکٹ ٢٠١٠ کے تحت موصول ہونے والی شکایات میں قائد اعظم، LUMS، جیسی یونیورسٹیز شامل تھیں.

٢٠١٨ میں ایک اور مشہور کیس اخباروں کی زینت بنا تھا جب پاکستان کے جانے مانے اردو کے شاعر پروفیسر سحر انصاری پر جنسی ہراسائ کا کیس ہوا تھا. پروفیسر صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں بلکہ اردو کی خدمات کے انجام میں حکومت پاکستان سےستارہ-امتیاز بھی حاصل کر چکے ہیں. 

شکایات درج کرنے والی خاتون خود بھی اسسٹنٹ پروفیسر تھیں اور ان کے ساتھ یہ واقعہ ٢٠١٦ میں پیش آیا تھا. اس شکایت کی بنیاد پر جامعہ کراچی نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے ایک ماہ کے اندر پروفیسر صاحب کو کلین چٹ دے دی. 

خاتون برحق تھیں تو انہوں نے سندھ صوبائی محتسب کو اپیل دائر کی جس نے سوا سال بعد اگست ٢٠١٧ میں جامعہ کراچی کی کمیٹی رپورٹ کو رد کر کے نئی کمیٹی، پروٹیکشن ایکٹ ٢٠١٠ کے تحت تشکیل کرنے کا حکم دیا. 
جنوری ٢٠١٨ میں حتمی فیصلہ یہ ہوا کہ پروفیسر سحر انصاری پر ہراسائی کی شکایت ثابت ہوئی جس میں جامعہ کراچی کی جانب سے کئی طالبات کی شکایات بھی شامل تھیں اور جامعہ کے چند ملازمین کی گواہی بھی شامل تھی.

پھر کیا ہوا؟
کوئی نہیں جانتا!

سندھ محتسب نے ایک بہترین قدم اٹھایا لیکن کیا اس کو مثالی بنا پائے؟ کیا پروفیسر سحر انصاری پر قانونی فیصلہ محفوظ ہوا؟  کیا جامعہ کراچی نے اس سلسلے میں پیش و رفت کی؟ مستقبل میں اساتذہ اور طالبات کو محفوظ بنانے کے لئے کیا اقدام کئے؟ 


حکومت پاکستان میں وفاق نے ایک پوری وزارت اس پروٹیکشن ایکٹ کے لئے محفوظ کی ہے جس کی وزیر اس وقت کشمالہ طارق ہیں. مجھے یقین ہے اگر حکومت چاہے تو اس قانون کو ہرچھوٹے بڑے دفاتر میں عمل میں لا سکتی ہے. عورتوں کو اس قانون کے بارے میں آگاہ کیا جائے، ان کو ان کے حقوق کا احساس دلایا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انکی شکایات اور کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا.  

جب فیصلے ہوا میں معلق ہوں، توقانون پر سے یقین ڈگمگانے لگتا ہے جو معاشرتی طور پر خطرناک ہے. پاکستان میں دفاتر میں ہونے والی ہراسائی کے خلاف ایک مثبت قانون ہے جس کا یقینی استعمال ضروری ہے. 












  

May 3, 2019

Even Pakistani Tinder Isn’t Safe From Married Men


Originally published here NayaDaur



“What were you doing on Tinder?”

Khadija* was expecting anything but this. She was talking to the wife of a man who had recently deceived her. She had met this man on the dating app Tinder where they had immediately struck up a lively conversation. He told her that he was divorced and she had taken most of what he said on face value, convincing as his tales of the every day seemed. Even when she met him in real life, she did not think anything was amiss. 

But several months later the game of deception had finally come to an end after Khadija found out about his wife and children through a network of women online who have each other’s backs in matters like these and keep a check on philandering men through various whisper networks. This is what had brought Khadija and Sameen together to talk about the man who had deceived them both.

The most notable part of this awkward conversation was that the wife wanted to know why Khadija had been on Tinder to begin with. “Because I am single”, sputtered Khadija. I also told her “You should be asking your husband this question, not me”, she says, putting her glass of ice-filled cola on the table and trying to control herself.

In any civil society, people will not judge each other for being on a dating app. The judgment criteria begin when one lies about their marital status and think of oneself as a trophy that women are dying to take home.

Almost 2 decades back, we had chatrooms such as MSN, Yahoo, MIRC, or ICQ for meeting/dating new people. You could have entered a chatroom and befriended a boy disguised as a girl. This can still be considered comparatively better than finding yourself dating a man who has not put his legitimate marital status on the table.

Internet became further prevalent, and everything became on-the-go, courtesy of smart phones. Eventually, these rooms got replaced by exclusive dating apps such as Tinder, OkCupid, or the latest Muslim sensation called MuzMatch – a halal way to date.

Unlike West, Pakistan has nothing to offer to adults for casual socializing and that is when we resort to the modern mode of dating.

According to Zaafir*, a young engineer who regularly uses Tinder, dating in Pakistan is an act of rebel. A small gesture against cultural and social norms which bars you from meeting singles and know them. A country where women are still objectified and considered as “ghairat”, dating openly can be as dangerous as entering a tribal area without precaution.

Pakistan, where dating is anyway a taboo, such apps not only create room for potential companionship but also test users’ level of trust in strangers. An average Pakistani find it safer to look for a date online as compared to his or her surroundings where a judgment awaits by society.
Hasan* met his girlfriend on WeChat, a Chinese multipurpose messaging app. He is a 26year old, full-time student who accidentally found his partner on this app. Initially, the girl she met was using a fake identity for safety purpose but over time, as trust developed, she revealed her real identity. 

Two years later, they are still together. Hasan* thinks, it is unethical for committed or married people to be on a dating platform.

He further added that Pakistan is a culturally restricted society limits their chances to date or get-to-know a new person. Also, men and women have a conflict of interest where men are mostly looking for one-night stands, or rather a time-pass, while the majority of women go for something meaningful or deeper connection.

Pakistan is a tough country for single women and it becomes quite difficult for them to put themselves out there on dating platforms. In case you happen to be independent, outspoken, opinionated then Pakistani men tend to take you for granted and consider you as “available”. The sense of entitlement is quite evident on dating apps like Tinder where our desi men shamelessly date to demonstrate their masculinity.

Tinder already has around 57million users worldwide and can be ranked as one of the most growing dating apps in Pakistan.

Ideally, any dating app should be the hub of singletons looking for 50 shades of romance but, we rather find 50 shades of shadiness. Back in 2015, Global Web Index, an independent survey of Tinder found that around 30% of its users are married and 12% are highly committed in their relationships.

Such statistics can only speak of figures, but not the motive or authenticity of users!
Farheen*, a 33-year-old media professional, consumed by her work-life, gave Tinder a try. 
Just like Khadija*, she met a too-good-to-be-true guy, Mr. Z, whom she dated for a little over 2 months and eventually discovered that he is not only married but also fathering 2 children. 

Unfortunately, Farheen* was not his only prey but Mr. Z was a compulsive liar who had a wife, a steady girlfriend and a few side flings through dating apps.

Being married is not a problem, but what is problematic is deceiving multiple women at one point of time. Farheen* added, that such incidences can make people bitter and losing out on any chance of finding a reliable man.

Most men get away with such situations because they know, how easy it is to be a man in Pakistani society where they can be “themselves” in the name of patriarchy. Tinder is full of profiles where men literally write in their bio “Let’s not judge each other for being on Tinder” as if being on a dating app is a crime or a mortal sin.

While writing this piece, I spoke to many women who were duped by married men by showing themselves as single, separated, or even divorced. These men kept a smooth relationship, at max, a month or two and eventually their identity got revealed. Unfortunately, the most appalling part is that when wives learn of these incidents, they question the victim of deception before they question the deceiver – the husband.

A country like Pakistan, where sex and dating both are considered as best kept secret, these dating apps are giving avenues to married male to explore their fantasies.

Razee*, a 45year old married male, used OKCupid while going through a rough patch in his marriage. According to Razee, he could never find a match because he was honest about his marital status. OkCupid was his escape from marital life, responsibilities, and temporarily answered his fanciful desires in life.

Duplicity is an art, and not everyone can master it. Hence, Razee* had to withdraw himself from these dating apps where honesty could not get him a single date. Also, he mentioned that he did not have the guts to maintain an alternate identity just to fancy himself on cupidity.

But what makes a married man lie about his marital status?

“Well, it is all about how a man is raised because this is what leads to ineffective emotional awareness and communication with a partner.”, says Shazia Ahmed, a counseling psychologist.

According to Shazia, men are not taught how to recognize their emotions, and the only emotions they can have without shame are anger or aggression. Our primary issue begins when socially men are told that they are entitled to everything because they are men which eventually takes away their basic human need of being emotionally vulnerable.

Pakistani marriages are pre-dominantly arranged by parents which gives hardly any chances to two people to understand each other and match their frequency. Mostly in an arrange setup, it’s the men who has supremacy in relationship which takes away the equal sharing of responsibility and feelings towards each other.

In order to sustain a long-term partnership, man and woman both should work on it. Unfortunately, in Pakistani society, we put women through emotional labor of child upbringing, handling in-laws, and entertaining husband. While all this, the only standard expectation from a man is to be breadwinner.

Meanwhile, most of Pakistani wives are consumed in their chaotic marital life, their husbands find time to fulfill their fantasies and satisfy their ego through online mean and mode.

Shazia further explained, that men lack emotional awareness and deduce themselves to some attention from an unknown woman who is not bound by the same constraints as his wife. Instead of resolving their emotional needs with their partners, married men enjoy the attention and entitlement under the pretext of being single.

In a typical desi setup, where your parents chose your partner, you are very unlikely to develop that deep and secure emotional bond. Only this kind of bond has capability to communicate freely with your partner and share the weight of relationship, equally.

The time a man spends while talking to his Tinder match, he can choose to spend that with his wife while helping her with daily household labor. Unfortunately, most men are neither brought up nor they have seen other men helping their spouses. The way married men explain their fantasies to their online dates, they should rather try explaining them to their partners without any fear of being misunderstood.

If you cannot be principled enough in your marriage, one cannot expect you to have them on Tinder. 

The amount of creative thinking and labor, our men put into creating an alternative identity in online dating world, they should probably put that into their marriage.
This will save many women time and energy, both!