Oct 12, 2018

جنسی ہراسانی کی چیخ

Originally published here HumSub

 اگر میں ایک شخص کو تھپڑ ماروں اور دوسرے کو گولی، تو کیا آپ دونوں حملوں کو جان لیوا کہیں گے؟
یقیناً نہیں!

٢٠١٤ میں میری ایک معمولی سی سرجری ہوئی تھی، جس کے باعث مجھے پھیپھڑوں میں تکلیف تھی. ایک رات، قریب ٣ بجے میں نے درد کی شکایت کی اور غصّے میں شفٹ پر ڈاکٹر کو بلوایا جو اس وقت ایک شیعہ ہزارہ کی جان بچانے میں مصروف تھی. میری چیخ چللاہٹ سے اس کو آنا پڑا. پہلی بات جو اس ڈاکٹر نے کہی وہ یہ تھی "کلثوم تمہارا درد تکلیف دہ ہوگا لیکن جان نہیں لیگا. تمھارے اس ہنگامے سے اس آدمی کی جان بچانے کہ لئے ایک ڈاکٹر ضرور کم ہورہا ہے." 

اس رات مجھے احساس ہوا کہ، میری چیخ میں اس شخص کی چیخ کوئی نہیں سن پائے گا، جو چیخ بھی نہیں سکتا. 

  کچھ ایسا ہی موجودہ دور میں "جنسی ہراسائ" کو لے کر ہو رہا ہے.    
می ٹو تحریک نے دنیا بھر کی عورتوں کو نہ ہی تو صرف آواز دی ہے بلکہ دنیا کو ساتھ ہی ساتھ باور کرایا ہے کہ کیا امیر، کیا غریب، کیا عام، کیا خاص، کیا جاہل، کیا دانا، سب ہی میں صلاحیت ہے عورت کو زیر کرنے کی!

اس تحریک پر بہت سارے سوال بھی اٹھتے ہیں جن میں پہلا سوال ہوتا ہے "ثبوت کیا ہے؟". ایسے لوگوں کہ لئے دو باتیں سمجھنا بہت ضروری ہے:
١) جنسی ہرسائ کہتے کسے ہیں؟
٢) خوف کس بلا کا نام ہے؟

ہم پہلے سوال کے جواب کی طرف بڑھتے ہیں:
اقوام متحدہ کے مطابق، کوئی بھی ایسا ناپسندیدہ جسمانی یا زبانی فعل جوآپ سے آپ کی اجازت کے بغیر، زبردستی ہو. 
    
اگر آسان الفاظ میں بات کی جائے تو، آواز کسنا،گندی آوازیں نکلنا، بلا اجازت چھونا، یہ سب ہمارے معاشرے میں روز مرہ کی ہراساں کرنے والی حرکات ہیں. اب ذرا آپ اپنے گھٹنوں......میرا مطلب ہے چھوٹے سے دماغ پر زور لگایں اور بتایئں اگر راہ چلتے کوئی مجھے "ماشاللہ" یا "آئٹم " وغیرہ جیسے الفاظ سے پکارے تو میں اس کا گواہ یا ثبوت کہاں سے لاؤں گی؟ بھرے بازار میں کسی لڑکی کو کوئی بھی لالچی مرد اگر چھو لے تو وہاں کہاں سے ثبوت لاے گی؟ چلتی بس میں جو انگلیاں سیٹ میں سے راستے بنا لیتی ہیں، ان کا ثبوت کیسے اکھٹا کریں؟

دراصل کیا ہے نا، ہم عورتیں اپنے سر پر ڈرون کیمرے تو لے کر چلتی نہیں ہیں اس لئے ثبوت مانگنے کے بجائے اگر آپ ان صرف اپنی سوچ کی اڑان اونچی کرلیں تو مہربانی ہوگی.

یہی وجہ ہے کہ، میشا شفی کوئی ثبوت نہ پیش کرسکیں کیوںکہ وہ سوچ کر مردوں سے نہیں ملتی تھیں کہ اس نے مجھے ہراساں کیا تو میرے سر پر اڑتا ہوا ڈرون کیمرے اسکی ویڈیو بنا لیگا. 
صرف میشا ہی نہیں، بلکہ ہر وہ عورت جو اپنی روز مرہ کی زندگی میں مردوں سے ملتی ہے، یہ نہیں سوچتی کہ آج یہ مجھ سے زبردستی کی کوشش کریگا. عروج ضیاء کو خبر نہیں تھی کہ فیصل ایدھی ان کا فائدہ اٹھانا چاہیں گے، یا وہ لڑکیاں جو جنید اکرم کے خوف سے پبلک نہیں ہو پا رہیں. اگر ان میں سے کسی کو پتا ہوتا کہ ان کی تکلیف پر سوال اٹھیں گے، تو وہ یقیناً ساتھ میں کیمرے رپورٹر سب رکھتی تاکہ قوم کو بروقت اطلاع دی جا سکتی.......بریکنگ نیوز بھی تو کوئی چیز ہے!

 ملک کی لاکھوں عورتیں، اپنا آپ چادر میں اس لئے نہیں ڈھانپتی کہ حکم الہی ہے. چادر ان کی باریک محافظ ہے، گندی نظروں، ہاتھوں، اور فقرے بازیوں سے!
اگر صرف ہاتھ لگانا، آواز کسنا اتنی ذہنی تکلیف پہنچا سکتا ہے، تو سوچیں اس سے آگے کی ہرسائ کتنی تکلیف دہ ہوگی. عورت جب بازار سے گھر آتی ہے تو وہ یہ نہیں بتاتی کہ اگلی گلی کے مزدور نے اسکو آدھی تعمیر شدہ عمارت میں انے کی دعوت دی تھی....وہ اپنا راستہ بدل لیتی ہے بس. وجہ؟
وجہ آپ ہیں. آپ کی سوچ اور سوال ہیں جو اس عورت کو اسی کی نظر میں مجرم بنا دیںگے. 

خود کو خوف سے آزاد کرانا ایک اندرونی جنگ ہے. 
یاد رہے، جنگ کے شروع ہونے کا وقت تو ہوتا ہے لیکن ختم کب ہوگی، معلوم نہیں. جب ہوتی ہے تب متاثرین باہر آ کر خود پر گزرا وقت بتاتے ہیں. 
جن بھوت، اندھیرے، پانی، پہاڑ، اور کئی سارے خوف ہیں جو نظر آتے ہیں لیکن جگ ہنسائی کا خوف نظر نہیں آتا. یہی وہ خوف ہے جو ان متاثرین کو اپنے خول میں بند رکھتا ہے. 

اگلا مرحلہ، معاملے کی سمجھ اور بوجھ کا ہے. 
یہ وہ دور ہے جب پاکستان میں ایک طرف تصوّف اور روحانیت کا بول بالا ہے تو دوسری طرف ملک کے مختلف حصّوں سے نوزائدہ بچیوں کی لاشیں مل رہی ہیں. 

معاملہ جب عورت کی برابری اور حقوق کا آتا ہے تو ہمارا پہلا مقصد ہوتا ہے پدرانہ نظام کے زیر اثر متاثرین کو انصاف دلوانا، ان کی آواز کو اونچا کرنا، خوف کی سرحد پار کروانا. بدقسمتی سے، ان تمام مرحلوں کے بیچ اکثر آوازیں دب جاتی ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کی ابھی سرگوشی ہی کی تھی. 

اگر کسی مرد یا عورت نے آپ کو ہراساں کیا ہے تو اسکو ہراساں ہونا ہی کہیں گے، لیکن اگر آپ کسی غیر آرام دہ گفتگو کا حصّہ بن رہے ہیں تو وہ ابھی تک جنسی ہرسائ کی تعریف میں نہیں آیا. ہراساں ہونا مذاق نہیں ہے، اور نہ ہی اسکو اتنا آسان لیا جائے.

تحریک کو تحریک ہی رکھا جائے تو ٹھیک ہے، مزاق نہ بنائیں تاکہ قاضی شہر کو انصاف دینے میں آسانی ہو.  


  


٠

Aug 15, 2018

Apr 30, 2018

میں کینسر کی مریضہ ہوں

Originally published here HumSub

گزرتے وقت میں، مجھے چند چیزوں سے  بڑی چڑ ہوگئی ہے چاہے آگے جا کر ان کا کتنا ہی فائدہ کیوں ہو. مثال کے طور پر کدو!

کدوکی سبزی سے مجھے کبھی بھی شغف  رہا چاہے اکیلی پکی ملے یا بوٹیوں کے ساتھ شوربے میں غوطے لگاتی ہوئی. ھماری والدہ ماجدہ کدو کے قصیدوں میں کمی نہیں کرتیں اوردسترخوان پر افادیت اور کدو ساتھ رکھ دیتی تھیں. 
اب کدو مہاراج کی بدقسمتی کہئے یا نصیب کا کھیل، جہاں جہاں جس کے ساتھ لگے، اس کی عزت میں کمی آتی گئی. چند روز پہلے، فاروق ستار نے ملکی مستقبل کے سب سے عزت دار سانحے یعنی الیکشن ٢٠١٨ کو بھی کدوکہہ ڈالا. اب بیچارے کدو کی عزت تو ویسے ہی کچھ خاص نہیں، ساتھ میں الیکشن بیچارہ بھی منہ چھپاتا پھر رہا ہے. 

سچ پوچھئے تو، مجھے کدو اور آنے والا الیکشن،دونوں سے ہی لگاؤ نہیں لیکن پھر بھی مستقبل کا سوال ہے تو ہم کدو بھی کھالیتے ہیں اور ووٹ بھی دے دیںگے.  آنے والے وقتوں کی فکر میں، مجھے ایک مرض بھی لاحق ہوگیا  ہے: کینسر!
تشخیص کرنے والوں کا کہنا ہے یہ ایک نئے قسم کا کینسر دریافت ہوا ہے جس کی جڑیں بنیادی انسانی حقوق سے جڑی ہیں، اور اسکی ایک شاخ میرے مرض کی وجہ ہے. 

فیمینزم کا کینسر!
آپ سوچیں گے، مجھے فورا اس کا علاج کروانا چاہئے لیکن میں ایسا نہیں کرونگی. میں اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے فائدے کیلئے یہ بیماری برداشت کرلونگی. اگر میں کدو کھا سکتی ہوں، اور ووٹ پر یقین رکھ سکتی ہوں تو فیمینزم کا تو حق ہے میری نسوانیت پر. نہیں؟

پچھلے ١٥ ماہ میں، ایدھی سینٹر اور چھیپا ویلفیئر نے سینکڑوں نوزائیدہ بچوں کی لاشیں کچرے کے ڈھیر سے اٹھائی ہیں جن میں ٩٩% لڑکیاں تھیں. یاد رہے یہ صرف وہ بچیاں ہیں جہاں تا ایدھی اور چھیپا کی رسائی ہے، یا وہ جن کو دنیا میں چند سانسوں کا شرف بخشا گیا. کتنے ہی بیج ایسے بوئے گئے ہونگے، جن کی صرف جنس معلوم پڑنے پر ہی ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا ہوگا. 
ایک طرح سے اچھا ہی ہے کیوںکہ جس معاشرے میں انسانیت کے حقوق پر اٹھنے والی آوازوں کو کینسر کا نام دیا جاۓ وہاں ہم آنے والی نسل کو کیا دیںگے؟ آج نہیں تو کل اس لڑکی کو تو مرنا ہی ہے. غیرت کے نام پر، رشتے سے انکار کرنے پر، طلاق مانگنے پر، اور کچھ نہیں اور کچھ نہیں تو کھانا ٹھیک سے گرم نہ کرنے پر.

نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے تازہ اشاعت ہوئے شمار کے مطابق، پاکستان میں پچھلے ٥ سالوں میں ایک لاکھ سے زائد انسانی حقوق کے کیس درج ہوئے ہیں جس میں، غیرت کے نام پر قتل، ریپ ،گھریلو تشدد، تیزاب پھینکنے جیسے تمام جرم شامل ہیں. یہ صرف وہ کیسز ہیں جن کا پرچہ تھانے میں درج ہوا تھا جس کے باعث یہ اعداد و شمار انتہائی کم ہیں. 

ہم وہ قوم ہیں جہاں کھانے کی میز پر اگر شوہر بیوی کے کھانے کی تعریف کردے تو جورو کا غلام، لیکن پلیٹ منہ پر دے مارے تو "مردانگی" پر پورے ١٠ نمبر اس کے ہوجاتے ہیں. ہر دوسرے دن، ہمارے معصوم بچے کسی مولوی کی حوس کا نشانہ بن جاتے ہیں، پھر بھی ہم کہتے نہیں تھکتے "کوئی مسلمان ایسا کیسے کرسکتا ہے؟"
ہم ایسے تمام جرم پر دو دن یا زیادہ سے زیادہ چار دن تھو تھو کرتےہیں لیکن سد باب نہیں کرتے. اگرآپ ایسے گناہوں اور جرائم کو بدلاؤ کے دائرے میں نہیں لائیں گے تو آپ تنقید کا بھی حق نہیں رکھتے ہیں. یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ووٹ نہ دیا ہو اور حکومتی نظام پر اپنی رائے پس کردیں.

جرم کرنے کے لئے مسلمان یا ہندو ہونا شرط نہیں ہوتی،بس حیوانیت چاہئے. جہالت کا خول چاہئے، وہ لبادہ چاہئے جسے اوڑھ کر آپ میرے مرض کی تشخیص کرتے ہیں. پاکستان میں حقوق کی جنگ لڑنا دن بدن مشکل ہورہا ہے. میرے ملک میں تو جو حق کی بات کرے وہ غدّار، جو سوال کرے وہ گمشدہ. اگر پشتین اور طاہر خان ہزارہ جیسے لوگوں کو اپنی آواز پہنچانے میں اتنی مشکلات کا سامنا ہے تو میں تو ایک "مریضہ" ہوں.

مجھے یہ مرض بخوشی قبول ہے کیوںکہ یہ میرے وجود کا سبب اور میرے کل کی جنگ ہے. ان چہروں کی روشنی ہے جو کسی جہل کے تیزاب میں دھندلا گئے. ان پھولوں کی خوشبو ہیں جو بن کھلے مرجھا گئے. ان گردنوں کے محافظ ہیں جو اپنی پسند پر سر بلند ہونگے. ان آوازوں کی چیخ ہیں جوچار دیواری سے باہر نہیں نکلتیں.

میرا مرض پدر شاہی کے خلاف بغاوت ہے!


Apr 22, 2018

"میں"

پیدا ہوئی حوا کی بیٹی تھی
جو مریم کا پاک دامن تھی 
آزاد فیصلہ تھی خدیجہ کا 
نسل سے بنت محمّد تھی

آج وقت کے رحم و کرم پر 
زمانے کے فیصلوں کی منتظر 
چند شہادتوں کی متلاشی
سینکڑوں کرداروں میں لپٹی 
گھر سجاۓ، دل بہلاۓ، 
یا ٹوٹ جاۓ 

دفن کیا حوا کے کرداروں کو 
میں اب آزاد ہوئی،
اپنی ذات ہوئی ! 




#بانوسازی 
  

Jan 7, 2018

اعتزاز حسن شہید کی یاد میں

Originally published here HumSub

آج بروز ٦ جنوری، ملک میں چند دردمند لوگ اس شخص کو یاد کر رہے ہیں جس نے ہماری آپکی خاطر اپنی نو عمری ہم پر قربان کردی، اپنی ماں کی گود، گھر کا آنگن، یہ سب کچھ سونا کردیا تاکہ اس کے گاؤں کا مستقبل محفوظ رہے. وہ مستقبل جو اس وقت تقریباً ٢٠٠٠ شاگردوں پر مشتمل تھا، اور لشکر جھنگوی کے رحم و کرم پر ہو سکتا تھا، اگر اس روز وہ  ١٥ سال کا بنگش قبیلے کا کم عمرلڑکا اس ملعون  کو سکول سے باہر نہ روک لیتا اور طالبانی/ جھنگوی ارادوں کی دھجیوں کے ساتھ خود کو بھی نہ  اڑ لیتا

وہ تھا اپنی ماں کا لعل، شیر جگر، اعتزازحسن!


آج اگر اعتزاز زندہ ہوتا تو ١٩ سال کا ہوتا لیکن اس نے لازوال قربانی کو اذیت کی زندگانی پر ترجیح دی. اعتزاز حسن، پاکستان کے خیبر پختونخواہ کے ہنگو ڈسٹرکٹ  کے گاؤں ابراہیمزائی سے تعلق رکھتا تھا، جس کی اکثریت شیعہ آبادی ہے اور آج بھی طالبان کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہے. 

اپریل سنہ ٢٠١٧ میں، طالبان نے اعتزاز کے گھروالوں کو دھمکی آمیز خط بھیجے اور یاد دہانی کرائی کے انکا بیٹا/بھائی نہ ہی تو شہید ہے نہ ہیرو. مسلسل کوششوں کے باوجود پچھلے سال تک، پکّی FIR نہیں کٹ سکی تھی  اور نہ ہی صوبائی حکومت کے بڑے بڑے وعدے پورے ہوئے تھے. یہ تو خیر ہم سب جانتے ہیں کے کون کس کے "ناراض بھائی" ہیں اور شاید اس لئے اب تک اعتزاز بس ایک یاد ہے. معلوم نہیں وہ کونسے علاقے ہیں جو اب تک نوے فیصد ہی کلیر ہوئے ہیں اور  باقی کے ١٠ فیصد کو بھائی بندی میں چھوڑ دیا ہے تاکہ وہ اعتزاز جیسے شہدا کے گھروں پر دھمکتے رہیں اور یاد دلاتے رہیں کہ "تمہاری قربانی رائیگاں، ہمارا جہاد پائندہ"!

پاکستان کا المیہ یہ ہے جنہوں نے قربانی دی ان کے گھروالے حفاظت کی بھیک مانگتے، سرکاری دروازے کھٹکھٹاتے ہیں جبکہ جنہوں نے قربان کیا انکو باحفاظت رکھا جاتا ہے. کچھ یاد آیا؟

نہیں؟
14 دسمبر 2014، پشاور، آرمی پبلک سکول، 144 جانوں کا قتل !

میں ان بچوں اور بڑوں کو شہید نہیں کہتی کیوںکہ کوئی انسان، کم از کم ایک ٦ سال کی بچی، اپنے گھر سے یہ سوچ کر صبح کو نہیں نکلتی کہ آج تو میں طالبان کے ہاتھوں بیدردی، بےرحمی سے قتل ہونگی، اپنی جان کا نذرانہ پیش کرونگی. 
وہ معصوم جانیں ١٤ دسمبر کے روز قتل ہوئی تھیں!

انکو نہیں معلوم تھا کہ آج وہ خود کو، اپنے دوستوں کو، اپنے ہی سامنے چھلنی ہوتے دیکھیں گے. ان اساتذہ، کام کرنے والے لوگوں کو نہیں پتہ تھا کہ آج ضرب ازب کی ضرب انکو لگے گی.

ان ١٤٤ جانوں میں سے ١٣٥ بچے تھے، جن کی ماؤں نے انکو ٩ مہینے اپنے جسم کا حصّہ اس لئے بنا کرنہیں رکھا تھا کہ ایک دن کوئی تکفیری طالبان آ کر درسگاہ جیسی جگہ پر ان کے لعل کو لہولہان کردے گا. کوئی ماں باپ نہیں سوچتے کے سردیوں کی چھٹیوں سے پہلے میرا بیٹے اور بیٹی کا جنازہ اٹھے گا.
اس بیٹے کا جوکچھ دن پہلے اپنے باپ کو اپنے مستقبل کے پلان بتا رہا تھا اور باپ دل ہی دل میں پیسے جوڑ رہا تھا. وہ بیٹی، جو ماں کا پلو نہیں چھوڑتی تھی اور اب کہیں جا کر اسکول جانا سیکھا تھا......ایسے، ایسے بچوں کا جنازہ گھر آیا اور آپ کہتے ہیں وہ شہید ہیں انہو نے جان کا نذرانہ دے دیا؟
نہیں!
ان بچوں  سے  اس روز درندگی نے زندگی چھین لی تھی!

بدلے میں ہم احسان الله احسان جیسوں کو میڈیا پر لا کر زخم تازہ کر رہے ہیں. اس کو ہیرو بنا رہے ہیں، اسلام کی خلافت کا مظاہرہ، اور آرمی کی کامیابی کا ڈنکا بجا رہے ہیں. بھلا ہو ان والدین کا اور انکی کوششوں کا جنہوں نے بروقت پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی، اور اسپیشل بینچ نے احسان الله احسان کی عام معافی اور رہائی دونوں پر فالوقت پابندی عائد کردی ہے.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ احسان الله احسان جیسے درندے، قاتل کی عام معافی اور رہائی کا سوال کیسے پیدا ہوا؟ اگر ہماری فوج حکمرانوں کے تختے الٹنے اور انھیں پھانسی کے تختے تک لے جا سکتی ہے تو احسان اللہ احسان کے لئے کیوں نہیں تارہ مسیح بن سکتی؟

آخر پاکستان میں آزادی کی سانس اتنی مہنگی کیوں ہو گئی ہے؟

مزے کی بات تو یہ ہے کہ اگر میں پیاز ٹماٹر الو کی مہنگائی پر رونا رونگی تو کوئی نہ سنےگا، نہ کچھ کہے گا، لیکن آزادی کی تنقید، حقوق کی آزادی، ایسی باتوں پر ادارے آپکی سستی سی جان کو رلا سکتے ہیں. 

آپ کو لگ رہا ہے میں مذاق کر رہی ہوں؟ ایک تو آپ لوگوں کی یاداشت بھی نا !

پچھلے سال اسی جنوری میں چند بلاگرز کو گمشدہ کردیا گیا تھا اور تب بھی میں نے ایک تحریر لکھی تھی اور کہا آزادی اور سچ بڑا مہنگا ہے. کچھ لوگ انجانے میں صبح کو گھر سے نکل کر، قتل ہو کر، آزادی کی نظر ہوتے ہیں تو کچھ لوگ حق کے لئے آواز اٹھاتے رہتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ "انجام گلستان کیا ہوگا".

٢٠١٨ ابھی شروع ہوا ہے اور میری دعا ہے کسی ماں کی گود نہ اجڑے کیوںکہ ہر ماں ام لیلیٰ اور رباب تو نہیں، اور دعا ہے کہ حق کی طرف رہنے والوں کو "حر" کی دعا اور دوا دونوں ہو!


خدا مشعل خان جیسی کئی مشعل راہ دے میرے پاکستان کو.
آمین !


Oct 14, 2017

نعیم بخاری “ایک کلومیٹر سے خاتون کا کردار” پہچان لیتے ہیں

Originally published here HumSub

حال ہی میں، ملک کے مشہور میزبان اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل نعیم بخاری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ "ایک کلومیٹر سے خاتون کا کردار پہچان جاتا ہوں".
یقین جانئے، سن کر دل کوتسلّی ہوئی کہ بالاخر ہم نے بحیثیت قوم اتنی ترقی تو کرلی کہ کردار جانچنے کی پیمائش ایک کلومیٹر ہے. اچھے وقتوں میں، بنا دوپٹے، گہرے گلے، بنا آستین وغیرہ کے کپڑے پہننے والی خواتین کا ہی کردار شبہے کے دائرے میں آتا تھا. بہت چھلانگ ماری، تو سگریٹ پینے والی اور مردوں کے ساتھ قہقہہ لگانے والی کو بھی ١٠٠ مردوں کے بستر سے گزار دیتے تھے.
اب سچ پوچھئے توقصور بھی عورتوں کا ہی ہے، خامخواہ آجاتی ہیں  سامنے ایسے واہیات معاشرے کے سامنے جہاں لوگ کپڑے تو پہنتے ہیں لیکن سوچ ننگی ہے، روٹی چاول سے پیٹ تو بھرتے ہیں لیکن ہوس بھوکی ہے.
ایک چٹکی سندور تو سنا تھا لیکن ایک  کلومیٹر کی کیا ہی بات ہے.سو بس مذاق کی رو میں بہہ کر نعیم بخاری صاحب نے بھی ملک کا انتہائی پیچیدہ مثلا حل کردیا اور وہ  ہے عورت کا کردار جس کی حد ہے ایک کلومیٹر!
اب پنچایت کو فیصلہ سنانے کے لئے گواہ کی نہیں بس ایک کلومیٹر سے دیکھنے کی ضرورت ہے اس معصوم کو جس پر الزام ہے. مقدّر تو ویسے بھی اس بیچاری کا قتل یا ریپ ہے تو گواہ کو کیوں تکلیف دیں؟ بس ایک کلومیٹر سے دیکھ لینگے. وہ غیرت مند بھائی جن کا خون نیلم سے زیادہ ٹھنڈا پر جوشیلا ہے، وہ بھی اپنی بہن بھابھی کا کردار ایک کلومیٹر سے پہچان لینگے.

میری نظر میں اس کا بہترین فائدہ جو ہوگا وہ ہوگا رشتہ ڈھونڈتے وقت آنٹی قسم کی خواتین کو کیوںکہ میرے تجربے کے مطابق خواتین لیپسٹک کے کلر،لڑکی کے بال وغیرہ اور شاید بکری کے دو دانت بھی دیکھتی ہونگی. ان سب باتوں سے لڑکی پہلا مرحلہ رشتہ پاس کرتی ہے. اب نعیم بخاری کے ماہرانہ سائنسی فارمولا کے مطابق آپ رشتہ طے کرسکتی ہیں صرف ایک کلومیٹر سے. آپ  اپنے تیز ذہن کو ذرا تخیل کی دنیا میں لے جائیں اور سوچیں: یونیورسٹی، کالج کے باہر لڑکے کی ماں انتظار کررہی ہے تاکہ وہ ایک کلومیٹر سے ہی چند لڑکیوں کو منتخب کرلے جن کا کردار اچھا ہو.
نعیم بخاری صاحب بھی اسی معاشرے کا حصّہ ہیں. گو کہ وہ کہیں گے کہ یہ بات انہوں نے ازراہ مذاق کہی تھی لیکن سوال یہ بنتا ہے آخر تذلیل اور تحزیک کا نشانہ عورت کے وجود کہ اس پاس ہی کیوں  گھومتا ہے؟ گالی دینی ہو تو ماں بہن، تھیٹر کامیڈی میں ہنسانا ہو تو بیوی پر فقرہ کس دو، مذاق اڑا لو، فون پر لطیفے اتے ہوں تو اکثریت عورتوں پر ہوتی ہے. 
پچھلے کچھ ماہ میں شہر ممبئی اور کراچی میں موسلادھار بارشیں ہوئیں جس کے باعث کاروباری اور ذاتی زندگی مفلوج ہوگئی. اس دوران فیس بک، ٹویٹر، اور وہاٹسپپ وغیرہ پر ایک ہی طرح کا لطیفہ مرد حضرات لگا رہے تھے کہ انھیں انکی بیویوں سے بچایا جائے. مرد دوست ہاسا اڑا رہے تھے، خواتین بھی internal misogyny کا منہ بولتا ثبوت دیتے ہوئے کھی کھی کر رہی تھیں. اس دوران میں یہ سوچ رہی تھی کیا یہ عورتیں اس طرح کا مزاق شوہر کا یا کسی بھی مردانہ رشتے کا اڑا سکتی ہیں؟ یا جس خاتون سے اپکا صیغہ پڑھا گیا ہے اپ اسکو یوں چار لوگوں کے بیچ ہنسی کا بیان بنا رہے ہیں؟
پڑھنے والے کہیں گے یار آگئی یہ خاتون اپنا "فیمینزم" اور "مساوی حقوق" کا بینڈ باجا لے کر لیکن میری باتیں درحقیقت بنیادی انسانی حقوق کی ہے. ہم ہر بات کو جو عورت کے قلم اور زبان سے نکلے اس کو ہنسی میں اڑا کر اصل مسائل سے توجہ نہیں ہٹا سکتے.

چاہے وہ بلیو وہیل کا گیم ہو یا شہر کراچی میں چاقو گھونپنے والا چھلاوا، ہمارے ملک میں ہر چیز کا مزاق بن گیا ہے. کوئی اپنی بیوی کو بلیو وہیل گیم کھیلنے کا مشورہ دے رہا ہے تو کوئی بیگم کو گلستان جوہر جانے کو کہ رہا ہے. قتل یا خودکشی کوئی معنی نہیں رکھتی کیا؟
ان ساری باتوں کا المیہ یہ ہے کہ، جس کی تذلیل ہورہی ہے وہ اصل ذلیل نہیں ہے، بلکہ وہ ہے جو تذلیل کر رہا ہے، لیکن بلی  کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟
  
گویا تمہارا جنم عورت کے بطن سے، تمہاری نسل اس عورت سے، تمھارے گھر کی چولھا چکّی اس عورت سے،  تمہارا جسمانی عیش و عشرت، دماغی سکون اس عورت سے ہے. قصّہ مختصر کہ زندگی مکمّل کرنے اور گزارنے کا انحصار عورت پر ہے پھر بھی اس کی عزت کا انحصار مرد پرہے. واہ رے انسان!


Oct 2, 2017

The Secret of Mountains

I can't believe I finished a book of over 300 pages in less than 3 days. The last time I remember doing such thing was with Ayn Rand' s The Fountainhead, back in 2004.


The Secret of Mountains is Fanoos Faroughi's first English novel. She is a Persian author and has written quite a few books in Persian. I picked up this book only because of my interest in Iranian literature and films. The back of this book told me that it's about a woman and her struggles in a patriarchal Islamic society. In addition to this, it's a first-person narrative which I personally prefer to read. This novel is set in the backdrop of modern Iran with no mentioning of its political turmoil or religious references but based on true accounts.

Raaz is the first narrator/protagonist of this novel who is a divorcee, along with two other key characters Feragh (her ex-husband) and Soroush (her mentor and future husband)

Faroughi has done brilliant and captivating storytelling throughout the book. Raaz's character is very relevant to women from eastern societies who have been divorced without any rights. The struggle of parents, support of family and above all the stages of grief are defined perfectly in this book.

I personally loved the character of Saroush and I think he was the reason I just couldn't stop reading. Having said that, I think, Fanoos could have given more horizontal depth to his character in terms of his past and love for Raaz.

P.S. book also introduced me to readings of Master of Kharaghan

Jun 3, 2017

I am divorced, not damned

Originally published here Daily Times

Recently, I read the diary of a divorced girl in one of Pakistan’s English dailies. Unfortunately, I could relate to almost everything there except that I had supportive parents and a brother who believed in me, not others.
I am thankful to that anonymous blogger who gave me this courage to write down my experiences on a public platform.
Back in 2008, when I came back home after living with my ex-husband for a period of 18 months, it took me almost 2 months to file my complaint in Sharia Court. I will not get into the unnecessary details of why and how I reached the decision of divorce but the social consequences of that decision were not trivial and I managed to weather through them with the support of my loved ones.
It’s the 21st century and people still believe marriage means “never coming out of it”; especially for women in our society. If two people are unable to create a harmonized home and end up losing the sanity to function in the world then there is no point in staying under one roof, or for that matter sleep on the same bed with never-ending silence in between. I belong to a middle-class family where my parents taught me that “struggle” is your strength but do not “compromise over your dignity”, ever. Unfortunately, my family does not represent society!
I still remember the day before I had to sign my divorce papers; my uncle told me that I had to choose between the two fights. One fight was to go back to my in-laws and fight to survive or come back and fight to exist in a society with the stigma of being a divorcee. I chose the latter. It was not an easy decision and I went through each and every stage of grief for years. It was after that time has passed, I realized that my strength was my family, friends, and education.
Divorce is not just a word, it’s a label.
People use the term “talaaq-yaftaa”, literally “divorcee” while referring to me disrespectfully. I, on the other hand, take it as a relationship status. If you can be married, engaged, in an open-relationship then why not divorce? I often tell people that I divorced my ex-husband and that proves he was not worth it but it hardly helps my argument.
The first thing the society will warn you at the time of divorce is virginity, and you will ask yourself, “seriously?”
Unfortunately, they are serious. In our social setup, virginity belongs to women only, therefore, when you are divorced, you will be considered as “used”. A close relative told me that I am “second-hand” hence I should not be picky in choosing my second husband and compromise for any tom dick or harry.
Trust me I or any one of us is not a thing which can be “used”. We are humans, we commit mistakes, and if given a little courage and support from our social system, we can also claim our peace of mind with due happiness.
If you are around divorced women, remember:
  • Don’t consider us desperate for you
  • Don’t take advantage of any kind of vulnerability
  • Don’t characterize us negatively
  • Don’t challenge our dignity or self-respect
  • Don’t label us as home-breaker
  • Don’t ask us to narrate the story. It hurts!
  • Make us laugh
If you are a woman, who’s stuck in an unhealthy or unhappy marriage and not making a decision because “log kya kahen gay” (what will people say), remember:
  • It’s your suffering and not others
  • Make yourself financially stronger
  • Find people who can be your pillar in good or bad
  • Unhappy relationships won’t build a happy home
  • Don’t sulk, rather speak
  • It’s not an easy decision but life was never a bed of roses
As a woman, all of us want to build a peaceful home and live a happy married life but do not make it as the only objective in your life. If you are raising a daughter, educate her, teach her, and give enough exposure before she ‘settles’ down. There is no point in teaching and preaching women that without men they have no place in society otherwise our evolution as human beings are at a halt.
The dilemma of our society is that divorce happens between two people, but only one of them suffers. Thanks to the patriarchal society, it’s mostly women. I am not here to speak about equal rights or to take you through feminism 101. I just shared my experience as what happened, continue to happen and can be stopped if we as a society consider divorce an incident and not an incurable disease.

Apr 15, 2017

فلم ’بیگم جان‘ میں بٹوارے کی بے لاگ منظرنگاری

Originally published here HumSub

بیگم جان نے سنیما سکرین پر داخل ہونے سے پہلے ہی فلم شائقین کو اپنے کردار اور باتوں سے چونکا رکھا تھا اور ہر زبان پر بس ودیا بالن "بیگم" کا ہی چرچا تھا. میں نے ایک ہفتہ قبل ہی اس فلم کا ٹکٹ بک کرا لیا تھا اس یقین سے کہ مہیش بھٹ اور ودیا بالن نا امید نہیں کریں گے.


بیگم جان، دراصل بنگالی فلم "راج کہنی" کو لے کر ہندی میں بنائی گئی فلم ہے جو کہیں نہ کہیں حقیقت پر مبنی ہے. بیگم جان کا کردار اور کہانی لکھنے کی ہمّت شریجیت مکھرجی نے کی ہے جب کہ بےباک ڈائلاگ  کوثر منیرکے ہیں.  

فلم کی شروعات ہی میں فلم کو سعادت حسن منٹو ار عصمت چغتائی کے نام کردیا جاتا ہے اور یوں دیکھنے والے شائقین کی امید اور بڑھ جاتی ہے. یہ برصغیرکہ وہ دو لکھاری ہیں جنہیں پڑھنے کے بعد کسی انسان کو تقسیم ہند کی تاریخ پر خوشی یا فخر نہیں ہو سکتا بلکہ انسانیت پر شرمندگی اور ملال ہونے لگتا ہے.

یوں تو فلم تقسیم ہند کے پس منظر پر مبنی ہے لیکن اس کے لئے موجودہ منظر میں دہلی میں بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات کی ایک جھلک دکھلائی جاتی ہے تاکہ دیکھنے والوں کو بتلایا جا سکے وقت بدلا لیکن حالات نہیں. 

کوثر منیر نے انتہائی باریکی اور نزاکت سے ١٩٤٧ کی تقسیم کو سکرین پر لکھا ہے کہ کیسے ایک اہم لیکن "احمقانہ" لکیر نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر اور بے عزت کیا. تقسیم کی یہ لکیر بیگم جان کے کوٹھے کے بیچ سے گزرتی ہے جس کے باعث انہیں وہاں سے جگہ خالی کرنے کو کہا جاتا ہے اور یوں کہانی آگے بڑھتی ہے. 

ودیا بالن اس فلم کا مرکزی کردار نبھا رہی ہیں جوشکرگڑھ اور دورانگلہ تحصیل کے بیچو بیچ ایک کوٹھی کو کوٹھے میں تبدیل کرچکی ہے اور "بیگم جان" کے نام سے جانی جاتی ہیں. بیگم کے پاس کوئی ٧-٨ لڑکیاں کام کرنے والی ہیں جن کی کہانی کو فلم کے مختلف حصّوں میں دکھایا جاتا ہے. بیگم جان بذات خود کم عمری کی بیوگی گزار چکی ہوتی ہیں جنہیں بنارس سے لکھنؤ تک کے کئی کوٹھوں کا سفر کرنے کے بعد "بیگم جان" کا رتبہ ملتا ہے. فلم بنانے اور لکھنے والوں کا کمال ہے کہ انہوں نے آزادی کے پس منظر میں انسانی فطرت کے پیچیدہ ترین رشتوں اور خواہشوں کو خوبصورتی سے دیکھنے والوں تک پہنچایا ہے.

جب سر ریڈکلف لکیر کھینچ دیتے ہیں تو مسلم لیگ اور کانگریس کی جانب سے دو سرکاری افسران ملتے ہیں جو درحقیقت بچپن کے دوست ہوتے ہیں لیکن آزادی کے  بعد دشمن ہونے پر مجبور. اشیش ودھیارتی جنہوں نے کانگریس کی جانب سے ہندو افسر ہونے کا کردار نبھایا ہے، وہ مسلمان افسر(دوست) کو بتلاتے ہیں کہ اس آزادی کو قبول کرنے کا آسان طریقہ نفرت ہے.  اس فلم کے ان دو کرداروں نے بتایا کہ نفرت کا بیج ہی اصل بٹوارہ پیدا کریگا لیکن اس نفرت کی قیمت انہوں نے بھی دی --- خاندان کی صورت، عزت کی صورت، اور سب سے بڑھ کر ضمیر کی!

بیگم جان کا کوٹھا کسی بھی عام کوٹھے کا نقشہ کھینچتا ہے جہاں نہ کوئی ذات پات، نہ دھرم ایمان، لیکن احساس ہے تکلیف ہے جس کی دیکھ بھال بیگم جان کرتی ہیں. ودیا بالن کی اداکاری پر ویسے بھی کسی کو شک نہیں لیکن یہ کردارشاید ان سے بہتر کوئی بھی نہ نبھاتا. کوثر منیر کے ڈائلاگ سے مکمّل انصاف صرف ودیا کرسکتی تھیں. لفظوں کی بیباکی اور درد ودیا کی اداکاری سے امر ہوگے. 

فلم میں ویسے تو کئی بہترین لمحات ہیں لیکن ذاتی طور پر مجھے وہ کہانیاں پسند ہیں جو انتہائی خوبصورتی سے بیچ بیچ میں "اماں" کوٹھے پر رہنے والی دس سالہ "لاڈلی" کو سناتی ہیں. یہ کہانیاں جھانسی کی رانی سے لے کر مہارانی پدماواتی پر مشتمل ہیں اور اماں ان کہانیوں کو سبق کے طور پر سناتی ہیں. ہند و پاک وہ خطہ ہیں جہاں آج بھی لڑکی کو کمزور/نازک/ابتر سمجھا جاتا ہے اس لئے یہ کہانیاں بیگم جان کے کردار میں عجیب سی جان ڈالتی ہیں. 

کوٹھے اور طوائف پر تو بہت فلمیں بنی ہے لیکن "بیگم جان" کی خاص بات ہے وقت کی یاد دہانی!

جس طور طریقے سے بیگم جان کی کوٹھی خالی کرائی جارہی تھی وہ طریقے آج بھی زندہ ہیں، بس آلہ واردات ترقی یافتہ ہیں. عصمت دری کا خوف تب بھی تھا اب بھی ہے. راجہ مہاراجہ چلے گئے، زمیندار اور انکی سرکار نے جگہ لے لی.

ہندوستان اور پاکستان نے ١٩٤٧ کی تقسیم دیکھی، بلوے دیکھے، عزتیں کنوئیں میں کودتی دیکھیں اور یہی سب پھر ١٩٧١ میں دیکھا، لیکن آج بھی سرحد کے دونوں  پار نفرت کا وہ بیج جو جان بوجھ کرتقسیم کے وقت بویا گیا تھا، جنگ اور لاشوں کی صورت فصل کاٹ رہا ہے.

تاریخ کا اصل اور بدصورت پہلو تو منٹو کی کہانیوں میں ہے، امرتا کے پنجارمیں ہے، یا پھر چغتائی کی لحاف میں چھپا ہے.

ہمیں آنے والی نسلوں کو اس تاریخ سے روشناس کرانا ہوگا، ان کے ذہنوں کو ذات کی غلامی سے آزادی دلانی ہوگی تاکہ ہم میں اپنی تاریخ سے نظر ملا کر بات کرنے کی ہمّت ہو اور غلطیاں نہ دوہرانے کی سوجھ بوجھ پیدا ہو. 

Jan 13, 2017

میری آواز کو قفل ڈال، سچ کی گونج لے جا!

 Originally published here HumSub
بچپن میں جب کچھ غلط کرتے ہیں  ہیں تو گھر کے بڑے بزرگ ڈانٹ مار کر سمجھاتے ہیں، بتاتے ہیں کہ سچ بولو اور اچھا کرو لیکن دستور وطن کچھ اور ٹہرا .سچ بولنے کو خاموشی کا سبق دیا جاتا ہے  اور حق کی آواز اٹھانے والوں کو ہی اٹھا لیا جاتا ہے.
وطن عزیز میں مثالیں تو بہت ہیں جب جب ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ ہم نے انگریزوں سے تو آزادی حاصل کرلی، لیکن خود سے آزاد نہ ہو سکے.
سلمان حیدر، احمد رضا، احمد وقاص گورایا اور عاصم سعید وہ چند نام ہیں جو ٤ جنوری سے ٧ جنوری کے بیچ پاکستان کے مختلف علاقوں سے غائب کردیۓ گئے. ٢٠١٦ تک تو ہم بس سنتے تھے کہ گمشدہ یا تو بلوچ ہوتے ہیں یا پھر متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان لیکن ٢٠١٧ نے تو مجھ جیسی عام  انسان کی آنکھیں ہی کھول دی ہیں اورساتھ ہی عقل نے زبان پر تالہ ڈالنے کا تقاضا کردیا.
کیا انسانوں کی گمشدگی  ان کی اٹھائی آوازوں کو بھی گم کردے گی؟ یا پھر یہ اشارہ ہے اس خاموشی کا جو خوف کی صورت پیدا ہوتی ہے.
لے جا،
میری زبان سے
 نکلے الفاظ
لے جا


میرے ذہن پہ
لکھےخیال 
لے جا 

میری جنگ کے
ہتھیار لے جا
 
کوئی چارہ گر 
رہ نہ جائے
میرے یار
میرے احباب 
لے جا 

میری سوچ کا 
قاتل بن کر
میری نظموں کا 
مضمون 
لے جا

جنوں کو ضرب 
لگانے والے
زمانے بھر سے
مرہم لے جا 

میری آواز کو
قفل ڈال 
اور
سچ کی گونج 
لے جا !


Jan 2, 2017

2016 – دہشت گردی اور فرقہ وارانہ قتل و غارت سے لتھڑا سال

Originally published here HumSub

نیا سال مبارک ہو آپکو ! 

لیکن کس بات کی مبارکباد دوں یہ سمجھ نہیں آرہا کیوں کہ ٢٠١٦ میں اتنے ظلم ہوئے ، اتنے زخم کاری ہوئے جن کا درد اور یاد دونوں میری مبارکباد سے کم نہیں ھونگے . ہم دنیا بھر میں اک دوسرے کو فیشن کے طور پر ٣١ دسمبر کی رات بہت گرمجوشی اور ہنستے مسکراتے نئے سال کی دعا دیتے ہیں جب کے خود کو بھی اِس سچائی کا علم ہوتا ہے کے کیلنڈر کی تاریخ کے علاوہ کچھ نہیں بدلنا  . 
 زندگی کے لیے صرف حالات و واقعات نئے ہوتے ہیں ، جن کا تاریخ سے کوئی لین  دین نہیں ہے .
 
ایسی ہی کئی زندگیاں ہم نے ٢٠١٦ میں پاکستان کے قبرستانوں  کے حوالے کردی . 
ISPR کے مطابق ٢٠١٦  میں دہشت گردی کے واقعات میں بہتر فیصد کمی آئی ہے ، جس میں آپْریشَن ضرب ازب کا مرکزی کردار رہا . دوسری جانب پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کونفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹیڈز کے مطابق یہ نمبر صرف تیس فیصد  ہے .

 اب یہ تو خدا جانے کس کیریاضی کمزور ہے . 

 حکومت اور حفاظتی ادارے یقیناً  دن رات کام کر رہے ہیں لیکن کیا پوری نیک نیتی سے کر رہے ہیں ؟ ہم نے شاید دہشت گردی کے واقعات  میں تو 72% کمی دیکھ لی ، لیکن جوواقعات  ٢٠١٦ میں پاکستان میں ہوئے اس کے نقصان کی نوعیت اتنی شدید ہے کہ اس 
 کا ازالہ ممکن نہیں . 

١٣ جنوری کو کوئٹہ کے اک گنجان آباد  علاقے میں پولیو ویکسینیشن سینٹر پر حملہ ہوا جس میں شہید ہونے والی اکثریت پولیس والوں کی تھی . یہ پولیس کی وردی پہنے وہ محافظ تھے جو کوئٹہ جیسے شہر میں پولیو ورکرز کی حفاظت پر تعینات تھے . افسوس ، ہمارے محافظوں کی کوئی حفاظت نہ  کر سکا اور ایک ہی  جھٹکے میں صرف ١٢ پولیس والے شہید نہیں بلکہ ١٢ خاندان اجڑ گئے .

آرمی پبلک اسکول  کے حادثے کا زخم ابھی صرف ١٣ ماہ پرانا ہی تھا ، جب چارسدہ  میں  باچا خان یونیورسٹی پر حملہ ہوا . پورے ملک میں خوف کی لہر دوڑ گئی خدانخواستہ  ہم دوبارہ APS  نہ دیکھیں . 

عام خیال ہے كے پنجاب میں دہشت گردی کا تناسب کم ہے ، لیکن یہ بس خیال ہی ہے . ٢٧ مارچ کو لاہور میں  ایک خودکش بمبار ٧٦ لوگوں پر بھاری پڑ گیا. . اس شام گلشن پارْک میں ان گنت  والدین کا گلشن ، گلشن پارْک میں اجڑ گیا . فاطمہ تو حسین کو اک بار روئی تھیں ، میرے ملک میں تو روز کتنی فاطمہ اپنے حسین کو روتی ہیں.
 
بلوچستان كے بارے میں حسرت ہی رہی کے کچھ اچھی خبر آئے اور٢٠١٦ تو شاید 
اِس صوبے کے لیے بدترین سالوں میں سے ایک تھا  . کوئٹہ میں ٨ اگست کو سول اسپتال میں ہونے والے دھماکے نے دس بیس یا تیس نہیں ، بلکہ ستّر سے زائد وکلا کو ایک دھماکے کی نظر کردیا ہے. صوبے میں انصاف کی کمی تو پہلے ہی تھی ، اب انصاف کے لیے لڑنے والے بھی نہ رہے.

دہشت گردی میں ہونے والے حملوں کی عمومی  طور پر ذمہ داری تحریک طالبان یا اس سے   جڑی جماعتیں  لیتی ہیں. تب ہم جیسے عام انسان سوچتے ہیں کہ ضرب ازب کی ضرب طالبان کو زیادہ لگی ہے یا ہمیں؟ 

 سوال پیدا ہوتا ہے ، کیا ساری  ذمہ داری اک آپْریشَن کی ہے ؟ نیشنل ایکشن پلان کا کیا کردار رہا ؟

 کافی بدکردار رہا! 

طالبان اورتکفیریت  اک سوچ ہے اور اِس سوچ کو حکومت اوراداروں  نے معصوموں کے خون سے سینچا ہے . پچھلے کئی سالوں  سے پاکستان  میں بار بار  یہ آواز اُٹھائی جاتی ہے کے اک سسٹم کے تحت شعیہ فرقے پر حملے ہوتے ہیں اور جو آواز اٹھائے اسکی آواز بھی دبا جاتی ہے . 

٧ مئی ٢٠١٦ کو خرم ذكی کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کردی گئی . خرم اک جانے مانے انسانی حقوق کے کارکن اور صحافی تھے . قصور صرف اتنا تھا کے آپ طالبان اور ان کے  سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے والوں کے خلاف سرگرم تھے اورشیعوں  کے خون کا حساب مانگتے تھے.

 خرم ذكی تو پِھر آواز اٹھاتے تھے ، لیکن اِس پاك سر زمین پر تو قوالی کی آواز بھی نہیں برداشت ہوتی . یہی وجہ تھی جو دنیا بھر میں سنے جانے والے امجد صابری کو "لشکر جھنگوی" نےدن دہاڑے قتل کر دیا اور ہماری پولیس کافی عرصے تک اک پارٹی سےدوسری  پارٹی کوقاتل ٹھہراتی  رہی . 

جب کچھ نہیں بنتا تو طالبان مزاروں اور درگاہوں کا رخ کرتے ہیں اور اِس بار  بلوچستان کے پہاڑوں  پر چھپے شاہ نورانی کے چاہنے والوں کے خون سے مزار کو دھو دیا . 
ان سب واقعات کا نتیجہ ؟ 

اکتوبر کے آخری عشرے میں اک شام اسلام آباد کا علاقہ  آبپارہ،  کالعدم جماعت ASWJ کا شعیہ کافر شعیہ کافر کے نعروں سے گونج اٹھا .
 
وفاقی درالحکومت  میں تو حکومت اور حفاظتی اداروںکی تو چلی نہیں ، تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے .
 
یہ تھا میرے ملک کا ٢٠١٦ . 

اگر٢٠١٧ میں کچھ مختلف ہوا  ، بہتر ہوا  تو پِھر ٢٠١٨ کی مبارکباد ضرور ادھار رہی. 

Dec 28, 2016

دل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئی

سردیوں کی شام ویسے بھی مہرکو بےحد پسند تھی. ایسی ہی سردی کی کوئی شام تھی جب "اس" کی  ماں نے مہر کے نام پر سرد مہری دکھائی تھی اور وہ چنگاریوں کو راکھ میں تبدیل کر کے وہاں سے اٹھ گیا تھا.

خشک، سرد ہوا جب مہر کے چہرے کو چھوتیں تو اسکو یقین ہوجاتا کہ وجود میں تو گرمی باقی ہے لیکن احساس ٹھنڈے پڑ چکے ہیں. سرمئی شام آہستہ آہستہ تمام روشنی کو اپنی لپیٹ میں لئے رات کی طرف بڑھ رہی تھی اورمہر یادوں کے غار میں جہاں سے واپسی کا راستہ وہ ہمیشہ بھول جاتی تھی. 

برابر میں بیٹھی سادیہ نے پھیکی سی مسکراہٹ سے اسکی طرف دیکھا اورسمجھ گئی مہرکو راستہ دکھانے کا وقت آگیا ہے. سادیہ نے آواز اونچی کر کے اس کا دھیان اپنی طرف کیا اور کہا،

 "میرا خیال ہے میں اس کو بھول چکی ہوں."

مہر نے طنزیہ قہقہہ لگایا اور کہا، "بھول چکی ہوتی تو یوں یاد نہ ہوتا"

"کیا مطلب؟"

"محبّت ایک دائرہ ہے. تم دائرے سے کبھی نہیں نکل سکتی بس دوسرے سرے پر آکر اس مغالطے میں مت رہو کہ بھول گئی ہو."

"ہو سکتا ہو میں نے دائرہ توڑ  دیا ہو؟"

"محبّت نامکمّل ہو تو پہلے درد دیتی ہے، پھر صبر بن کر ذات بن جاتی ہے. وہ دائرہ تمہاری ذات ہے جس کے ساتھ رہنا سیکھ لیتے ہیں."

"پھر تم صبرکیوں نہیں کرلیتی مہر؟"

"میرا درد جو ختم نہیں ہوتا."







بانوسازی
دسمبر ٢٨، ٢٠١٦
رات ١:١٥

Oct 7, 2016

جنگ سے نفرت، جہالت اور تباہی پھیلتی ہے

Originally published here HumSub

جب میں  پیدا ہوئی تب ہی ابّا جی نے سوچ لیا تھا یہ والی بچی تو بس ڈاکٹر بن گی اور تقریباً تیرا سال اس  امید اور خواب  میں گزارے کے یہ پیاری بچی انکی بات مانے گی ،لیکن  خدا نے اور زندگی نے مجھے ایک بار نہیں بلکہ  دو بار بغاوت کا موقع دیا . سکول میں تو جان جاتی تھےکے مینڈک کو ہاتھ لگانا ہوگا لیکن جب کالج میں آئی  تو بورڈ کے فارم میں بائیولوجی بھرنے سے پہلے ہسپتال کا کوئی چکّر لگ گیا.

ہلکا سا بخار چڑھا تھا توگھر کے قریبی  ہسپتال کی OPD میں بیٹھی تھی جب میں نے ایک ماں کو رکشے سے اترتے دیکھا اور اسکی گود میں بمشکل ڈھائی یا تین سال کا بچا ہوگا جس کا سر پھٹ گیا تھا. بچے کو تو ہسپتال کا عملہ تیزی سے اندر لے گیا لیکن اسکی ماں کی حالت مجھے آج بھی یاد ہے. تب ہی مجھے احساس ہوگیا کے اگر میں ڈاکٹر بنی تو سواۓ رونے کے کسی اور چیز کی اسپیشلسٹ نہیں بن سکتی.

اس ماں کا بیٹا تو ٹانکے لگوا کر پھر سے اپنی ماں کی گود میں چڑھ گیا ہوگا. اگلے کئی دنوں تک ماں باپ سے نخرے بھی اٹھوائیں ہونگے. کبھی ان بچوں کا سوچیں جو خود یا ان کے والدین  کا سوچیں جو  بمباری، شیلنگ، اور فائرنگ کا شکار ہوتے ہیں. 

انسان اپنی کی غلطی کی بھی چوٹ کھائے تو غصّہ اور تکلیف ہوتی ہے، پھر یہ تو مسلط جنگیں ہیں جو آنے والی نسلوں کو یتیم، جوان کو بیوہ، اور بوڑھوں کا سہارا چھین لیتی ہیں.

جب کبھی میڈیا پر شام میں ہونے والی جنگ اور اس کے نتیجے میں زخمی اور ہلاک بچوں کی خبر یا ویڈیو چلتی ہے تو میرا فیس بک، اور ٹویٹر ہمدردیوں سے بھر جاتا ہے. الان کردی، عمر دقنیش، اور کئی شامی بچوں پر ہماری قوم کا کلیجہ کٹ جاتا ہے، آنسوؤں کے سمندر بہ جاتے ہیں، اپنی اولاد کی سلامتی کے لئے دعائیں ہوتی ہیں.
 یہ تمام جذبات اس وقت نیند کی گولی کھا لیتے ہیں جب  کشمیر کے LOC پر حملہ یا فائرنگ کا واقعہ پیش آتا ہے قوم کا بس نہیں چلتا اپنے کمپیوٹر کی سکرین سے ہی ایک عدد  نیوکلیئر بم ہندوستان کو دیں ماریں اور کچھ ایسے ہی  جذبات پڑوسی ملک بھی ہمیں دکھاتا ہے.

"جنگ" 
یہ تین حروف آپ کی تین نسلیں تباہ کرنے کی حیثیت رکھتا ہے. آپ کا گزرا ہوا کل، آنے والا کل، اور ان کا رکھوالا آج....... سب جنگ کی نظر!

سوشل میڈیا اور میڈیا  کا المیہ ایک یہ بھی ہے کہ، اس پر موجود نسل نے جنگ کا ج بھی نہیں دیکھا اور جنہوں نے جھلک دیکھی یا سنی ہے وہ اس کے نقصانات سے مستفید نہ ہو سکے. 

بدقسمتی سے میرے ماں باپ نے ٧١' کی جنگ دیکھی بھی اور سہی بھی، بدقسمتی اس لئے کیوںکہ ان کے پاس شہادت، قومیت سے جڑی کوئی کہانیاں نہیں ہیں، ہاں سبق ضرور ہے. شاید یہی وجہ ہے کہ میری تربیت میں انسانیت کو ہر چیز پر فوقیت ہے. 

اور پھر کیوں نہ ہو؟
١٤٠٠ سال پہلے امام وقت نے بھی کربلا میں قدم جنگ کی نیت سے نہیں رکھا تھا بلکہ آخری وقت تک صلح اور گفتگو کی روش اپنائی تھی. تاریخ گواہ ہے جنگوں سے کسی عام  آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا سواۓ اس کے کہ اسکو لاشیں اٹھانی پڑیں، گھر بار چھوڑنا پڑا، فاقہ کاٹنا پڑا.

لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف وہ لوگ بستے ہیں جنہوں نے آپس میں شادیاں کر رکھی ہیں، یادیں، نسلیں جوڑ رکھی ہیں. کبھی ان سے پوچھیں کیا وہ جنگ کے خواہشمند ہونگے؟ اس ماں سے پوچھیں جس کا بیٹا فوج کی وردی پر سرحد پر محافظ بنا کھڑا ہے. وہ روز اسکی لمبی عمر کی دعا کرتی  ہوگی، اس کا صحرا سجانے سے لے کر اس کے بچوں کو گود میں کھلانے کا سوچتی ہوگی.

میں تو یہ بھی نہیں مانتی کہ کوئی فوجی جو انسان پہلے ہے، شوق شہادت رکھتا ہوگا. زندگی کے ارمان اس کو بھی پیارے ہونگے، گھر پر کئی انتظار ہونگے.

خدارہ! اس دنیا میں اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ امن و محبت کی ہے، آپ اس کو بلکل ہی نا  پید نہ کردیں. نفرت کا بیج زمین بنجر کرتا ہے اور میں آپ اسی زمین کا باسی ہیں. 

قوم پرستی اچھی بات ہے لیکن انسانیت کی قیمت پر اسکا پرچار کرنا یقینن عقلمندی نہیں ہے.