Jan 27, 2016

شرمندہ


کتنی بار سوچا
ایک افسانہ لکھوں 
تمہاری بےوفائی کا 
اپنے انتظار کا،

کھوکھلے وعدوں کا
پختہ یقین کا 

زندہ خوابوں کا 
مردہ ارادوں کا 

بےنام مجبوری کا 
بانجھ امیدوں کا 

پھر،
یہ سوچ کر قلم 
رکھ دیا 

کیا انجام لکھوں 
وقت کے آگے 
......محبّت کے شرمندہ ہونے کا ! 





بانو سازی 
جنوری ٢٣، ٢٠١٦

Jan 16, 2016

تمہاری تہذیب



"مجھے یہ فائلز بھیج دینا اور ہاں ان تمام سوالوں پر بھی کام کرلینا جو آج پوچھے گئے ہیں. میں اگلے دو تین دن تک شاید موجود نہ ہوں."

یہ تمام ہدایات تہذیب نے اپنی ٹیم کو دیں اور اپنا فون اٹھا کر دیکھنے لگی. اسی دوران میں اسکا فون بج اٹھا اور وہی کال تھی جسکا اسکو انتظار تھا. تہذیب اپنی جگہ سے اٹھی ، ٹیم کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور خود آکر کھڑکی پر کھڑی ہو گئی. 

فون کی دوسری جانب اسکا بھائی تھا.

بارہ گھنٹے یا شاید اس سے کچھ کم ہی وقت گزرا ہوگا جب تہذیب کو خبر کی گئی تھی کہ "وہ" نہیں رہا.

تب سے لے کر اب تک جانے تہذیب کیسے رہ گئی تھی؟ یہ سوال اس نے خود سے پوچھا لیکن کوئی جواب نہیں آیا کیوں کہ وہ یقین اور بے یقینی کے بیچ اپنے قدم جما رہی تھی. اس خبر کے ساتھ پیغام بھی تھا کہ ممکن ہو تو پہنچ جائیے، ہمارے پاس آپ کو دینے کے لئے کچھ سامان بھی موجود بھی ہے. 

ہمیشہ کی طرح آج اس نے فون اٹھا کر بھی کو سلام نہیں کیا بلکے سیدھا سوال.

"ٹکٹ ہوگئی ؟"

"ہاں! لیکن وہ....."

"کیا؟"

"تم اکیلے ؟"

"مجھے کمزور سمجھتے ہو؟"

"نہیں تو. لیکن شاید کوئی ساتھ چلے تو بہتر ہوگا"

"اس نے اکیلے مرنے کی ہمّت کرلی تھی تو اب میں بھی جینے کی ہمّت کرلوں گی."

"تمہارا جانا ضروری نہیں."


"بہت ضروری ہے. دفنانا جو ہے........اس کو اور خود کو اس کے ساتھ!"


لائن کٹ گئی.

کھڑکی سے باہر دن کا سورج ڈھل رہا تھا لیکن اس کے درد کا چاند چڑھ چکا تھا.





بانو سازی 
جنوری ١٦، ٢٠١٦
رات ٢:٣٤

ٹکڑوں میں باتیں


گزر رہی ہے تو گزار رہے ہیں بَحقِّ محبت بکھرتے جارہے ہیں

--------------

جوش گم گیا، ہوش کھو گئے اے دل نامراد،اب کدھر چل دئیے

---------------

مصروف کرلیا ذات کو زندگی میں تم کو بھولنے کی بھی فرصت نہیں حال احوال کی کوئی امید نہ رکھنا اس سفر میں ٹھہرنےکا جواز نہیں



#بانوسازی

Nov 17, 2015

روشن کاغذ -- Roshan Kaghaz


پرانے وقتوں میں لوگ خط وغیرہ  سنبھال کر رکھتے تھے. کبھی صندوقوں میں تو کبھی تکیے کے اندر، کتابوں کے بیچ یا پھر تہہ لگے کپڑوں کے درمیان سینت سینت کر.

 ایسی تحریروں کا گمنامی میں رہنا ہی ان کے مالکان کے لئے عافیت تھا. ہر کاغذ ہر کسی کے لئے نہیں ہوتا. کچھ کاغذات کے جملہ حقوق محفوظ ہوتے ہیں. یہ وہ الفاظ ہوتے ہیں جو اکیلے میں پڑھو تو بنا بات رلا دیں یا بے وجہ ہنسا دیں.

 صرف جائیدادیں نسل در نسل نہیں ہوتی، یہ خطوط بھی ہوتے ہیں. خطوط جن کی ملکیت میں حوالے کر دئے جاتے ہیں وہ یا تو سمجھتے نہیں ہیں یا سمجھ کر ضایع کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں.

میرے پاس بھی ہماری ایسی کچھ تحریریں ہیں !

ہزاروں، سینکڑوں تو نہیں لیکن اتنی ہیں جنہیں کوئی انگلیوں پر نہیں گن سکتا.  

خیر گنّنا کیسا؟ کوئی کمائی تھوڑی نا ہے.
بس کاغذ پر روشن وقت ہے.

آٹھ سال کا وقت!
 کچھ  خط جو میرے ذھن میں ہی لکھے رہ گئے اور کچھ جو تم تک پہنچ گئے. اکیسویں صدی کہ لوگ ہیں ہم تو ہمارے الفاظ بھی جدید کاغذوں پر محفوظ ہیں.
 عرصہ ہوا تھا قلم اٹھا کر کاغذ کو روشن کئے مگر یاد ہے نا ایک لکھا تھا تم کو چند سال پہلے؟

شاید نہ یاد ہو.
میں یاد نہیں تو میرا خط کیسے؟

یہ الفاظ بھی نا ....... وقت پرتو دھوکہ دے جاتے ہیں اور وقت گزرنے کے بعد اس دھوکے کی سزا کاٹتے ہیں. میں، تم، اور وقت تو گزر گئے یہ لیکن وہیں کے وہیں ثبت ہو کر رہ گئے. انہیں ابھی بھی شبہہ سا ہے یا تم پلٹو گے یا وقت.

لیکن یہ کیسے ممکن ہو کیوںکہ کچھ تحریروں کو صرف پڑھنا تھا، ان پر ایمان نہیں لانا تھا.

کتنی بار سوچا یہ سارے خطوط اور انکی نشانیاں مٹا دوں. عجیب بے جان سا بوجھ ہے لیکن ہر بار کوئی اچھی یاد سوچ کر بہانہ بنا کر رکھ لیا کہ یوں مسکرانے کی کوئی وجہ تو باقی ہے.

میں اکثر وہ خطوط کھول کر پڑھنے لگتی ہوں اور اس وقت سے گزرتی ہوں. آج بھی ایک خط کھول لیا اور بےدھیانی میں تمہارےبنے خواب پڑھنے لگی.

اب کئی روز تک نیند ان کاغذوں میں جاگتی رہے گی.




بانو سازی 
نومبر ١٧، ٢٠١٥
رات ١٢:٤٣

Oct 3, 2015

ٹوٹ پھوٹ


١)
"تم" نے ہم پر امید کے دَر کیا بَند کئے ہم دَر و دیوار سے بھی اُلجھنے لگ گئے


٢)
اُن سے خفا ہو کر اُنہی پہ مرتے ہیں عِشق والے کب انصاف کرتے ہیں


٣)
وصل کی امید میں ہجر سے دل لگایا روح کی پرواز پر انتظار کا پہرا بٹھایا


-- بانوسازی

Sep 14, 2015

"تم"


"کتنے ہی کاغذ سیاہ کردوں، ہر لفظ تم پر لکھ دوں، کہانیاں کہہ دوں، لیکن تمہاری حقیقت سے محروم رہے گی یہ زندگی......افسانوی زندگی" #بانوسازی

Jul 30, 2015

منکر -- Munkir


تم اپنے آپ میں
ایک کہکشاں ہو
جس میں میرے نام کا
سِتارہ ہی نہیں


اُن روشن آنکھوں میں
میرے خیال کی
چمک ہی نہیں،
نَبض کی روانی میں
کسی یاد کا
گُزر بھی نہیں.


میرے ہونے کا
ذکر ہی نہیں
تم میں کھونے کا
اب ڈر بھی نہیں.



بانو سازی 
٣٠ جولائی  ، ٢٠١٥
رات ١:٠٠


Tum apnay aap main
Ek kehkashan ho
Jis main mere naam ka
Sitara hi nahin

Unn roshan ankhon main
Mere khayal ki
Chamak hi nahin,
Nabz ki rawani main
Kisi yaad ka
Guzar bhi nahi.

Mere hone ka
Zikr hi nahin
Tum main khonay ka
Ab darr bhi nahi.


Bano.
July 30th, 2015
01:00 am






Jul 16, 2015

"داسی"


خدا کی خدائی میں تمہیں "خدا" بنا دیا
ہماری سجدہ ریزی نے ہمیں کافر بنا دیا


تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے بُت تَراش کر 
مسجد میں رکھ چلے،مندر میں سجادیا


قیامت کا کہتے ہیں کوئی وقت مُقَّرر ہے
روزہوتا ہے حَشربَپا،سہنے کا عادی بنادیا


کاتبِ تقدیر سے مانگا،تو ہَنس کرصدا آئی
دینِ عشق میں یاد نہیں کسے "خدا" بنادیا 






بانو سازی 
١٦ جولائی  ، ٢٠١٥
رات ١١؛٣٣


Khuda ki khuda'i main tumhein "khuda" bana dia
Humari sajda-rezi nay humein kaafir bana dia

Tumhein khabar nahin ke tumhare bu't taraash kar
Masjid main rakh chalay, mandir main saja dia

Qayamat ka kehte hain koi waqt muqarrar hai
Roz hota hai hashr bapa, sehne ka aadi bana dia

Katib-e-Taqdir say manga, tau hans kar sad'aa ayi
Deen-e-Ishq main yaad nahi kisey "khuda" bana dia




Bano.
July 16th, 2015
11:33 pm


Jun 8, 2015

شیعہ کہانی



یہ میری اپنی اور میرے آس پاس والوں کی کہانی ہے  جو قسمت سے یا مرضی سے شیعان علی کے دائرے میں ہیں.

ہم نے آزادی کی جنگ کے قصّے سن رکھے ہیں کیسے بلوائیوں نے گھر اجاڑے ، عزتیں اتاریں، اور فلانہ ڈھمکانا ا سب سنا پڑھا لیکن کہیں فرقے کا ذکر نہیں سنا. الٹا میرے بڑے جنہوں نے ایک چھوڑ دو ہجرتیں دیکھیں اور ساتھ جانے کیا کیا دیکھا جس کا ذکر وہ کبھی خشک آنکھوں سے نہیں کرتے، کہتے ہیں شیعہ سنی فسادات ہند اور بنگال کا کبھی مسلۂ نہیں رہا. 
ہندو مجلس سنتے تھے اور حسین کے نام کی نیاز، سکینہ کے نام کی سبیل، اورعبّاس کو باب الحوائج مانتے تھے / ہیں. انسانی اور مذہبی ہم آہنگی بنیاد تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ ہجرتوں کی قصّہ گوئی بن کر رہ گئی بس. 

میں خود سے شروع کروں تو میری پہلی یاداشت تب کی ہے جب چوتھی جماعت میں تھی. سکول کے بعد وین کے انتظار میں تھی جب میں نے دیکھا کہ میری ہم جماعت اپنی خالی پانی کی بوتل لئے کھڑی ہے اور ادھر ادھر پانی کے  لئے کسی کو ڈھونڈ رہی ہے. 
میری پرورش میں ایک جملہ بہت شامل رہا وہ تھا "پانی پر کبھی انکار نہیں کرتے چاہے کچھ ہو، تم کوئی یزید تھوڑی ہو."   

تو بس اسی جملے کی بنیاد پر بانو صاحبہ ڈیڑھ ہوشیار بنتے ہوئے اس بچی کو پانی دینے لگیں اپنی بوتل سے لیکن سامنے سے عجیب بات سننے کو ملی. اس نے کہا "تم شیعہ ہو پانی میں تھوکتی ہوگی میں نہیں پیوں گی." میں ہاتھ میں بوتل کا گلاس لئے حیران و پریشان رہ گئی اور خود وہ پانی پی گئی. 

چوتھی کلاس کی بچی کو کیا عقل فرقے کی نہ کبھی ہمیں فرقہ واریت سکھائی گئی سو گھرپہنچتے ہی اماں کے آگے اپنا مرثیہ لے کر بیٹھ گئی کہ شیعہ کیا ہے؟ میرے پانی میں کون تھوکتا ہے؟ اور ثانیہ کی بچی نے ایسا کیوں کہا؟ بہرحال اماں نے کچھ مجھے سمجھایا اور کچھ میری استانی کو کہ بچے سکول میں کیا گفتگو اور رویہ رکھتے ہیں. 

پانی کے تھوک، حلیم میں بچوں کے خون سے لے کر اور بہت ساری بیہودہ اور بے بنیاد فرقوی شک و شبہات لے کروقت گزارا بڑے ہوگئے لیکن پھر بھی میں نے اور مجھ جیسے کئی شیعوں نے خوف کی چادر کبھی نہیں لپیٹی.

تکفیری اور دیوبندی جیسے نام کانوں میں شاد و نادر ہی پڑھتے تھے لیکن اکیسویں صدی خود تو آیئ ساتھ اپنے بہت جوڑ توڑ لائی.  

٢٢ فروری ٢٠٠٣  کو کراچی میں لشکر جھنگوی  نے امام بارگاہ مہدی میں دوران نماز گھس کر ٩ شیعہ کو شہید کردیا تھا. سننے میں کتنی معمولی تعداد لگتی ہے نہ؟ 
سنۂ ٢٠٠٤ میں کل ملا کر ایک سو انتیس شیعہ شہید ہوئے اور چار سو  زخمی. 
اس سال کے دو بڑے دھماکے لیاقت بازار کوئٹہ اور حیدری مسجد کراچی کے تھے؛ لیکن عام شیعہ پھر بھی چوکنا نہ ہوا کہ آنے والا وقت ہر گھر سے جنازہ اٹھواے گا اور ہماری نسل کشی ہوگی. ہم یتیم مسکین نہیں ہونگے بلکہ ہونگے ہی نہیں.

میں ہر سال اپنے بھائی  کو عاشور کے جلوس میں بعد فجر چھوڑ کر آتی ہوں کیوںکہ حفاظتی اقدامات کی وجہ سے گاڑی نہیں لے جاتا. سنۂ ٢٠٠٩، اٹھائیس دسمبر کو میرے خاندان کا ہر مرد اور بچہ اس دھماکے کا گواہ ہے جو پچاس سے زائد شیعوں کو شہید اور سینکڑوں گھروں کو سوگوار کر گیا. چھوٹے چھوٹے بچے لاشوں کو پھلانگتے ہوئے وہاں سے نکلے اوراگلے روز نماز جنازہ پڑھنے گئے. 

میں نے ایک بار پھر اپنے بھائی کو اسی سال اربعین پر جاتے دیکھا. 

وہ دن اور آج کا دن ہے میں ہر روز اس کا چہرہ ایسے ہی دیکھتی ہوں جیسے آخری بار ہو کیوںکہ وہ ایک شیعہ ہے اور کبھی بھی ٹارگٹ ہو سکتا ہے.  

اور یہ صرف میرا وطیرہ نہیں ہر اس گھر کا ہے جو شیعان علی سے تعلق رکھتا ہے. لوگ کہتے ہیں محرم میں کالا مت پہنوکہ نشاندہی ہوگی لیکن ہم اتنی ہی ضد سے پہنتے ہیں،  انگلیوں میں چھلا ڈال کر رکھتے ہیں جو ہماری مائیں نظر دلاتی ہیں.

یہ نسل کشی ایک سوچے سمجھے منصوبے کہ تحت ہے جس کی شروعات کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے ہوئی. 

پچھلے دس سے پندرہ سالوں میں ١٣،٠٠٠ سے زائد ہزارہ شیعہ کا قتل عام ہوا اور ١٥،٠٠٠ سے زائد زخمی ہوئے. 

اور پھر لوگ کہتے ہیں شیعہ مت کہو، کہو پاکستانی مرا ہے؟

پچھلے سات سے آٹھ سالوں میں ہم شیعوں نے اتنے  جنازے اٹھاۓ اپنے جوانوں، بوڑھوں، اور بچوں کے، کہ اب تعداد بھی یاد نہیں رہی ہے.
تکفیری سوچ نے لمحوں میں ہماری جواں سال عورتوں کو بیوہ، بچوں کو یتیم، اور ہماری دو دو تین تین نسلوں کوشہادت کے رتبے پر پہنچا دیا.......لیکن سلام ہے پاکستانی قوم پر جس کی اکثریت نے ہمارے لئے نہ آنسو بہاے، نہ گلے پھاڑ پھاڑ کر بین کیا. 

کیوں کہ ہم شیعہ ہیں، کشمیری یا برما کے مسلمان نہیں!

پاکستان کا آزاد میڈیا بھی لفظ "شیعہ" کا استعمال کرنے سے گریز کرتا ہے. DAWN News، Express Tribune  جیسے بڑے بڑے اخبارات بھی کھل کر یہ نہیں بتاتے کہ ہزارہ کو کس بنیاد پر ٹارگٹ کیا جاتا ہے؟ کوئی ذاتی یا کاروباری دشمنی نہیں ہے، یہ فرقہ واریت ہے تو پھر کیوں نہیں بولتے ہو؟

کیا "یا علی مدد" کہنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ شہر کا شہر ہمارا خون ہاتھ پر لگاے پھرتا ہے؟

شیعوں کا ناحق خون بہانے والے  تکفیریوں جان لو کہ جس جنّت کہ پیچھے تم اپنی جان گنواتے ہو، اس کے سردار "حسن و حسین" ہیں، اور لبّیک یاحسین کہنے والے ہم شیعہ! 









May 14, 2015

Blasphemy---کفر


کسی روز جو تو سنے،

تو تجھ کو سناؤں،
ہر وہ لفظ
جو کہا نہیں
سارے خیال جو 
 سچ ہوئے نہیں.

کتنے خواب
جو 
حقیقت کبھی سہی.

وہ ملاقاتیں 
جو تجھ سے 
ملیں نہیں.

بیاں کر کے
 بتاؤں، 
وہ احساس جو 
تپش میں 
بدلا نہیں.

اس لمس کی 
مہک،
جو تیری اترن 
سے 
بھینچی تھی. 

مانگوں، 
وہ وقت جو 
ہر بشر کا ہے 
اک میرا نہیں.

مدعا یہ کہ، 
حراست میں ہوں 
اور تو 
قیدی مانتا ہی نہیں.

عبادتوں کا مقصد
دھڑکن کا کلمہ
تم ہوئے 
اب میرے 
سجدے "اس" کے 
نہیں!




بانو سازی 
١٤ مئی ، ٢٠١٥
رات ١:٢٢





May 4, 2015

وابستگی


زمانہ آ ہی گیا کہ تمہاری خبر بھی نہیں اس نے کہا، ہم رابطے میں نہیں.
میں نے سچ سن لیا کہ اب وابستگی ہی نہیں!

بانوسازی 
مئی ٤، ٢٠١٥



Zamana aa hi gaya key,
Tumhari khabar bhi nahi.
Us ney kaha,
Hum raabtay main nahi!

Maine sach sun liya,
Keh

Ab wabas'tagi hi nahin!



Bano B.
May 4th, 2015

Apr 24, 2015

Break - Up


چلو پھر سے محبّت کرتے ہیں 
تھوڑا سا وقت گنواتے ہیں. 
پھر دنیا کو جلاتے ہیں،
مرتے اور مٹ جاتے ہیں.

پھر سے پیمان باندھتے ہیں 
ایک دوسرے میں کھو جاتے ہیں 

چلو پھر سے ساتھ چلتے ہیں 
قدموں پر ساۓ ڈھونڈتے ہیں.

چلو پھر سے محبّت کرتے ہیں 
اور 
پھر سے جدا ہوجاتے ہیں.


Chalo phir se muhabbat karte hain,
Thor'ra sa waqt ganwate hain.
Phir dunya ko jalate hain,
Martay aur mit jatay hain.

Phir se peimaan bandhte hain,
Ek dusre main kho jatay hain.

Chalo phir se saath chalte hain,
Qadmon per saaye dhond'te hain

Chalo phir se muhabbat karte hain,
Aur,
Phir se judaa hojate hain.





Bano B..
February 21, 2011
3:30 p.m.

Apr 20, 2015

انارکلی


"انارکلی" سے میرا پہلا تعارف کچھ ایسے ہوا کہ میری اماں جی کی دو ہی پسندیدہ فلمیں ہیں، اک پاکیزہ اور دوسری مغل اعظم. اب چونکہ بچپن سے لے کر لڑکپن کے کافی حصّے تک میں نے بچکانہ فلمیں ہی دیکھی اس لئے بات کافی عرصے تک تعارف سے آگے نہ بڑھی. 

یوں میں نے کئ سال بنا جانے گزار دیے کہ یہ انارکلی کس کے دل کی کلی تھی اور کھلی بھی تھی یا بن کھلے مرجھا گی تھی .

پھر ایک دن میں اپنے نانا کے گھر پر کتابیں چھان رہی تھی جب ان کے شیلف سے  امتیاز علی تاج کا ڈرامہ "انارکلی" میرے ہاتھ لگ گیا. تب میری عمر تیرہ سال تھی لیکن اردو کا شغف کچھ گھٹی میں ہے سو اپنی بہن کے ساتھ جامن توڑنے کے بجائے میں کتاب لے کر بیٹھ گئی  اور پورا ڈرامہ ایسے پڑھ ڈالا جیسے اگلے دن سکول میں امتحان ہو. 

ہم جس انارکلی کو جانتے ہیں وہ اصل تھی یا تخیل یہ تو شاید میں آپ نہ جان پایئں لیکن اتنا ضرور ہے کے زمانہ کوئی بھی ہو، عشق پر پہرے سدا رہے اور رہیں گے. 

مجھے انارکلی کا خیال کیوںکر آیا؟

جب ایک اتوار صبح ٩ بجے، سلمان رشید، پاکستان کے مشہور سفری نامہ نگار، اپنے ساتھ انارکلی بازار ناشتے کے لئے لے گئے. مقصد تو آٹے کی پوریاں کھانا تھا لیکن سلمان کے ہوتے ہوئے تاریخ پر گفتگو نہ ہو، ناممکن.

میں نے ہمیشہ ہی لاہور کے بارے میں ایک بات کہی ہے کہ "لاہور کا حسن اس کی لال اینٹوں میں ہے." ایک دوست نے کہا اگر یہ اینٹیں کسی اور شہر میں رکھ دیں تو؟ میں نے جواب دیا، وہ بات نہیں کیوںکہ ہر شہر کی اپنی داستان ہے." 

اس روز بھی جب ہم  ناشتہ کر کے اٹھے تو سلمان نے کہا آؤ کچھ پرانا حصّہ دکھاتا ہوں اور تب ہم اس محرابی دروازے کی طرف بڑھے. 


Photo Courtesy: Bano Bee
 Location: Anarkali Bazar, Lahore

یہ داخلی محراب شاید ایک صدی یا اس سے بھی پرانا  ہو لیکن اس کی ہر اینٹ سورج کی تازہ روشنی میں آپ کو نئی پرانی ہر کہانی سناۓ گی. 

کتنی ہی انارکلیاں اپنے سلیم سے اس روشن اندھیرے میں ملی ہونگی جہاں ان پر زمانے کی نظر کچھ دیر سے پڑے گی. چوڑیوں کی کھنک دھیمی پڑ گئی ہوگی، آنچل سر سے سرکے ہونگے، لفظوں کی جگہ پلکوں کے اشارے سے جذبات بیان ہوئے ہونگے. 
اس راہ گزر نے کئی خط گرتے دیکھے ہونگے اور انکو اٹھانے والوں کی گواہ بھی یہی دیواریں ہونگی. ہاتھوں کو تھامتے اور ساتھ ہی ان کو الگ ہوتے دیکھا ہوگا. پائل سی کھنکتی ہنسی اور گالوں سے گرتے ہوئے خاموش آنسو بھی اسی دیوار نے پی لئے تھے. 

داستانیں سناتی یہ دیواریں، رکے ہوئے  راستے، بھٹی سے نکلی اینٹیں، مجھے بتاتی ہیں کہ اکبر نے تو بس ایک انارکلی کو ہم میں چنوایا تھا........ لیکن ہم تو زمانے سے کتنی انارکلیوں کو خود میں چنواتےآۓ  ہیں. 




بانو سازی 
٢٠ اپریل، ٢٠١٥
رات ١٢:٢٠


     

Apr 7, 2015

نسل



میں بہت سکون سے اپنی ٹھنڈی چائے آہستہ آہستہ پی رہی تھی جب اس نئے کہا کہ میرا اک بیٹا ہے اور میری بِیوِی دوسری بار امید سے ہے . عمومی  طور پر میں 
لوگوں کی ذاتیات سے ذرا فاصلہ رکھتی ہوں لیکن ہم دونوں اجنبی ہیں اور وقت گزار رہے تھے . 

اجنبی ہونے کا فائدہ یہ ہے کے دو لوگ آپس میں بنا کسی فائدے نقصان کے اک دوسرے سے وہ بھی کہہ دیتے ہیں جو خود سے بھی نہیں کہتے .
پِھر اس نے چند جملوں میں اپنی زندگی بیان کرنے کی کوشش کی کہ کیسے والدین کی مرضی کے آگے اسکو سر جھکنا پڑا. اسکا رشتہ کاغذی ہے لیکن دنیا کو دکھانے کے لئے "دو بچے خوشحال گھرانہ" بھی ہے.

پھر اس کے جانے کا وقت آگیا. 
وہ تو چلا گیا لیکن میں نے اک کپ چائے کا اور منگوایا  اور اس کے ٹھنڈے ہونے تک سوچتی رہی، "کیا یہ ٹھیک ہے؟"

میں نے بہت عرصے تک اپنی چھوٹی بہن کو یہ کہہ کر رلایا ستایا کے امی ابو اسکو کے کچرے کے ڈبے سے لائے ہیں کیوں کے وہ وہاں اکیلی رو رہی تھی . جب بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہہ نسل آدَم کی افزائش کیسے ہوتی ہے اور اس کے کئی سال بعد اس سے جڑے بہت سارے سوال پیدا ہوئے . ان تمام سوالوں میں پہلا سوال یہ تھا کے کیا بنا محبت کے آپ کسی کے بچے کی ماں یا باپ بن سکتے ہیں ؟ 

اِس سوال کے جواب میں مجھے شاید صرف مجبوریاں اور مجبور رشتے ملیں!

آپ خود یا آپ کے آس پاس ایسے رشتوں کی بہتات ہوگی جہاں اولاد محبّت کا نہیں بلکہ باپ کی تھکن اور ماں کی مجبوری کا نتیجہ ہوتی ہے. 

بر صغیر اک ایسا معاشرہ  ہے جہاں لڑکا لڑکی کا شادی سے پہلے ملنا کچھ معیوب  سی بات سمجھی جاتی ہے یا  یوں کہہ لیا  جائے کہہ ان کا ملنا اب تک تسلیم نہیں کیا گیا . والدین اِس خوش فہمی میں رہتے ہیں کے انکی اولاد اگر گھر سے باہر نکلے گی تو کسی انسانی کشش کا شکار نہیں ہوگی . 

انہی روایت پر چلتے ہوئے ہم تمام عمر اپنی لڑکیوں کو سکھاتے ہیں کےاجنبیوں سے، نامحرم سے فاصلہ رکھو لیکن پِھر اسی لڑکی کو اچانک سے نکاح پڑھوا کر اک اجنبی کے ساتھ راتیں گزارنے بھیج دیتے ہیں. کچھ تو ایسے بھی رشتے ہوتے ہیں کہ ساری عمر جس کو بھیا پکارا اسکو خاندان والوں  نے ملکر بھیا سے سیّاں کا درجہ دے ڈالا. 
  
لڑکوں کو بھی انکے والدین یہی کچھ سکھاتے ہیں کے تمہاری بِیوِی تمہیں نسل دے گی اور ہمارا نام آگے بڑھاے گی . اسی لیے ہمارے مرد فیصلوں کے کچے واقع ہوئے ہیں کیوں کے ان میں خوف ہوتا ہے اگر یہ اچھی ماں نا بنی  وغیرہ وغیرہ.
کوئی شادی اگر ہچکولے کھارہی ہو تو پہلا مشورہ "بس اولاد کرلو" کا دیا جائے گا جیسے پہلی جنگ عظیم سے لے کر داعیش تک ہر مسلۓ کا حل بچہ پیدا کرنا ہو. 

غرض اک مکمل اور بھرپور رشتے کا محور جسمانی ضروریات کو ٹھرا دیا جاتا ہے!

تو آپ شادی تک تو پہنچ گئے ؟
 لیکن نہیں . میں چاہتی ہوں آپ ذرا پیچھے جا ئیں اور دوبارہ سے سوچیں لیکن مختلف . 

ہم سب جانتے ہیں کے جب بچہ اپنی ماں کے بطن میں ہوتا ہے تو اسکو سب سنائی اور محسوس ہوتا ہے اور وہ بہت کچھ خود میں جذب کرتا ہے . اب آپ ہی بتائیں جو پودا محبت کے نہیں بلکہ مجبوری سے بویا گیا ہو اور پِھر اسکو سینچا  بھی انہی اطوار پر جائے ، تو کیا وہ بنیادی طور پر مکمل ہو گا ؟ 

والدین بچوں کو شروع سے ہی ایسی تربیت  دیتے ہیں جس میں ان کو سوال پوچھنے، انکار کرنے،یا پھر منطق ڈھونڈنے کی اجازت نہیں  ہوتی. اگر اتفاق سے کوئی ایسی جرّت کرلے تو اسکو کہہ  دیتے ہیں "زبان درازی مت کرو" کیوںکہ ماں باپ کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا. دوسرے وہ بچے کہ اندر سے یہ للکار اور بغاوت ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کے بتاۓ  ہوئے راستے پر چلے اور ان کے دکھاۓ  ہوئے خواب دیکھے . 

 پاکستان کا ہر بچہ ڈاکٹر، انجنیئر یا پھر پائلٹ وغیرہ بننے کے خواب دیکھتا ہے. اس کی سوچ پر اسکی تربیت اتنی حاوی ہوتی ہے کہ وہ چاہتے ہوئے بھی اس دائرے سے باہر نہیں آ  پاتا جس میں وہ شاید بہترین پینٹر، ڈیزائنر، یا پھر کچھ اور بن سکتا ہو. 

یہی وجہ ہے کہ ہم گھسی پٹی تربیت کرتے ہیں.

بالکل اسی راستے پر چلتے ہوئے ہم اپنے بیٹے بیٹیوں کی شادیاں بھی خود ہی خود سوچ لیتے ہیں جس میں اول نمبر پر ماموں اور خالہ کے بچے ہوتے ہیں. کبھی کبھار چچا پھوپھی بھی کسی کھاتے میں آجاتے ہیں. 


ہمارے معاشرے کی یہ روش ہی نہیں کہ اپنی ہی نسل کو سمجھیں، پہچانیں، اور فیصلوں کو جذباتی مجبوری میں انکو قربان نہ کردیں.

بنیادی طور پر تو ہمیں اپنے مستقبل کی تربیت خود سے بہتر کرنی چاہئے لیکن نہیں ہم اپنی محرومیوں کا بدلہ اپنے ہی نطفے سے لیتے ہیں.

یہی وجہ ہے کے جو ہمیں ہمارے والدین سکھاتے ہیں ہم بس اسی کو کاپی پیسٹ کر دیتے ہیں اپنی اولاد کی تربیت پر . اب تو نسلیں گزر گئی ہیں اِس خطے میں ایسے ہی مجبوریوں میں گھری لیکن کیا آپکا میرا فرض نہیں کہہ ہم روایت سے باہر نکل کر سوچیں ؟ سہی اور غلط کی پہچان کرائیں ؟  آنے والی نسل کو یہ نہ سکھایں کہ کیا سوچنا ہے بلکہ اسکی سوچ پر سے پہرے اٹھایں . 


 ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو وہ سب دینا چاہئے جو ہمیں نہیں مل سکا.......جیسے ذہن کی آزادی، سوچ کی پروان، اور سب سے بڑھ کر فیصلوں کی خود مختاری. 






بانوسازی  

٧ اپریل، ٢٠١٥


Mar 24, 2015

Raqeeb -رقیب


نیند کی تار پر 
خواب پڑے ہیں،
وقت کی دھوپ
یونہی پڑتی رہے گی. 

رات کی اوس میں 
جب بھیگے بھیگے،
ساری شب 
نیند جاگتی رہے گی. 

جہاں پر دو سائے 
سہارے بنتے ہیں،
میری نیند اس بیچ 
پڑی رہے گی.

تم کروٹ کروٹ
بدلو گے،
میری آنکھوں میں
نیند جاگتی رہے گی!



بانو سازی 
اگست ٨، ٢٠١١
رات ١:٣٨

Neend ki taar per,
khwaab parr'ay hain,
Waqt ki dhoop 
yun'hi parti rahe gi,

Raat ki ows main 
jab bheege bheege ,
Saari shab 
neend jaagti rahe gi.

Jahan per do saa'ye
sahare bante hain,
Meri neend us beech 
pa'ri rahe gi.

Tum karwat karwat 
badlo gay,
Meri aankhon main
neend jaagti rahe gi


by Bano B.
August 8th, 2011
1:38 am



Mar 19, 2015

Mar 17, 2015

مصائب --- Masai'ib

   
کچھ پرانے خط 
لکھے وعدے 
وعدوں میں خواب 
خوابوں میں تم
تم سے ہم 
ہم سے میں
 مکمّل الفاظ 
ادھورے جملے

مٹی کا گھر
وقت کا طوفان 
زمانے کا قہر 
زبانوں کا زہر 
لمحوں کی رفاقت
 حیاتی جدائی

دلوں کا صیغہ  
عدّت تا  قیامت.

  

بانو سازی 
مارچ ١٧، ٢٠١٥
شام ٦:٢٧


Kuch puranay kha'tt
Likhay waaday
Waad'on main khwa'ab
Khwaab'on main tum
Tum say hum
Hum say main
Mukammal alfaaz
Adhooray jumlay

Mit'ti ka ghar
Waqt ka toofan
Zamane ka qehar
Zubano ka zehar
Lam'hon ki rafaqat

Hayati judai

Dil'on ka seegha
Idda'at ta-qayamat.


by Bano B.
March 17th, 2015
6:27pm