Aug 31, 2019

بارش، بجلی، اور غریب

Originally published here HumSub

پچھلے کچھ سالوں میں موسم کی تبدیلی کے باعث، کراچی میں بارش کا آنا جانا بس اتنا ہی تھا، جتنا ہمارے وزیر اعظم کا قومی اسمبلی میں ہے. 
دوسرے صوبے کے یار دوست کہتے تھے، تم کراچی والوں کے ہاں بارش نہیں مذاق ہوتا ہے. لاہور کی ایک مشہور ماڈل نے بھی سال رواں کی لاہوری بارش کے بعد ہمیں کہا کہ کراچی میں اتنی بارش نہیں ہوتی جتنی ہم اپنی سبزی پر چھڑکاؤ کرلیتے ہیں. 

قدرت کو یہ مزاق پسند نہ آیا!

موجودہ ہفتے میں بحیرہ عرب اور خلیج بنگال نے آپس میں ہی صلح مشورہ کر کے کراچی شہر کو ٥٠ملی میٹر سے اوپر کی بارش دے ڈالی. 

ہماری والدہ ماجدہ کو آدھا بنگالی ہونے کی وجہ سے قدرت کا یہ فیصلہ بہت پسند آیا اور انہوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کرخدا سے دعا مانگی کہ دل کھول کر بادل برسیں.
خدا نے میری ماں کی اور کوئی دعا  سنی ہو یا نہ سنی ہو، یہ والی لمحوں میں قبول کرلی.

شروع شروع میں تو دھلے دھلے درخت، سرمئی چادر لپیٹے آسمان بلکل اسلام آباد کا سا سماں پیش کر رہا تھا. ہمیں یقین نہیں آیا کہ یہ ہمارا کراچی ہے!
ہمیں یقین دلانے کی ذمہ داری ذاتی طور پر کے-الیکٹرک نے لے لی اور ہم جو پنکھے کے نیچے آرام فرما تھے، بجلی والوں کو ان کے گھر والوں کی یاد دلاتے ہوئے اٹھ بیٹھے. 

صبح کے ١٠ بجے تک یہ طے ہو چکا تھا کے آج برتن دھونے سے لے کر کھانا پکانے تک تمام کام گھر والوں کو ہی کرنے پڑیں گے. 
اماں حضور کو اپنی دعا کے غلط اثرات بجلی اور گھریلو مدد کی صورت میں دکھنا شروع ہوگئے تھے. چار و ناچار انہوں نے تمام کام منصفانہ طریقے سے بانٹ کر بجلی بحال ہونے کا انتظار شروع کردیا. 

کے-الیکٹرک نے صدیوں پرانی مہارت دکھاتے ہوئے اپنی ہیلپ لائن بند کردی اور صارفین پر چھوڑ دیا کہ وہ خود ہی سوچ لیں بجلی کب اپنا منہ دکھاے گی. خدا جھوٹ نہ بلائے، کمبخت منہ موڑ کر ہی بیٹھی رہی. قسمت کی ستم ظریفی یہ کہ ہمارا جنریٹر خراب تھا اور دماغ بھی کیوںکہ کسی کو بنوانے کا خیال نہیں تھا. 
بہرحال ہم نے کچھ نہ کچھ انتظام کر کہ دن اور رات کاٹ لئے.

مولا کا کرم کہہ لیں کہ ہم اس طبقے سے ہیں جہاں تو نہ گھر کے اندر باڑھ آئی نہ چھت گری، اور نہ ہی کوئی بچہ بجلی کے کھمبے سے چپکا. 

اب تک کی خبروں کے مطابق، طوفانی بارشوں کے باعث کراچی میں ١٤ اموات ہو چکی ہیں، جس میں ٦ بچے بھی شامل ہیں. بچوں کو کیا خبر کے ایسی طوفانی بارش غربت کا مذاق اڑانے آتی ہے، اور ساتھ انھیں بھی لے اڑتی ہے. 

روز کی دیہاڑی والے گھر میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں. کچی آبادی والے اپنے تمام برتن ٹپکتی ہوئی چھتوں سے لگا دیتے ہیں. بیمار کی چارپائی کے پاس کوئی گھر والا پنکھا جھلتا ہے اور باقی کے گھر والے بارش سے بنتی لہروں کو گھر میں داخل ہونے سے روکتے ہیں، ناکام ہوتے ہیں لیکن پھر روکتے ہیں.

لیکن ان سب سے بھی جو بدتر ہیں، وہ ہیں بے گھر خاندان!

چند ہفتے پہلے ہی تقریباً ہزاروں کے قریب خاندان کوسپریم کورٹ کے احکام پر  بے-گھر کیا گیا تاکہ کراچی سرکلر ریلوے کا علاقہ خالی ہو سکے. کورٹ کے مطابق گھروں کو ١٥ دن میں مسمار کردیا جائے جب کہ ان کی متبادل رہائش کا انتظام ایک سال میں کیا جائے. کوئی اداروں سے پوچھے یہ خاندان ایک سال تک ہوا میں معلق رہیں گے یا آپ اپنے دروازے ان پر کھول دیںگے؟ 

میرے شہر کی معیشت اور بلدیاتی حالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم بارش کی دعا مانگیں. ہمیں ابر کے برسنے سے زیادہ اس کے لئے ترسنے میں فائدہ ہے. سورج ظالم تو ہے لیکن عزت ڈھانک کر رکھتا ہے. کھلے آسمان تلے بھیگنے کا یا کرنٹ سے مرنے کا خوف بھی نہیں رہتا. روز کی کمائی گھر آجاتی ہے اور بچے بھی گلی میں کھل کود کر واپس لوٹ جاتے ہیں. 

خدا کی رحمت، غریب کے لئے زحمت ہی ہوتی ہے اور یہ بات مجھ یا آپ جیسے بھرے پیٹ اور پکّی چھت والوں کے سمجھ میں نہیں آئے گی!
    

امرتا پریتم - ایک صدی

Originally published here Independent Urdu 



میرا ماننا ہے کہ امرتا جی کو صرف ماضی میں نہیں رہنا بلکہ کتابوں سے نکل کر مستقبل بھی بننا ہے۔ ایسی ہستی آج کے دور میں ہونے والی ڈھیروں تحریکوں اور جوان ذہنوں کی نفسا نفسی کا جواب ہے۔ 

امرتا جی اکیسویں صدی کا انجانا خواب ہیں،اور پچھلی صدی کا انقلاب ہیں. 

یہاں میں ضروری سمجھتی ہوں کہ امرتا جیسی لکھاری جنہیں یوں تو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہونا چاہئیے،  ان کا سرسری سا تعارف کرادوں۔ دراصل یہ محتاجی اس لئے ہے کیوں کہ آج کل لوگ Harry Potter کو تو رٹ بیٹھے ہیں لیکن مادری  زبانوں کے شہنشاوں کا ذکر بس فیس بک کی حد تک، اور وہ بھی غلط اقوال میں۔ خیر بات کہاں سے کہاں پہنچ گئیں۔ چلیں تقسیم ہند سے پہلے والے پنجاب چلتے ہیں اور ملتے ہیں 'ہیر وارث شاہ' والی امرتا سے!

٣١ اگست، سنہ ١٩١٩میں گوجرانوالہ کی سرزمین پر امرتا کور نامی پہلی اور اکلوتی اولاد نے راج بی بی اور کرتار سنگھ کے یہاں گرہ پرویش کیا. ماں جی استانی اور والد صاحب بنیادی طور پر شاعر لیکن روزی کی مناسبت سے وہ بھی استاد تھے. یوں سمجھ لیجیۓ، قلم اس گھر کا غلام تھا. 


امرتا جی اپنی کسی ایک نظم یا کسی ایک افسانے سے نہیں سمجھی جا سکتیں. امرتا جی کو سمجھنے کے لئے ایک آزاد ذہن اور باغی دل چاہئے. ایک ایسا ذہن جو سطحی سوچ سے بالاتر ہو، دل میں حوس نہ ہو لیکن بےباک ہو. پڑھنے والا ایسے مقام پر ہو جہاں وہ سماجی اور مذہبی شرائط سے آزاد ہو.

میرے ایک دوست ہیں رضوان، ان کا کہنا ہے امرتا پریتم کو صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی ذات کسی بھی قسم کے عدم تحفّظ کا شکار نہ ہو.

امرتا کور کی بہت کم عمری میں پریتم سنگھ جی سے شادی ہوگئی تھی، جس کے بعد تا عمر انہوں نے اپنے نام کے آگے کور کی جگہ پریتم لگا لیا تھا. جچتا بھی تھا.......آخر امرتا جی کی زندگی پریت ہی پر تو مبنی تھی. 

اس کم عمری کے رشتہ جڑنے اور ختم ہونے کی چھوٹی سی داستان امرتا جی نے اپنی کتاب رسیدی ٹکٹ میں لکھی ہے. پرانے وقتوں میں اپنے شوہر سے الگ ہوجانا اور وہ بھی دوستانہ طریقے سے، ایک طرح کا سوال تھا. اس سوال کو بنا امرتا جی اور پریتم جی سے پوچھے، کئی لوگوں نے اپنے سعی جواب دینے کی کوشش کی. 
جب کہ بات بڑی معمولی مگر گہری تھی. امرتا جی اپنے شوہر کے ساتھ تو تھیں، پاس نہیں تھیں. انکی نظر میں یہ پریتم جی حق تلفی تھی. 

ہم ٢٠١٩ میں ہیں لیکن آج بھی لوگوں کو میاں بیوی کا باہمی اتفاق سے الگ ہوجانا، یا سمجھ بوجھ الگ ہونے کی بنیاد پر طلاق لینا سمجھ نہیں آتا ہے. پھر وہ تو ١٩٦٠ تھا اور امرتا پریتم تھیں......ذہنی سطح کے ساتویں درجے پر فائز!

مجھے افسوس رہے گا کہ امرتا جی میری زندگی میں بہت دیر سے داخل ہوئیں.

اردو ادب سے شغف شاید میرے خون میں ہے کیوں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کو اسکول کالج کے دور میں ہی منٹو کے افسانے بھائی کے شیلف پر، اور عصمت چغتائی کی لحاف اماں کے سرہانے پر مل جایا کرتی تھی۔ ان تمام باتوں کے باوجود امرتا پریتم سے میری پہلی ملاقات سرسری تھی کیوں کہ پنجابی میں لکھی گئی "ہیر" مجھے کون سمجھاتا بھلا؟ 


 پھر سنہ 2005 میں بھارتی سینیما کی فلم "پنجار" ریلیز ہوئی۔ اس میں مرکزی کردار نبھانے والے دو اداکار تھے: ارمیلا مٹونڈکر اور منوج باجپائی۔ فلم دیکھنے کے بعد پتہ چلا کہ یہ امرتا پریتم کے مشہور زمانہ ناول پر مبنی ہے۔ اگر آپ نے فلم نہیں دیکھی تو دیکھئے، جذبات کا بہاو اتنا تیز ہے کہ سینے کا پنجرہ توڑ کر باہر اجائے۔

بس وہ دن تھا اور میں امرتا جی کی ذات، ذندگی اور قلم کی کھوجی بن گئی!

سرسری طور پر امرتا پریتم کو لوگ بس دو تین حوالوں سے جانتے ہیں جیسے "ہیر وارث شاہ"،یا پھر "میں تینوں پھر ملاں گی"، یا "ساحر لدھیانوی" سے ان مٹ عشق. 

امرتا پریتم ان حوالوں سے کہیں آگے ہیں. یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ امرتا جی نے اپنے درد کو اپنے مفاد میں اپنایا. خود کی ذات کو زندگی کی بھٹی میں جلایا تو کہیں جا کر 'تیرہواں سورج، 'ڈاکٹر دیو'، اور 'پنجار' جیسی کہانیاں ادب کے کینوس پر اتریں. 

برصغیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں زہین عورت مردانگی کے لئے دھمکی سمجھی جاتی ہے، لیکن اسی خطے میں ایک امرتا پریتم بھی تھیں جنہوں نے زندگی اپنی شرائط پر گزاری. امرتا جی نے کبھی بھی اپنے عشق کو کسی پردے میں قید کر کے نہیں رکھا، نہ اپنے جذبات کی عکاسی میں کوئی شرمندگی محسوس کی.

امرتا پریتم نے اپنی عورت اور ادیب دونوں کو ساتھ ساتھ رکھا. چاہے وہ ساحر کی محبّت میں لکھے گئے سنھڑے ہوں، یا امروز کی مستقل رفاقت، امرتا جی نے کبھی بھی خود سے بغاوت نہیں کی نہ ہی زمانے کو باتیں کرنے کی تسّلی دی. 
لکھاری تھیں تو خود بھی کھلی کتاب بن کر زندگی جی !

جب میں آج کل کی خواتین ادیب کو دیکھتی یا پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں تو سوچ میں پڑ جاتی ہوں کہ خوف کیوں ہے ان کے الفاظوں میں، کہانیوں میں، کرداروں میں. کہاں ہے وہ نڈر عورت جو بلا خوف و خطراپنے وجود اور اسکی آزادی کا پرچار کرے. کہاں ہے عورت جس کی پہچان کسی رشتے کی محتاج نہیں، کسی بندھن کی باندی نہیں.

امرتا پریتم اپنے اور آنے والے تمام وقتوں کے انسانوں کی مشعل ہیں، اور اس مشعل کو ساتھ لے کر چلنے والے کا نام ہے 'امروز'. 

امروز، امرتا جی کی زندگی کا وہ کردار ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جب آپ کسی سے عشق کرتے ہیں تو اس کے عشق سمیت اسکو اپناتے ہیں. 


امرتا جی کے ١٠٠ سال کو انہی کے الفاظ میں یاد کروں گی:
"جہاں بھی آزاد روح کی جھلک پڑے، سمجھ لینا وہی میرا گھر ہے."

کاش پھر کوئی "امرتا" پیدا ہو اور زمین کا وجود سیراب کردے!




  


Aug 30, 2019

تقریر پہ تقریر، بیچارہ کشمیر

Originally published here HumSub


اگر خود کے باغ میں آپ پھول پودے نہ اگا سکیں تو پڑوس والوں کو باغبانی کا مشورہ نہیں دینا چاہیے!
کشمیر میں لگے کرفیو کو تقریباً سولہ دن ہونے کو آئے ہیں، اور کشمیریوں کی آواز اس وقت دنیا کے ہر کونے میں سنائی دی جا سکتی ہے۔ دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے لے کر امریکا میں مقیم کشمیری، تمام لوگ آرٹیکل 370 کو لے کر سرتاپا احتجاج ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کوئی چار روز پرانا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ 1947 سے چلا آرہا ہے اور جانے کب تک چلے۔ اس دوران مقبوضہ علاقے میں ہونے والے مسائل اور مظالم صرف اور صرف وہ جانتے ہیں جو وہاں رہتے ہیں یا جن کے پیارے وہاں موجود ہیں۔ میں، آپ، یا کوئی بھی تیسرا جس کو براہ راست اس صورتحال سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، وہ کشمیر پراپنی آواز اٹھانے سے پہلے ایک دفعہ اچھی طرح سوچ لے۔

ہمیں اپنے وزیر اعظم کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں، خصوصی طور پر ان کی تقاریر پر۔
دو روز پہلے خان صاحب نے سرکاری سطح پر آ کر کوئی بائیس منٹ قوم سے خطاب کیا جس کا مرکز کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت تھی۔ جس روز یہ تقریر نشر ہوئی ہے، اسی دن فرانس میں G 7 سمٹ ہو رہا تھا، جس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ٹرمپ کشمیر پر گفتگو کر رہے تھے۔
جہاں پاکستان کو ملک ملک جا کر کشمیر کے لئے جگانا پڑ رہا تھا، وہیں بھارت اپنی معاشی اور سماجی استحکام کی بنیاد پر G 7 میں اپنا موقف رکھ چکا تھا۔ یہ پاکستان کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے ایسے وقت میں کون اس کے ساتھ ہے۔

تقریر میں خان صاحب نے کہا کہ آج بھلے کوئی ہمارے ساتھ نہ ہو، لیکن کل ہوں گے ۔ انہوں نے بوسنیا کی مثال دے کر کہا، تب بھی دنیا بالاخر بوسنیا کی مدد کو آگئی تھی۔ جناب والا، مدد اور آواز تب پہنچی تھی جب بوسنیا کی نسل کشی اپنے اختتام پر تھی۔ گھر لٹ چکے تھے، عزتیں پامال ہو چکی تھیں، اورکئی نسلوں کا خون جم چکا تھا۔
کیا امّت مسلمہ بھی تب جاگے گی جب کشمیر کی آگ ٹھنڈی ہوچکی ہوگی؟
یا شاید کشمیر کو امّت کے کھوکھلے وجود کی ضرورت ہی نہیں۔ کشمیر تو انصاف اور خودمختاری کی تلاش میں ہے۔
بحیثیت قوم ہمارے لئے آسان ہے شاہ رخ خان، پریانکا چوپڑا یا کسی بھی اداکار پر انگلی اٹھانا۔ ایسا نہیں کے ان کا اخلاقی فرض نہیں ہے لیکن اداکار، فنکار لوگوں کے ہاتھ میں فیصلہ سازی نہیں ہے، وہ طاقت نہیں ہے جو سعودی عرب یا متحدہ عرب امارت کے پاس ہے، یا روس کے پاس ہے۔
کیا ان میں سے کسی ملک نے آپ کی آواز کے ساتھ آواز ملائی؟
کیا آپ بین الاقوامی سطح پر ان ممالک کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں؟
اس تقریر کی شروعات میں وزیر اعظم نے کہا، بھارت کو سوچنا چاہیے تھا پلوامہ حملہ کیوں ہوا؟ کیوں ایک نوجوان نے خود کو بم سے اڑا لیا؟
خان صاحب، یہی سوال اگر آپ سے کل کو اپنے لوگ کردیں تو؟ کیا جواب دیں گے آپ بلوچ نوجوانوں کو؟ کیا آپ اتنی ہی نرمی پشتون نوجوانوں کے لئے دکھائیں گے؟ کیا آپ ماروائے عدالت قتل ہونے والے مہاجر سے یہ پوچھیں گے؟
نہیں پوچھ سکتے!
دوسرے پر ایک انگلی اٹھانے کا مطلب ہے، چار آپ کی طرف ہیں۔

خان صاحب نے ریفرنڈم کا بھی ذکر کیا کہ کیسے مشرقی تیمور میں ریفرنڈم کی بنیاد پر آزادی ملی تھی۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ لفظ ریفرنڈم کا ذکر کرنے سے پہلے تھوڑا اغل بغل جھانک لیں۔ اگر آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان نے بھی ہاتھ اٹھا لیا تو ہم تو سیاحت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
کشمیر میں جو ہورہا ہے وہ غلط ہے، انسانی حقوق کی پامالی ہے۔
ہمیں ان کے لئے بحیثیت انسان آواز اٹھانی چاہیے، نہ کہ یہ کہنا چاہیے کہ آپ کشمیر کے سفیر ہیں۔ کشمیر، اور دنیا بھر کے کشمیری اپنی زمین کے سفیر خود ہیں۔ پاکستانیوں کو چاہیے جب وہ کشمیر کے احتجاجی مظاہروں میں جائیں تو اپنا جھنڈا نہ لہرائیں۔ ان کی آواز میں اپنی آواز ملائیں۔

”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ لگانے سے پہلے پوچھ لیں کیا انہیں پاکستان قبول ہے؟
خدارا، آپ کشمیر کے ساتھ کھڑے ہوں، ان سے آگے نہیں۔ کشمیری جانتے ہیں انہیں کیا چاہیے۔ انہیں پاکستان سے ہدایت نامہ نہیں چاہیے۔
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو اپنی معاشی استحکامی کی جانب کام کرنا ہوگا جس کی بنیاد پرہی باقی ممالک سے دوطرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے اور پاکستان کی آواز سنی جائےگی۔ پاکستان نے یقیناً متحدہ اقوام سیکورٹی کونسل تک کشمیر کا مسئلہ اٹھایا لیکن کوئی حل نہ نکل سکا، اس لئے اسے کسی بھی قسم کی کامیابی سمجھنا بیوقوفی ہوگی۔
مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر لانے کا سہرا صرف پاکستان کے سر نہیں جا سکتا۔ یہ نا انصافی ہوگی ان ہزاروں کشمیریوں، اور باقی قومیتوں کے ساتھ جنہوں نے ہر ممکنہ جگہ آرٹیکل 370 کی منسوخی پر آواز اٹھائی۔ یہ غلط ہوگا ان صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنان کے ساتھ جنہوں نے بھرتی حکومت کے سامنے آواز اٹھائی اوراب تک ڈٹے ہوئے ہیں۔
تقریر کا سب سے اہم حصّہ ”کھڑا ہونا“ تھا۔
ٹانگ اڑانے کے لئے ضروری ہے ٹانگوں کا مضبوط ہونا۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ تمام پاکستانی جمعے کو بوقت زوال تیس منٹ کشمیر کے مسئلے کے لئے کھڑے ہوں گے ۔
اگر آئنسٹائن یا نیوٹن زندہ ہوتے تو خان صاحب کے تجویزکردہ حل کی منطق پر دھیان کرتے۔ چونکہ وہ نہیں ہیں اور ہمارے پاس اتنا دماغ نہیں ہے اس لئے ہم صرف کشمیر کے حق میں دعا کر سکتے ہیں اور ان کے ہم آواز بن سکتے ہیں۔
ساتھ ہی ساتھ یہ بھی امید کر سکتے ہیں کہ بھارت جمہوریت کا اطلاق کرے، حب الوطنی کا نہیں!

Aug 20, 2019

دوپٹے کی دیوار

Originally published here Independent Urdu 

دوپٹہ، چنری، اوڑھنی، چادر، یا کچھ بھی کہہ لیں اپنی زبان اور علاقے کے مطابق، مقصد اسکا عمومی طور پر عورت کے آگے دیوار بنے رہنے کا ہے. ایسی دیوار جو سامنے والے (مردوں) کو مجبور کردے کہ وہ صرف آپ کا چہرہ دیکھیں یا پھر سوچتے رہیں کہ اس کپڑے کی پھیلی ہوئی دیوار کے نیچے قدرت کے کونسے راز پنہاں ہیں.

در حقیقت، لفظ دوپٹہ سنسکرت کا ہے جس کے معنی دو طرفہ پٹے کے ہیں. ارے نہیں نہیں، کتے کا پٹہ نہیں، دوپٹہ!

تاریخ بتاتی ہے، دوپٹے تب سے ہیں جب سے تہذیب و تمدن کا قیام ہے. یوں لگتا ہے تہذیب کا تمام دھیان عورت کے نقوش پر تھا کہ کیسے اسکو رنگ برنگے، جھلملاتے، چمکتے ہوئے کپڑے میں لپیٹ دیں. 

محترمہ فاطمہ جناح ہوں یا بیگم رعنا لیاقت علی، یا پھر بینظر بھٹو. ان تمام خواتین نے دوپٹے کو معاشرتی شرم و حیا کو لحاظ میں رکھتے ہوئے پہنا تھا. 
ایک دور تھا جب PTV کی خبرنامہ پڑھنے والی خواتین بھی سر پر دوپٹہ نہیں لیتی تھیں لیکن پھر سیاست بدلی، ماحول بدلا، تو حلیے بھی بدل گئے.

سوال پھر وہی کہ آخر دوپٹے کی ضرورت ہی کیوں؟ کیا سامنے والے کی نظر صرف چہرے تک نہیں روک سکتی؟ کیا وہ بلاوجہ خلق خدا کو گھورنا یا ناپنا بند نہیں کر سکتا؟

عمومی طور پر بر صغیر میں لڑکیوں کا دوپٹہ اسکول کے V یا Sash کی صورت میں متعارف ہوتا ہے اور جلد ہی دوپٹے میں تبدیل ہوجاتا ہے. دوپٹہ دراصل اس بات کا اشارہ ہے کہ لڑکی نے بلوغت میں قدم رکھ دیا ہے اور اب لگامیں کھینچنے کا وقت آگیا ہے. اس لگام کا پہلا پٹہ، دوپٹہ ہے. 

ذاتی طور پر میں نے آٹھویں جماعت سے باہر جانے پر دوپٹہ لینا شروع کیا تھا. وقت کے ساتھ ساتھ دوپٹہ اور میں دو قلب یک جان ہوگئے.
 میں نے کچھ سال مشنری اسکول میں گزارے ہیں، جو کہ باقی مشنری کی طرح صرف لڑکیوں کا تھا. واحد مرد ذات ایک اکاؤنٹنٹ کی تھی جو دور پرے دفتر میں بیٹھتا تھا. 
ایک روز میں سیڑھیوں پر دوستوں کے ساتھ بیٹھی تھی اور میرا دوپٹہ برابر میں پڑا تھا. پوری عمارت میں لڑکیاں تھیں یا راہبائیں، جن میں سے ایک راہبہ نے ہمیں بنا دوپٹے کے دیکھ لیا. جانے کیا کیا کہا اور سب نے سر جھکا کر سنا،لیکن ایک بات دماغ میں بیٹھ گئی جو انہوں نے کچھ یوں کہی تھی "بنا دوپٹے کے کونسی تمیز تہذیب لے کر یہاں سے باہر نکلو گی؟".

شکر میرا اسکول تبدیل ہوگیا ورنہ راہباؤں کو تبدیل کردیتی!

خزیمہ، ماسٹرز کی طالبہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نو عمری میں دوپٹہ پہننا شروع کیا تھا. اس کی بنیادی وجہ اس وقت کے فیشن کی تنگ قمیضیں تھیں اور بنا دوپٹے کے خاندان یا معاشرے میں بات نہیں بنتی. کچھ سالوں بعد جب کرتا پہننے کا فیشن آیا تو خزیمہ نے خود کو دوپٹے سے آزاد کردیا. 

شہر بڑا ہو یا چھوٹا، عورت کی عمر کوئی بھی ہو، لیکن ان  کے مسائل دوپٹے کو لے کر تقریباً ایک جیسے ہونگے. غلط بھی نہیں ہے کیوںکہ معاشرتی درندے صرف جنس دیکھتے ہیں، باقی سب تفصیلات کے زمرے میں آتا ہے جس کے لئے ان کے پاس فرصت نہیں ہے.

سائرہ، جو اب کئی سالوں سے غیر ملک میں مقیم ہیں، بتاتی ہیں کہ  وہ صرف سسرال میں جب ہوتی ہیں تب گلے میں دوپٹہ ڈالے رکھتی ہیں یا اپنے شوہر کی بات کا مان رکھنے باہر ملک میں بھی شلوار قمیض کی صورت میں دوپٹہ ضرور لیتی ہیں. اگر جینز شرٹ ہو تب بھی کوئی سکارف وغیرہ ڈال لیتی ہیں. مزے کی بات یہ ہے کہ جب وہ اکیلی باہر نکلتی ہیں تو دوپٹے کو بھی اکیلا چھوڑ دیتی ہیں......گھر پر!

پاکستان میں خواتین پر ایک جانا انجانا معاشرتی دباؤ ہے کہ وہ گھر کے مردوں کے سامنے، گھر کے داخلی دروازے پر، یا  بازار وغیرہ جاتے ہوئے دوپٹے کا خیال رکھیں. مکمل پھیلا کر پہنا ہو تو واہ واہ، سر پر بھی ڈال لیں تو سبحان اللہ، ورنہ گلے کا پھندا بنا کر تو رکھیں ہی رکھیں. 

کئی خواتین، جن کو گھر سے دوپٹہ پہننے کی پابندی نہیں ہوتی، وہ باہر جاتے ہوئے صرف اس لئے پہنتی ہیں تاکہ انہیں ہوس بھری نظروں کا سامنا نہ کرنا پڑے. 
ساتھ ہی ساتھ، دوپٹہ پہننے والی خواتین کی ہمارے معاشرے میں زیادہ عزت ہے.

یقین نہ آئے تو عمیرہ احمد کے ڈرامے دیکھ لیں!
دوپٹے والی لڑکی ہمیشہ صابر و شاکر،پرہیزگار،خدمت گزار، خاموش طبیعت، اوررسم و رواج کی پابند ہوگی. دوسری طرف آپ کو ملیں گی جینز شرٹ، یا بنا دوپٹے کے کرتے والی لڑکی جو انتہائی تیز طرار، اپنے حقوق سے آگاہ، بد زبان، بد لحاظ، بدتمیز قسم کی ہوگی. 

معاشرہ تھوڑا میڈیا سے سیکھتا ہے، تو تھوڑا میڈیا بھی معاشرے سے سیکھتا ہے. 

خاندانی تقریبات ہوں، ہسپتال میں ڈاکٹر ہو، سڑک پر رپورٹر ہو، یا گھر پر رہنے والی خواتین، سب کا طریقہ استعمال ایک ہی ہے. ان میں سے کچھ اپنی مرضی اور موجودہ دورکے فیشن کے لئے دوپٹہ پہنتی ہیں لیکن یہ ایک دھوکہ ہے. دوپٹہ صدیوں پرانا طریقہ ہے یہ جتانے کا، کہ عورت اپنے عمل کی ذمہ دار ہے سو وہ دوپٹہ اگر نہیں پہنے گی تو وہ دعوت عام دے رہی ہے. دوسری جانب، مرد اپنے عمل سے مبرہ ہے. حرف عام میں اسکو victim shaming کہتے ہیں. 

کئی گھروں میں عورتیں گھر کے اندر بھی پہنتی ہیں جبکہ دوسری طرف گھر کے مرد بنیان اور شلوار میں گھومتے نظر آئیں گے کیوںکہ "گرمی بہت ہے." بیچاری عورتیں گرم چولہے کے پاس کھڑی ہو کر اسی دوپٹے سے پسینہ خشک کریں گی، یا اسکا ہلکا پنکھا بنا کر چہرے کو ہوا دینگی. 

گھر کی عورتوں اور مردوں دونوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ دوپٹہ کچن میں لے جانا خطرناک عمل ہے. اسی طرح جب "ہوا میں اڑتا جائے میرا لال دوپٹہ ململ کا" موٹر سائیکل کے پہیے میں پھنستا ہے تو جان لیوا ہو سکتا ہے.

آخر ایک غیر ضروری چیز کو معاشرے کا حصّہ کیوں بنایئں؟

کئی بزرگ خواتین کہتی ملیں گی کہ پردہ نہیں کرتی ہو تو دوپٹہ تو اوڑھ لو. بات صرف اتنی ہے کہ کوئی عورت کچھ بھی پہنے، مگر اپنی مرضی سے پہنے. اس خوف سے نہ پہنے کے مرد اسے وحشی نگاہوں سے دیکھیں گے یا خاندان والے کردار پر انگلی اٹھائیں گے.

دیکھا جائے تو دوپٹے کا کچھ خاص استعمال نہیں ہے. ایک اضافی ڈھائی گز کا کپڑا ہے جس کا مقصد صرف اوباش نظروں کو آپ سے دور رکھنا ہے. وہ الگ بات ہے کہ دیکھنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں. 
اسی لئے آج کل اکثریت اس دوپٹے کی ایک اور قمیض بنا لیتی ہے!




Jul 7, 2019

The Rise of Maryam Nawaz

Originally published here NayaDaur



After the unfortunate demise of Benazir Bhutto, Pakistan’s political stage witnessed an unspoken emptiness. BB Shaheed’s presence in national politics was flagbearer of not only democracy but also representative of the women of Pakistan.

We cannot deny the fact that only women of significance have been able to reach the pinnacle of Pakistani politics. Yet, we also cannot ignore that nothing was served to them on plate. From Fatima Jinnah to Benazir Bhutto, all of them tasted the power of patriarchy and anarchy.

With the arrest of Mian Nawaz Sharif in 2018, we saw the sudden ascension of his daughter Maryam Nawaz Sharif (MNS) in PMLN which made everyone raise their eyebrow.

The name of Maryam is not new and has been used repeatedly in past by opposition to bring dirt to PMLN and her father, equally. Her new-found position in the national political sphere has put everyone on alert inside and outside PMLN.

MNS is not just a pretty face, or daughter of Mian Sahab, or wife of Captain Safdar!

She is a 45yr old woman, holding MA in Literature from Punjab University. MNS, in all these years have handled her family’s philanthropic work and stayed as prime face for Sharif Trust. Back in 2017, she was among the BBC’s 100 Women, and by end of the same year got featured on The New York Time’s 11 Powerful Women Around the World.

Maryam Nawaz is indeed a power and an identity of her own.

Her political career took its first flight in 2011 and later in 2013, she became in-charge of her father’s political campaign for general elections. During all these years, she remained low-key until her name appeared in Panama Papers, and all hell break loose!

It is not like the first time a female politician is facing character assassination. The only difference is this time we will also have social media and keyboard warriors to raze her down to ashes against the sitting power. 

Over the last 70 years, Pakistan has seen an ethical downfall across the board but with the help of social-bots and paid campaigners we have reached the ethical demise of our country.

MNS has been slandered on her marriage with Captain (R) Safdar in one the most brutal manners where her even her children were not spared. Ruling party supporters made sure everyone get to know how Pakistan treats its women nationally and internationally, both.

As a nation, our understanding of private and family affairs is almost null.

Hence, our youth and not-so-youth decided to dig MNS pictures from her daughter’s wedding and ridiculed her for adorning herself. They went as far as calling her “buddhi ghorri laal lagaam” which roughly translates that a woman after certain age should not be wearing red.

Socially, we are accustomed to age-shaming and have normalized it in our daily life. Often, I hear people using the word “Aunty” as a shameful prefix.

When it comes to Maryam Nawaz, they shamelessly started a twitter trend identifying her real-life status of Naani i.e. grandmother. I must not forget that this trend was brought to you by another Pakistani woman, Veena Malik. Following in her footsteps, many other embarrassing trends took place on Pakistani Twitter.

2019 has been a houseful of internal misogyny; courtesy women taking a character dig at Maryam Nawaz.

Did all this character assassination and age-shaming pushed Maryam Nawaz back from the political forefront? Did it break her morale?

No. A big no.

She belongs to a hard-core political family, with Kashmiri blood running in her veins. This is not the first time, a woman in Pakistani politics has to rise and fight for her father. History, probably not repeating itself in similar fashion but definitely saving some lessons for Maryam Nawaz.

Today’s bold and brazen press conference by PMLN, led by MNS, displayed the authority that she holds and power she possesses. Through her poised and charismatic demeanor, MNS has proven everyone wrong and brought herself to the front stage of Pakistan’s political opposition.

Keeping the differences aside, we as a nation should welcome Maryam Nawaz and wish her all the strength and courage against hard core male-dominated politics.

“May the force be with you, woman!”






Jun 30, 2019

Ayushman's Article 15 is an eye-opener

Originally published here Masala


Ayushman Khurana and Anubhav Sinha have teamed up to show us the other side of not-so-incredible India. It is not the first time that Ayushman has picked a controversial movie, and he never fails to impress us with his impeccable acting skills. Article 15 is a true teamwork of some brilliant talent out of Bollywood. Be it Sayani Gupta as Gaura, or Kumud Mishra as Jatav. Anubhav Sinha has ensured throughout the film that each and every character is performed with an unmistakable excellence. This is not the first time, Bollywood has come up with caste-based movie, yet the timing is crucial as India has recently gotten over its election.
The film begins with a song Kahab Toh carrying strong lyrics between economic class difference, while an important event takes place in background. This song sets the tone of sentiments of lower class of India called Dalits but the relevance can be universal.
Ayushman Khurana is shown as an IPS officer appointed in a far-flung country side of India. His initial reactions to the poverty and practiced influence are pure and naïve as compared to other policemen shown in his area. Ayushman’s character has shown a subtle privilege which strengthen his character to take decisions and challenge the complicated caste system.
It is very interesting to note that an urban high-class IPS officer is shown to be unaware of the caste system of India, because his place & privilege never had these. Article 15 is full of small but significant anecdotes which keep the audience involved and reflect on their surroundings. There is one situation where a policeman was unable to understand instructions in basic English, shows the kind of induction Indian police has at several levels. The abuse of economic and caste power can surprise you in this film. Anubhav Sinha has delicately directed this challenging subject with utmost care. The teamwork shows where you will see some of the most gruesome scenes shot to perfection.
Article 15 has many folds to it, but the character of Nishad, performed by Zeeshan Ayub, will give you food for thought. Nishad is a man who was young and hopeful but then life happened. His character is almost every other man who is in league of separatist/nationalist, but free of hunger for power. Zeeshan Ayub’s screen time is less but he has left his mark. They say, civilization is what sets a human apart from an animal.  Watch Article 15 to know, they were wrong!

Jun 27, 2019

‘کبیر سنگھ’ میں وہ سب کچھ ہے جو محبت میں نہیں ہونا چاہیے

Originally published here HumSub

اگر میں ١٩ سال کی ہوتی تو "کبیر سنگھ" میرا خواب ہوتا !
خوش قسمتی سے اب میں کافی زیادہ عاقل و بالغ ہو چکی ہوں.

"کبیر سنگھ" اپنی تمام تر رجعت پسندی کے باوجود ایک ایسی فلم ہے جو آج بھی کئی لوگوں کو پسند آئے گی. یہ ایسی فلم ہے جس میں شدّت، محبّت پر غالب ہے. 
بر صغیر میں عشق، محبّت، جنوں تب تک مکمّل نہیں سمجھے جاتے جب تک ان میں پاگل پین کا عنصر شامل نہ ہو.



فلم "کبیر سنگھ" میں محبّت اندھی ہی نہیں، بلکہ اچھی خاصی گونگی بھی ہے. محبّت کا نام ہے پریتی سکا اور فلم کے زیادہ تر حصّے میں انہوں نے منہ کو مسکراہٹ کا تالا ڈالا ہوا ہے. ایسی کچی عمر کی دوشیزائیں آپ کو آسانی سے کالج/یونیورسٹی میں مل جائیں گی.

ایسے ہی تھوڑی "کبیر سنگھ" باکس آفس پر ہٹ ہوگئی ہے!

فلم میں ویسے تو بہت کچھ غلط ہے لیکن جو سب سے غلط ہے وہ ہے محبّت کو ملکیت سمجھنا.

ہندوستان پاکستان میں لڑکی کو ویسے ہی "چیز" سمجھتے ہیں، سونے پر سہاگہ اسکو "کبیر سنگھ" جیسا مالک چاہیے. 

میرا آپ کو مشورہ ہے، وہ بھی بلکل مفت، کہ آپ کو ذرا سا بھی شک ہوآپ کا بوائے فرینڈ کبیر سنگھ جیسی شخصیت کا حامل ہے تو جان اور عزت دونوں بچا کر بھاگ جایئں. ایسے مرد آپ کی شخصیت کو کبھی بھی تجربہ کرنے کا موقع نہیں دیںگے، اور آپ کو انسان کی جگہ موم سمجھ کر سانچے میں ڈھال دیںگے. 

"کبیر سنگھ" نے ١٨/١٩ سال کی لڑکی کو پہلے دن سے ہی اپنے نام لکھوا لیا جیسے لڑکی نہیں، ابّا جی کی زمین ہو. 
کیا لڑکی سے پوچھا؟ لڑکی کی مرضی جانی؟ 

بہنوں، اس کو کہتے ہیں "consent" جو انتہائی ضروری ہے چاہے محبّت اندھی گونگی بھری سب ہو. اس کچی عمر میں "کبیر سنگھ" جیسا مرد جنّت کا دروازہ لگتا ہے جب کہ ہے وہ عمر بھر کا قفل.
کس سے دوستی کرنی چاہیے، کس سے نہیں، چنری کیسے اوڑھنی ہے، کیسے نہیں، یہ سب کسی بھی لڑکی کو اپنی مرضی سے منتخب کرنا چاہیے نا کہ کوئی "کبیر سنگھ" آپ کو بتاۓ.

بیچ سڑک، لوگوں کے سامنے اپنی محبّت کو تھپڑ مارنا، اس پر چیخنا چلانا کوئی عشق جنوں نہیں ہے. یہ سماجی بےعزتی، اور ذاتی ضرب ہے. یہ بات لڑکا اور لڑکی دونوں پر لاگو ہوتی ہے. محبّت کی آڑ میں آپ غصے کی غلاظت نہیں پھیلا سکتے. 

"کبیر سنگھ" صرف لڑکیوں نہیں، بلکہ لڑکوں کہ لئے بھی ایک سبق آزمودہ فلم ہے. ایک سین میں ہیرو کا دوست اسکو کہتا ہے "لڑکے روتے ہیں کیا؟" کیوںکہ یہ تو حدیث اور شاستروں  میں آیا ہے کہ لڑکے نہیں روتے ہیں. 
اب کیوںکہ ہم اکیسویں صدی کے باسی ہیں تو میں بتاتی چلوں کہ مرد اگر ہنس سکتے ہیں تو رو بھی سکتے ہیں. آپ کے tear glands اچھے خاصے ایکٹو ہیں اور ان کا آپ کی مردانہ صلاحیتوں پر کوئی اثر نہیں ہے. 

سب سے زیادہ جس منظر نے مجھے حیران کیا وہ یہ کہ، "کبیر سنگھ" کو فیملی پلاننگ اور برتھ کنٹرول جیسی چیز کا خاص اندازہ نہیں تھا. وہ اپنے بھائی کو تقریباً تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پلاننگ کیا ہوتی ہے؟ یہ تو بس جذبات ہیں. 

برائے مہربانی، ہند و پاک کی بڑھتی ہوئی آبادی کا خیال کریں اور بچے کو محبّت کی نشانی سمجھنے سے گریز کریں. 

فلم کی موسیقی بہترین ہے اور میرے کانوں میں ابھی بھی بج رہی ہے. میوزک اور فلم ڈائریکٹر نے شدّت کا رنگ فلم کی موسیقی میں بھی ڈالا ہے. شاہد کپور سے بہتر کوئی اور یہ کردار نہ کر پاتا. کئی مناظر میں آپ کو "حیدر" فلم یاد آئے گی. 
کیارہ اڈوانی کی معصومیت اور نو عمری ان کے کردارمیں گھل مل گئی تھی.  

"کبیر سنگھ" اپنی تمام تر برائیوں کے باوجود ایک دیکھنے قابل فلم ہے. یہ فلم آپ کوہر وہ چیز سکھائے گی جو محبّت میں نہیں ہونی چاہیے. 








May 25, 2019

کام کرنے کی جگہوں پر جنسی ہراسانی

Originally published here HumSub

ہم نے ہمیشہ یہی سنا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے اور قانون کے لئے سب برابر ہیں. کیا یہ بات حقیقت ہے؟ اصولی طور پر تو قانون کو اندھا نہیں، بلکہ منصف ہونا چاہیے کیوںکہ اندھا ہونے کی صورت میں تووہ استغاثہ اور دفاع دونوں ہی کو نقصان پہنچا سکتا ہے.

پاکستان میں قانون بہت لیکن استعمال اتنا ہی جتنا آٹے میں نمک!

میشا شفی کے ساتھ جو ہوا غلط ہوا، لیکن معاشرتی طور پر ایک فائدہ یہ ہوا کہ لوگوں کو جنسی ہراسائی کی قانونی سمجھ بوجھ آگئی. میشا شفی ایک مشہور شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ بااثر بھی ہیں جو اپنے حقوق سے بخوبی واقف ہیں اور ان کے لئے لڑنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں. اس کیس کے دوران ہم نے دیکھا کے انکا خاندان، دوست، اور متعدد چاہنے والے ان کے ساتھ کھڑے ہیں.

بدقسمتی سے ہر کسی کے نصیب میں نہ اتنی ہمّت ہے کہ وہ جنسی طورپرہراساں  ہونے کی شکایات کر سکے یا اس کے خلاف کیس لڑ سکے. آئے دن ہم مدرسے میں ہونے والے گھنونے واقعات کی ویڈیوز دیکھتے ہیں، خبریں سنتے ہیں لیکن کیا کسی والدین نے کیس لڑا؟ جیتا؟ .......شاید نہیں!

ہمارے ملک میں قانون تو ہے لیکن سجا سجایا. بلکل قرآن پاک کی طرح جس کو ہم گھر میں سب سے بہترین کپڑے میں لپیٹ کرطاق پر رکھ دیتے ہیں اور کبھی کبھی کھول کر دیکھ لیتے ہیں. 

اپریل ٢٠١٨ میں ڈان اخبار نے ایک آن لائن سروے کیا جو تقریباً ٣٠٠ عورتوں پر مشتمل تھا. اس سروے ک مطابق ٨٣% عورتوں کا ماننا تھا کہ دفاتر میں عمومی طور پر مرد نامناسب روّیہ اختیار کئے رہتے ہیں کیوںکہ انہیں یقین ہوتا ہے کے کوئی کاروائی یا چارہ جوئی نہیں ہوگی. 
یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان میں دفاتر میں ہونے والی جنسی ہراسائی کے لئے قانون موجود ہے:

Protection against Harassment of Women at the Workplace Act 2010:"Harassment as any unwelcome sexual advance, request for sexual favors or other verbal or written communication or physical conduct of a sexual nature or sexually demeaning attitudes, causing interference with work performance or creating an intimidating, hostile or offensive work environment, or the attempt to punish the complainant for refusal to comply with such a request or is made a condition of employment."

پاکستان کا کوئی حصّہ یا طبقہ ایسا نہیں ہے جہاں کام کرنے والی عورتوں کو ہراساں ہونے کا تجربہ نہ ہوا ہو. ٩ سال گزرنے کے باوجود مندرجہ بالا قانون سے کئی عورتیں ناواقف ہیں یا ڈرتی ہیں کے انصاف کے کٹہرے میں ان کی دھجیاں نہ اڑا دی جایئں. 
وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم کے مطابق ٢٠١٤ سے ٢٠١٨ کے درمیان ٣٧٨ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ملک بھر سے، جن میں سے ٢٢٠ شکایات حکومتی اداروں سے آئ تھیں. 

جب بات آتی ہے اداروں کی تو ہمارا پہلا خیال یہ ہوتا ہے کہ شاید تعلیمی ادارے اس سے محفوظ ہوں. آخر کو استاد تو روحانی والدین کا درجہ رکھتے ہیں اور پھر تعلیم و تدریس بذات خود ایک انتہائی عزت دار پیشہ ہے.

ان تمام باتوں کے باوجود، پروٹیکشن ایکٹ ٢٠١٠ کے تحت موصول ہونے والی شکایات میں قائد اعظم، LUMS، جیسی یونیورسٹیز شامل تھیں.

٢٠١٨ میں ایک اور مشہور کیس اخباروں کی زینت بنا تھا جب پاکستان کے جانے مانے اردو کے شاعر پروفیسر سحر انصاری پر جنسی ہراسائ کا کیس ہوا تھا. پروفیسر صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں بلکہ اردو کی خدمات کے انجام میں حکومت پاکستان سےستارہ-امتیاز بھی حاصل کر چکے ہیں. 

شکایات درج کرنے والی خاتون خود بھی اسسٹنٹ پروفیسر تھیں اور ان کے ساتھ یہ واقعہ ٢٠١٦ میں پیش آیا تھا. اس شکایت کی بنیاد پر جامعہ کراچی نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے ایک ماہ کے اندر پروفیسر صاحب کو کلین چٹ دے دی. 

خاتون برحق تھیں تو انہوں نے سندھ صوبائی محتسب کو اپیل دائر کی جس نے سوا سال بعد اگست ٢٠١٧ میں جامعہ کراچی کی کمیٹی رپورٹ کو رد کر کے نئی کمیٹی، پروٹیکشن ایکٹ ٢٠١٠ کے تحت تشکیل کرنے کا حکم دیا. 
جنوری ٢٠١٨ میں حتمی فیصلہ یہ ہوا کہ پروفیسر سحر انصاری پر ہراسائی کی شکایت ثابت ہوئی جس میں جامعہ کراچی کی جانب سے کئی طالبات کی شکایات بھی شامل تھیں اور جامعہ کے چند ملازمین کی گواہی بھی شامل تھی.

پھر کیا ہوا؟
کوئی نہیں جانتا!

سندھ محتسب نے ایک بہترین قدم اٹھایا لیکن کیا اس کو مثالی بنا پائے؟ کیا پروفیسر سحر انصاری پر قانونی فیصلہ محفوظ ہوا؟  کیا جامعہ کراچی نے اس سلسلے میں پیش و رفت کی؟ مستقبل میں اساتذہ اور طالبات کو محفوظ بنانے کے لئے کیا اقدام کئے؟ 


حکومت پاکستان میں وفاق نے ایک پوری وزارت اس پروٹیکشن ایکٹ کے لئے محفوظ کی ہے جس کی وزیر اس وقت کشمالہ طارق ہیں. مجھے یقین ہے اگر حکومت چاہے تو اس قانون کو ہرچھوٹے بڑے دفاتر میں عمل میں لا سکتی ہے. عورتوں کو اس قانون کے بارے میں آگاہ کیا جائے، ان کو ان کے حقوق کا احساس دلایا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انکی شکایات اور کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا.  

جب فیصلے ہوا میں معلق ہوں، توقانون پر سے یقین ڈگمگانے لگتا ہے جو معاشرتی طور پر خطرناک ہے. پاکستان میں دفاتر میں ہونے والی ہراسائی کے خلاف ایک مثبت قانون ہے جس کا یقینی استعمال ضروری ہے. 












  

May 24, 2019

ALAMUT - The sacred secret

Before I begin to review this book, I would like to establish a few pointers in order to avoid any backlash or unacceptable criticism:
• This is a historical FICTION, based on religion and sects. Hence, please be tolerant and if you are not then you should not delve into reading it at all
• In case you think, this book, by any means, has tried to harm Ismaili Muslims, then that is not the case. You can use this whole plot on any sect, and the outcomes will be the same
• Hassan ibn Sabbah and his Assassins are not fictitious in the course of history. There are many books which you can read in order to have a better understanding
I loved it!

Bartol wrote this novel in 9 months, back in 1938, far from Iran at the foothills of the Slovenian Alps. One would be surprised by his imaginative curiosity and character building. He did enough research work before he sat down to write this masterpiece which explains a lot of our modern terrorism.

The books will begin with the details of the castle of Alamut, located in northern Iran, governed by Hassan ibn Sabbah. These details will include the development and nurturing of Fidayeen – whom we know as Assassins – followed by the intricate explanation of “paradise”.
Bartol has cleverly avoided using word Assassins in his novel and instead calls them Living Daggers. There are certain theories and evidence, outside the novel, which indicate that the actual term was Assassiyoon which meant “people who are faithful to the foundation”. This term was turned into Assassin or Hashashin given their use of hash pellets.

In this novel, you will not find any Fidayeen/Assassin to work in a way that we have seen in movies or have heard so. Instead, the description reminded me of listening to the recovered children from our Pakistan Army operations. Those children were sent into rehabilitation and army also found a fake “Jannat” which had an enormous number of inappropriate movies, and literature to lure the youth.

The use of word Infidel highlights the fact that how easy it is to create warriors in any era of human beings. Bartol has also used the color coding in accordance to the basic belief of black & white where Ibn Sabbah is always in a white cloak and his army has a white flag, whereas the opposition has it black.

The character of Hassan ibn Sabbah and his detailed conversations with his aides are exemplary and mentally challenging. They might provoke your inner Muslim, but it is actually meant to give you food for thought. The way Bartol has to draw the character of Ibn Sabbah, you can put any Molvi or Bin Laden for that matter in that sketch and everything will fall into place.

My favorite part of this novel is Ibn Sabbah’s last conversation with one of his fidayeen Ibn Tahir. 

Last but not least, the title cover of this book!

Image by Shireen Neshat
Poetry by Forough Farrokhzad

"No one is thinking about flowers.
No one is thinking about the fish.
No one wants to believe that the garden is dying,
that the garden is slowly forgetting its green moments."

The way I have understood the role of women in this novel, I believe this is the most appropriate piece of poetry. As we all know, no paradise is complete without the “Houris”, Ibn Sabbah also ensured to have the most beautiful ones in his paradise. The character of one of the houris is called Miriam, and her image and lifestyle along with other houris explain that a cage is a cage even if it is made of gold. The ending of the novel includes his belief about the women living in his paradise which is in line with this piece of poetry.

ALAMUT is 5/5

May 3, 2019

Even Pakistani Tinder Isn’t Safe From Married Men


Originally published here NayaDaur



“What were you doing on Tinder?”

Khadija* was expecting anything but this. She was talking to the wife of a man who had recently deceived her. She had met this man on the dating app Tinder where they had immediately struck up a lively conversation. He told her that he was divorced and she had taken most of what he said on face value, convincing as his tales of the every day seemed. Even when she met him in real life, she did not think anything was amiss. 

But several months later the game of deception had finally come to an end after Khadija found out about his wife and children through a network of women online who have each other’s backs in matters like these and keep a check on philandering men through various whisper networks. This is what had brought Khadija and Sameen together to talk about the man who had deceived them both.

The most notable part of this awkward conversation was that the wife wanted to know why Khadija had been on Tinder to begin with. “Because I am single”, sputtered Khadija. I also told her “You should be asking your husband this question, not me”, she says, putting her glass of ice-filled cola on the table and trying to control herself.

In any civil society, people will not judge each other for being on a dating app. The judgment criteria begin when one lies about their marital status and think of oneself as a trophy that women are dying to take home.

Almost 2 decades back, we had chatrooms such as MSN, Yahoo, MIRC, or ICQ for meeting/dating new people. You could have entered a chatroom and befriended a boy disguised as a girl. This can still be considered comparatively better than finding yourself dating a man who has not put his legitimate marital status on the table.

Internet became further prevalent, and everything became on-the-go, courtesy of smart phones. Eventually, these rooms got replaced by exclusive dating apps such as Tinder, OkCupid, or the latest Muslim sensation called MuzMatch – a halal way to date.

Unlike West, Pakistan has nothing to offer to adults for casual socializing and that is when we resort to the modern mode of dating.

According to Zaafir*, a young engineer who regularly uses Tinder, dating in Pakistan is an act of rebel. A small gesture against cultural and social norms which bars you from meeting singles and know them. A country where women are still objectified and considered as “ghairat”, dating openly can be as dangerous as entering a tribal area without precaution.

Pakistan, where dating is anyway a taboo, such apps not only create room for potential companionship but also test users’ level of trust in strangers. An average Pakistani find it safer to look for a date online as compared to his or her surroundings where a judgment awaits by society.
Hasan* met his girlfriend on WeChat, a Chinese multipurpose messaging app. He is a 26year old, full-time student who accidentally found his partner on this app. Initially, the girl she met was using a fake identity for safety purpose but over time, as trust developed, she revealed her real identity. 

Two years later, they are still together. Hasan* thinks, it is unethical for committed or married people to be on a dating platform.

He further added that Pakistan is a culturally restricted society limits their chances to date or get-to-know a new person. Also, men and women have a conflict of interest where men are mostly looking for one-night stands, or rather a time-pass, while the majority of women go for something meaningful or deeper connection.

Pakistan is a tough country for single women and it becomes quite difficult for them to put themselves out there on dating platforms. In case you happen to be independent, outspoken, opinionated then Pakistani men tend to take you for granted and consider you as “available”. The sense of entitlement is quite evident on dating apps like Tinder where our desi men shamelessly date to demonstrate their masculinity.

Tinder already has around 57million users worldwide and can be ranked as one of the most growing dating apps in Pakistan.

Ideally, any dating app should be the hub of singletons looking for 50 shades of romance but, we rather find 50 shades of shadiness. Back in 2015, Global Web Index, an independent survey of Tinder found that around 30% of its users are married and 12% are highly committed in their relationships.

Such statistics can only speak of figures, but not the motive or authenticity of users!
Farheen*, a 33-year-old media professional, consumed by her work-life, gave Tinder a try. 
Just like Khadija*, she met a too-good-to-be-true guy, Mr. Z, whom she dated for a little over 2 months and eventually discovered that he is not only married but also fathering 2 children. 

Unfortunately, Farheen* was not his only prey but Mr. Z was a compulsive liar who had a wife, a steady girlfriend and a few side flings through dating apps.

Being married is not a problem, but what is problematic is deceiving multiple women at one point of time. Farheen* added, that such incidences can make people bitter and losing out on any chance of finding a reliable man.

Most men get away with such situations because they know, how easy it is to be a man in Pakistani society where they can be “themselves” in the name of patriarchy. Tinder is full of profiles where men literally write in their bio “Let’s not judge each other for being on Tinder” as if being on a dating app is a crime or a mortal sin.

While writing this piece, I spoke to many women who were duped by married men by showing themselves as single, separated, or even divorced. These men kept a smooth relationship, at max, a month or two and eventually their identity got revealed. Unfortunately, the most appalling part is that when wives learn of these incidents, they question the victim of deception before they question the deceiver – the husband.

A country like Pakistan, where sex and dating both are considered as best kept secret, these dating apps are giving avenues to married male to explore their fantasies.

Razee*, a 45year old married male, used OKCupid while going through a rough patch in his marriage. According to Razee, he could never find a match because he was honest about his marital status. OkCupid was his escape from marital life, responsibilities, and temporarily answered his fanciful desires in life.

Duplicity is an art, and not everyone can master it. Hence, Razee* had to withdraw himself from these dating apps where honesty could not get him a single date. Also, he mentioned that he did not have the guts to maintain an alternate identity just to fancy himself on cupidity.

But what makes a married man lie about his marital status?

“Well, it is all about how a man is raised because this is what leads to ineffective emotional awareness and communication with a partner.”, says Shazia Ahmed, a counseling psychologist.

According to Shazia, men are not taught how to recognize their emotions, and the only emotions they can have without shame are anger or aggression. Our primary issue begins when socially men are told that they are entitled to everything because they are men which eventually takes away their basic human need of being emotionally vulnerable.

Pakistani marriages are pre-dominantly arranged by parents which gives hardly any chances to two people to understand each other and match their frequency. Mostly in an arrange setup, it’s the men who has supremacy in relationship which takes away the equal sharing of responsibility and feelings towards each other.

In order to sustain a long-term partnership, man and woman both should work on it. Unfortunately, in Pakistani society, we put women through emotional labor of child upbringing, handling in-laws, and entertaining husband. While all this, the only standard expectation from a man is to be breadwinner.

Meanwhile, most of Pakistani wives are consumed in their chaotic marital life, their husbands find time to fulfill their fantasies and satisfy their ego through online mean and mode.

Shazia further explained, that men lack emotional awareness and deduce themselves to some attention from an unknown woman who is not bound by the same constraints as his wife. Instead of resolving their emotional needs with their partners, married men enjoy the attention and entitlement under the pretext of being single.

In a typical desi setup, where your parents chose your partner, you are very unlikely to develop that deep and secure emotional bond. Only this kind of bond has capability to communicate freely with your partner and share the weight of relationship, equally.

The time a man spends while talking to his Tinder match, he can choose to spend that with his wife while helping her with daily household labor. Unfortunately, most men are neither brought up nor they have seen other men helping their spouses. The way married men explain their fantasies to their online dates, they should rather try explaining them to their partners without any fear of being misunderstood.

If you cannot be principled enough in your marriage, one cannot expect you to have them on Tinder. 

The amount of creative thinking and labor, our men put into creating an alternative identity in online dating world, they should probably put that into their marriage.
This will save many women time and energy, both!