Apr 15, 2017

فلم ’بیگم جان‘ میں بٹوارے کی بے لاگ منظرنگاری

Originally published here HumSub

بیگم جان نے سنیما سکرین پر داخل ہونے سے پہلے ہی فلم شائقین کو اپنے کردار اور باتوں سے چونکا رکھا تھا اور ہر زبان پر بس ودیا بالن "بیگم" کا ہی چرچا تھا. میں نے ایک ہفتہ قبل ہی اس فلم کا ٹکٹ بک کرا لیا تھا اس یقین سے کہ مہیش بھٹ اور ودیا بالن نا امید نہیں کریں گے.


بیگم جان، دراصل بنگالی فلم "راج کہنی" کو لے کر ہندی میں بنائی گئی فلم ہے جو کہیں نہ کہیں حقیقت پر مبنی ہے. بیگم جان کا کردار اور کہانی لکھنے کی ہمّت شریجیت مکھرجی نے کی ہے جب کہ بےباک ڈائلاگ  کوثر منیرکے ہیں.  

فلم کی شروعات ہی میں فلم کو سعادت حسن منٹو ار عصمت چغتائی کے نام کردیا جاتا ہے اور یوں دیکھنے والے شائقین کی امید اور بڑھ جاتی ہے. یہ برصغیرکہ وہ دو لکھاری ہیں جنہیں پڑھنے کے بعد کسی انسان کو تقسیم ہند کی تاریخ پر خوشی یا فخر نہیں ہو سکتا بلکہ انسانیت پر شرمندگی اور ملال ہونے لگتا ہے.

یوں تو فلم تقسیم ہند کے پس منظر پر مبنی ہے لیکن اس کے لئے موجودہ منظر میں دہلی میں بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات کی ایک جھلک دکھلائی جاتی ہے تاکہ دیکھنے والوں کو بتلایا جا سکے وقت بدلا لیکن حالات نہیں. 

کوثر منیر نے انتہائی باریکی اور نزاکت سے ١٩٤٧ کی تقسیم کو سکرین پر لکھا ہے کہ کیسے ایک اہم لیکن "احمقانہ" لکیر نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر اور بے عزت کیا. تقسیم کی یہ لکیر بیگم جان کے کوٹھے کے بیچ سے گزرتی ہے جس کے باعث انہیں وہاں سے جگہ خالی کرنے کو کہا جاتا ہے اور یوں کہانی آگے بڑھتی ہے. 

ودیا بالن اس فلم کا مرکزی کردار نبھا رہی ہیں جوشکرگڑھ اور دورانگلہ تحصیل کے بیچو بیچ ایک کوٹھی کو کوٹھے میں تبدیل کرچکی ہے اور "بیگم جان" کے نام سے جانی جاتی ہیں. بیگم کے پاس کوئی ٧-٨ لڑکیاں کام کرنے والی ہیں جن کی کہانی کو فلم کے مختلف حصّوں میں دکھایا جاتا ہے. بیگم جان بذات خود کم عمری کی بیوگی گزار چکی ہوتی ہیں جنہیں بنارس سے لکھنؤ تک کے کئی کوٹھوں کا سفر کرنے کے بعد "بیگم جان" کا رتبہ ملتا ہے. فلم بنانے اور لکھنے والوں کا کمال ہے کہ انہوں نے آزادی کے پس منظر میں انسانی فطرت کے پیچیدہ ترین رشتوں اور خواہشوں کو خوبصورتی سے دیکھنے والوں تک پہنچایا ہے.

جب سر ریڈکلف لکیر کھینچ دیتے ہیں تو مسلم لیگ اور کانگریس کی جانب سے دو سرکاری افسران ملتے ہیں جو درحقیقت بچپن کے دوست ہوتے ہیں لیکن آزادی کے  بعد دشمن ہونے پر مجبور. اشیش ودھیارتی جنہوں نے کانگریس کی جانب سے ہندو افسر ہونے کا کردار نبھایا ہے، وہ مسلمان افسر(دوست) کو بتلاتے ہیں کہ اس آزادی کو قبول کرنے کا آسان طریقہ نفرت ہے.  اس فلم کے ان دو کرداروں نے بتایا کہ نفرت کا بیج ہی اصل بٹوارہ پیدا کریگا لیکن اس نفرت کی قیمت انہوں نے بھی دی --- خاندان کی صورت، عزت کی صورت، اور سب سے بڑھ کر ضمیر کی!

بیگم جان کا کوٹھا کسی بھی عام کوٹھے کا نقشہ کھینچتا ہے جہاں نہ کوئی ذات پات، نہ دھرم ایمان، لیکن احساس ہے تکلیف ہے جس کی دیکھ بھال بیگم جان کرتی ہیں. ودیا بالن کی اداکاری پر ویسے بھی کسی کو شک نہیں لیکن یہ کردارشاید ان سے بہتر کوئی بھی نہ نبھاتا. کوثر منیر کے ڈائلاگ سے مکمّل انصاف صرف ودیا کرسکتی تھیں. لفظوں کی بیباکی اور درد ودیا کی اداکاری سے امر ہوگے. 

فلم میں ویسے تو کئی بہترین لمحات ہیں لیکن ذاتی طور پر مجھے وہ کہانیاں پسند ہیں جو انتہائی خوبصورتی سے بیچ بیچ میں "اماں" کوٹھے پر رہنے والی دس سالہ "لاڈلی" کو سناتی ہیں. یہ کہانیاں جھانسی کی رانی سے لے کر مہارانی پدماواتی پر مشتمل ہیں اور اماں ان کہانیوں کو سبق کے طور پر سناتی ہیں. ہند و پاک وہ خطہ ہیں جہاں آج بھی لڑکی کو کمزور/نازک/ابتر سمجھا جاتا ہے اس لئے یہ کہانیاں بیگم جان کے کردار میں عجیب سی جان ڈالتی ہیں. 

کوٹھے اور طوائف پر تو بہت فلمیں بنی ہے لیکن "بیگم جان" کی خاص بات ہے وقت کی یاد دہانی!

جس طور طریقے سے بیگم جان کی کوٹھی خالی کرائی جارہی تھی وہ طریقے آج بھی زندہ ہیں، بس آلہ واردات ترقی یافتہ ہیں. عصمت دری کا خوف تب بھی تھا اب بھی ہے. راجہ مہاراجہ چلے گئے، زمیندار اور انکی سرکار نے جگہ لے لی.

ہندوستان اور پاکستان نے ١٩٤٧ کی تقسیم دیکھی، بلوے دیکھے، عزتیں کنوئیں میں کودتی دیکھیں اور یہی سب پھر ١٩٧١ میں دیکھا، لیکن آج بھی سرحد کے دونوں  پار نفرت کا وہ بیج جو جان بوجھ کرتقسیم کے وقت بویا گیا تھا، جنگ اور لاشوں کی صورت فصل کاٹ رہا ہے.

تاریخ کا اصل اور بدصورت پہلو تو منٹو کی کہانیوں میں ہے، امرتا کے پنجارمیں ہے، یا پھر چغتائی کی لحاف میں چھپا ہے.

ہمیں آنے والی نسلوں کو اس تاریخ سے روشناس کرانا ہوگا، ان کے ذہنوں کو ذات کی غلامی سے آزادی دلانی ہوگی تاکہ ہم میں اپنی تاریخ سے نظر ملا کر بات کرنے کی ہمّت ہو اور غلطیاں نہ دوہرانے کی سوجھ بوجھ پیدا ہو. 

Jan 13, 2017

میری آواز کو قفل ڈال، سچ کی گونج لے جا!

 Originally published here HumSub
بچپن میں جب کچھ غلط کرتے ہیں  ہیں تو گھر کے بڑے بزرگ ڈانٹ مار کر سمجھاتے ہیں، بتاتے ہیں کہ سچ بولو اور اچھا کرو لیکن دستور وطن کچھ اور ٹہرا .سچ بولنے کو خاموشی کا سبق دیا جاتا ہے  اور حق کی آواز اٹھانے والوں کو ہی اٹھا لیا جاتا ہے.
وطن عزیز میں مثالیں تو بہت ہیں جب جب ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ ہم نے انگریزوں سے تو آزادی حاصل کرلی، لیکن خود سے آزاد نہ ہو سکے.
سلمان حیدر، احمد رضا، احمد وقاص گورایا اور عاصم سعید وہ چند نام ہیں جو ٤ جنوری سے ٧ جنوری کے بیچ پاکستان کے مختلف علاقوں سے غائب کردیۓ گئے. ٢٠١٦ تک تو ہم بس سنتے تھے کہ گمشدہ یا تو بلوچ ہوتے ہیں یا پھر متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان لیکن ٢٠١٧ نے تو مجھ جیسی عام  انسان کی آنکھیں ہی کھول دی ہیں اورساتھ ہی عقل نے زبان پر تالہ ڈالنے کا تقاضا کردیا.
کیا انسانوں کی گمشدگی  ان کی اٹھائی آوازوں کو بھی گم کردے گی؟ یا پھر یہ اشارہ ہے اس خاموشی کا جو خوف کی صورت پیدا ہوتی ہے.
لے جا،
میری زبان سے
 نکلے الفاظ
لے جا


میرے ذہن پہ
لکھےخیال 
لے جا 

میری جنگ کے
ہتھیار لے جا
 
کوئی چارہ گر 
رہ نہ جائے
میرے یار
میرے احباب 
لے جا 

میری سوچ کا 
قاتل بن کر
میری نظموں کا 
مضمون 
لے جا

جنوں کو ضرب 
لگانے والے
زمانے بھر سے
مرہم لے جا 

میری آواز کو
قفل ڈال 
اور
سچ کی گونج 
لے جا !


Jan 2, 2017

2016 – دہشت گردی اور فرقہ وارانہ قتل و غارت سے لتھڑا سال

Originally published here HumSub

نیا سال مبارک ہو آپکو ! 

لیکن کس بات کی مبارکباد دوں یہ سمجھ نہیں آرہا کیوں کہ ٢٠١٦ میں اتنے ظلم ہوئے ، اتنے زخم کاری ہوئے جن کا درد اور یاد دونوں میری مبارکباد سے کم نہیں ھونگے . ہم دنیا بھر میں اک دوسرے کو فیشن کے طور پر ٣١ دسمبر کی رات بہت گرمجوشی اور ہنستے مسکراتے نئے سال کی دعا دیتے ہیں جب کے خود کو بھی اِس سچائی کا علم ہوتا ہے کے کیلنڈر کی تاریخ کے علاوہ کچھ نہیں بدلنا  . 
 زندگی کے لیے صرف حالات و واقعات نئے ہوتے ہیں ، جن کا تاریخ سے کوئی لین  دین نہیں ہے .
 
ایسی ہی کئی زندگیاں ہم نے ٢٠١٦ میں پاکستان کے قبرستانوں  کے حوالے کردی . 
ISPR کے مطابق ٢٠١٦  میں دہشت گردی کے واقعات میں بہتر فیصد کمی آئی ہے ، جس میں آپْریشَن ضرب ازب کا مرکزی کردار رہا . دوسری جانب پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کونفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹیڈز کے مطابق یہ نمبر صرف تیس فیصد  ہے .

 اب یہ تو خدا جانے کس کیریاضی کمزور ہے . 

 حکومت اور حفاظتی ادارے یقیناً  دن رات کام کر رہے ہیں لیکن کیا پوری نیک نیتی سے کر رہے ہیں ؟ ہم نے شاید دہشت گردی کے واقعات  میں تو 72% کمی دیکھ لی ، لیکن جوواقعات  ٢٠١٦ میں پاکستان میں ہوئے اس کے نقصان کی نوعیت اتنی شدید ہے کہ اس 
 کا ازالہ ممکن نہیں . 

١٣ جنوری کو کوئٹہ کے اک گنجان آباد  علاقے میں پولیو ویکسینیشن سینٹر پر حملہ ہوا جس میں شہید ہونے والی اکثریت پولیس والوں کی تھی . یہ پولیس کی وردی پہنے وہ محافظ تھے جو کوئٹہ جیسے شہر میں پولیو ورکرز کی حفاظت پر تعینات تھے . افسوس ، ہمارے محافظوں کی کوئی حفاظت نہ  کر سکا اور ایک ہی  جھٹکے میں صرف ١٢ پولیس والے شہید نہیں بلکہ ١٢ خاندان اجڑ گئے .

آرمی پبلک اسکول  کے حادثے کا زخم ابھی صرف ١٣ ماہ پرانا ہی تھا ، جب چارسدہ  میں  باچا خان یونیورسٹی پر حملہ ہوا . پورے ملک میں خوف کی لہر دوڑ گئی خدانخواستہ  ہم دوبارہ APS  نہ دیکھیں . 

عام خیال ہے كے پنجاب میں دہشت گردی کا تناسب کم ہے ، لیکن یہ بس خیال ہی ہے . ٢٧ مارچ کو لاہور میں  ایک خودکش بمبار ٧٦ لوگوں پر بھاری پڑ گیا. . اس شام گلشن پارْک میں ان گنت  والدین کا گلشن ، گلشن پارْک میں اجڑ گیا . فاطمہ تو حسین کو اک بار روئی تھیں ، میرے ملک میں تو روز کتنی فاطمہ اپنے حسین کو روتی ہیں.
 
بلوچستان كے بارے میں حسرت ہی رہی کے کچھ اچھی خبر آئے اور٢٠١٦ تو شاید 
اِس صوبے کے لیے بدترین سالوں میں سے ایک تھا  . کوئٹہ میں ٨ اگست کو سول اسپتال میں ہونے والے دھماکے نے دس بیس یا تیس نہیں ، بلکہ ستّر سے زائد وکلا کو ایک دھماکے کی نظر کردیا ہے. صوبے میں انصاف کی کمی تو پہلے ہی تھی ، اب انصاف کے لیے لڑنے والے بھی نہ رہے.

دہشت گردی میں ہونے والے حملوں کی عمومی  طور پر ذمہ داری تحریک طالبان یا اس سے   جڑی جماعتیں  لیتی ہیں. تب ہم جیسے عام انسان سوچتے ہیں کہ ضرب ازب کی ضرب طالبان کو زیادہ لگی ہے یا ہمیں؟ 

 سوال پیدا ہوتا ہے ، کیا ساری  ذمہ داری اک آپْریشَن کی ہے ؟ نیشنل ایکشن پلان کا کیا کردار رہا ؟

 کافی بدکردار رہا! 

طالبان اورتکفیریت  اک سوچ ہے اور اِس سوچ کو حکومت اوراداروں  نے معصوموں کے خون سے سینچا ہے . پچھلے کئی سالوں  سے پاکستان  میں بار بار  یہ آواز اُٹھائی جاتی ہے کے اک سسٹم کے تحت شعیہ فرقے پر حملے ہوتے ہیں اور جو آواز اٹھائے اسکی آواز بھی دبا جاتی ہے . 

٧ مئی ٢٠١٦ کو خرم ذكی کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کردی گئی . خرم اک جانے مانے انسانی حقوق کے کارکن اور صحافی تھے . قصور صرف اتنا تھا کے آپ طالبان اور ان کے  سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے والوں کے خلاف سرگرم تھے اورشیعوں  کے خون کا حساب مانگتے تھے.

 خرم ذكی تو پِھر آواز اٹھاتے تھے ، لیکن اِس پاك سر زمین پر تو قوالی کی آواز بھی نہیں برداشت ہوتی . یہی وجہ تھی جو دنیا بھر میں سنے جانے والے امجد صابری کو "لشکر جھنگوی" نےدن دہاڑے قتل کر دیا اور ہماری پولیس کافی عرصے تک اک پارٹی سےدوسری  پارٹی کوقاتل ٹھہراتی  رہی . 

جب کچھ نہیں بنتا تو طالبان مزاروں اور درگاہوں کا رخ کرتے ہیں اور اِس بار  بلوچستان کے پہاڑوں  پر چھپے شاہ نورانی کے چاہنے والوں کے خون سے مزار کو دھو دیا . 
ان سب واقعات کا نتیجہ ؟ 

اکتوبر کے آخری عشرے میں اک شام اسلام آباد کا علاقہ  آبپارہ،  کالعدم جماعت ASWJ کا شعیہ کافر شعیہ کافر کے نعروں سے گونج اٹھا .
 
وفاقی درالحکومت  میں تو حکومت اور حفاظتی اداروںکی تو چلی نہیں ، تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے .
 
یہ تھا میرے ملک کا ٢٠١٦ . 

اگر٢٠١٧ میں کچھ مختلف ہوا  ، بہتر ہوا  تو پِھر ٢٠١٨ کی مبارکباد ضرور ادھار رہی. 

Dec 28, 2016

دل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئی

سردیوں کی شام ویسے بھی مہرکو بےحد پسند تھی. ایسی ہی سردی کی کوئی شام تھی جب "اس" کی  ماں نے مہر کے نام پر سرد مہری دکھائی تھی اور وہ چنگاریوں کو راکھ میں تبدیل کر کے وہاں سے اٹھ گیا تھا.

خشک، سرد ہوا جب مہر کے چہرے کو چھوتیں تو اسکو یقین ہوجاتا کہ وجود میں تو گرمی باقی ہے لیکن احساس ٹھنڈے پڑ چکے ہیں. سرمئی شام آہستہ آہستہ تمام روشنی کو اپنی لپیٹ میں لئے رات کی طرف بڑھ رہی تھی اورمہر یادوں کے غار میں جہاں سے واپسی کا راستہ وہ ہمیشہ بھول جاتی تھی. 

برابر میں بیٹھی سادیہ نے پھیکی سی مسکراہٹ سے اسکی طرف دیکھا اورسمجھ گئی مہرکو راستہ دکھانے کا وقت آگیا ہے. سادیہ نے آواز اونچی کر کے اس کا دھیان اپنی طرف کیا اور کہا،

 "میرا خیال ہے میں اس کو بھول چکی ہوں."

مہر نے طنزیہ قہقہہ لگایا اور کہا، "بھول چکی ہوتی تو یوں یاد نہ ہوتا"

"کیا مطلب؟"

"محبّت ایک دائرہ ہے. تم دائرے سے کبھی نہیں نکل سکتی بس دوسرے سرے پر آکر اس مغالطے میں مت رہو کہ بھول گئی ہو."

"ہو سکتا ہو میں نے دائرہ توڑ  دیا ہو؟"

"محبّت نامکمّل ہو تو پہلے درد دیتی ہے، پھر صبر بن کر ذات بن جاتی ہے. وہ دائرہ تمہاری ذات ہے جس کے ساتھ رہنا سیکھ لیتے ہیں."

"پھر تم صبرکیوں نہیں کرلیتی مہر؟"

"میرا درد جو ختم نہیں ہوتا."







بانوسازی
دسمبر ٢٨، ٢٠١٦
رات ١:١٥

Oct 7, 2016

جنگ سے نفرت، جہالت اور تباہی پھیلتی ہے

Originally published here HumSub

جب میں  پیدا ہوئی تب ہی ابّا جی نے سوچ لیا تھا یہ والی بچی تو بس ڈاکٹر بن گی اور تقریباً تیرا سال اس  امید اور خواب  میں گزارے کے یہ پیاری بچی انکی بات مانے گی ،لیکن  خدا نے اور زندگی نے مجھے ایک بار نہیں بلکہ  دو بار بغاوت کا موقع دیا . سکول میں تو جان جاتی تھےکے مینڈک کو ہاتھ لگانا ہوگا لیکن جب کالج میں آئی  تو بورڈ کے فارم میں بائیولوجی بھرنے سے پہلے ہسپتال کا کوئی چکّر لگ گیا.

ہلکا سا بخار چڑھا تھا توگھر کے قریبی  ہسپتال کی OPD میں بیٹھی تھی جب میں نے ایک ماں کو رکشے سے اترتے دیکھا اور اسکی گود میں بمشکل ڈھائی یا تین سال کا بچا ہوگا جس کا سر پھٹ گیا تھا. بچے کو تو ہسپتال کا عملہ تیزی سے اندر لے گیا لیکن اسکی ماں کی حالت مجھے آج بھی یاد ہے. تب ہی مجھے احساس ہوگیا کے اگر میں ڈاکٹر بنی تو سواۓ رونے کے کسی اور چیز کی اسپیشلسٹ نہیں بن سکتی.

اس ماں کا بیٹا تو ٹانکے لگوا کر پھر سے اپنی ماں کی گود میں چڑھ گیا ہوگا. اگلے کئی دنوں تک ماں باپ سے نخرے بھی اٹھوائیں ہونگے. کبھی ان بچوں کا سوچیں جو خود یا ان کے والدین  کا سوچیں جو  بمباری، شیلنگ، اور فائرنگ کا شکار ہوتے ہیں. 

انسان اپنی کی غلطی کی بھی چوٹ کھائے تو غصّہ اور تکلیف ہوتی ہے، پھر یہ تو مسلط جنگیں ہیں جو آنے والی نسلوں کو یتیم، جوان کو بیوہ، اور بوڑھوں کا سہارا چھین لیتی ہیں.

جب کبھی میڈیا پر شام میں ہونے والی جنگ اور اس کے نتیجے میں زخمی اور ہلاک بچوں کی خبر یا ویڈیو چلتی ہے تو میرا فیس بک، اور ٹویٹر ہمدردیوں سے بھر جاتا ہے. الان کردی، عمر دقنیش، اور کئی شامی بچوں پر ہماری قوم کا کلیجہ کٹ جاتا ہے، آنسوؤں کے سمندر بہ جاتے ہیں، اپنی اولاد کی سلامتی کے لئے دعائیں ہوتی ہیں.
 یہ تمام جذبات اس وقت نیند کی گولی کھا لیتے ہیں جب  کشمیر کے LOC پر حملہ یا فائرنگ کا واقعہ پیش آتا ہے قوم کا بس نہیں چلتا اپنے کمپیوٹر کی سکرین سے ہی ایک عدد  نیوکلیئر بم ہندوستان کو دیں ماریں اور کچھ ایسے ہی  جذبات پڑوسی ملک بھی ہمیں دکھاتا ہے.

"جنگ" 
یہ تین حروف آپ کی تین نسلیں تباہ کرنے کی حیثیت رکھتا ہے. آپ کا گزرا ہوا کل، آنے والا کل، اور ان کا رکھوالا آج....... سب جنگ کی نظر!

سوشل میڈیا اور میڈیا  کا المیہ ایک یہ بھی ہے کہ، اس پر موجود نسل نے جنگ کا ج بھی نہیں دیکھا اور جنہوں نے جھلک دیکھی یا سنی ہے وہ اس کے نقصانات سے مستفید نہ ہو سکے. 

بدقسمتی سے میرے ماں باپ نے ٧١' کی جنگ دیکھی بھی اور سہی بھی، بدقسمتی اس لئے کیوںکہ ان کے پاس شہادت، قومیت سے جڑی کوئی کہانیاں نہیں ہیں، ہاں سبق ضرور ہے. شاید یہی وجہ ہے کہ میری تربیت میں انسانیت کو ہر چیز پر فوقیت ہے. 

اور پھر کیوں نہ ہو؟
١٤٠٠ سال پہلے امام وقت نے بھی کربلا میں قدم جنگ کی نیت سے نہیں رکھا تھا بلکہ آخری وقت تک صلح اور گفتگو کی روش اپنائی تھی. تاریخ گواہ ہے جنگوں سے کسی عام  آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا سواۓ اس کے کہ اسکو لاشیں اٹھانی پڑیں، گھر بار چھوڑنا پڑا، فاقہ کاٹنا پڑا.

لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف وہ لوگ بستے ہیں جنہوں نے آپس میں شادیاں کر رکھی ہیں، یادیں، نسلیں جوڑ رکھی ہیں. کبھی ان سے پوچھیں کیا وہ جنگ کے خواہشمند ہونگے؟ اس ماں سے پوچھیں جس کا بیٹا فوج کی وردی پر سرحد پر محافظ بنا کھڑا ہے. وہ روز اسکی لمبی عمر کی دعا کرتی  ہوگی، اس کا صحرا سجانے سے لے کر اس کے بچوں کو گود میں کھلانے کا سوچتی ہوگی.

میں تو یہ بھی نہیں مانتی کہ کوئی فوجی جو انسان پہلے ہے، شوق شہادت رکھتا ہوگا. زندگی کے ارمان اس کو بھی پیارے ہونگے، گھر پر کئی انتظار ہونگے.

خدارہ! اس دنیا میں اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ امن و محبت کی ہے، آپ اس کو بلکل ہی نا  پید نہ کردیں. نفرت کا بیج زمین بنجر کرتا ہے اور میں آپ اسی زمین کا باسی ہیں. 

قوم پرستی اچھی بات ہے لیکن انسانیت کی قیمت پر اسکا پرچار کرنا یقینن عقلمندی نہیں ہے. 






Jul 27, 2016

کشمیر کو رونے والو، اپنا گریباں جھانک کر دیکھو

Originally published here HumSub

آزادی بڑی شہہ ہے!
 بچہ پیدا ہونے کو ہو تو ماں کے رحم سے آزادی، وجود میں آے تو گود سے آزادی، چلنا سیکھے تو ہاتھ چھڑا کر بھاگنے کی آزادی اور یوں اسے قدم قدم پر چھوٹی چھوٹی آزادیوں کی راہ دکھتی ہے. یہی وہ راہ ہوتی ہے جو اسکے ذہن میں بغاوت کے بھی بیج بوتی ہے لیکن ان بیجوں تب تک وہ نہیں سینچتا جب تک اسکی آزادی کو روندا نہ جاۓ.

یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب صحیح اور غلط کے فیصلے کنارے لگا دیے جاتے ہیں.

٨ جولائی ٢٠١٦ کو کشمیر کی حزب المجاہدین کے ٢٢ سالہ کمانڈر برہان ونی بھارتی فوج سے تصادم میں ہلاک کردئے گئے. 



کیا آپ کو حزب المجاہدین کے تعارف کی ضرورت ہے؟
نہیں!

کیا آپ کو برہان ونی کے متعلق جاننے کی ضرورت ہے؟
نہیں!

پھر بھی ایک سرسری سا بنیادی، بلکہ یوں کہئے یاد دہانی کے لئے کچھ حقائق بیان کرتی ہوں.

حزب المجاہدین کشمیر کے حقوق کے لئے ١٩٨٩ میں وجود میں آئی اور موجودہ وقت میں ہندوستان، امریکا، اور یورپین یونین کی جانب سے دہشتگرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے. یہ تنظیم بنیادی طور پر پاکستان کی حامی ہے اور پاکستان بھی اس کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے. برہان ونی ٢٠١١ میں، نوجوانوں اور سوشل میڈیا میں مشہوری کے بعد باقائدہ طور پر حزب میں شامل ہوئے تھے. اس شمولیت سے پہلے کا ایک سال وہ تربیت میں گزار چکے تھے.

برہان ونی کے والد کا کہنا ہے کہ، برہان کے بڑے بھائی کو ٢٠١٥ میں بھارتی فوج نے تشدد سے ماردیا تھا کیوںکہ وہ برہان ونی کے بھائی تھے. دوسری طرف بھرتی فوج کا بیان ہے کہ، ان کے بھائی خالد بھی مجاہد تھے. کون سچا کون جھوٹا یہ میں اور آپ آزادی کی جنگ میں کبھی نہیں جان سکتے.......کیوںکہ شیطانوں کی نظر میں شیطان بھی ایک فرشتہ ہے.

نابالغ عمر، کچا ذہن، اور کشمیری جدوجہد. کیا کوئی پاکستانی برہان ونی کو قصوروارٹھہرائے گا؟ 

یقینن نہیں!

آخر پھر یہی پاکستان تب کیوں نہیں چیختا چلاتا، اورخون کے آنسو نہیں روتا جب عقیدے کی بنیاد پر سینکڑوں ہزارہ شیعہ ماردیے جاتے ہیں؟ تب کیوں نہیں دن منایا جاتا جب بلوچستان میں بےحساب مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں؟ اس وقت انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہوتی جب کراچی میں زبان اور سیاسی بنیاد پرلوگوں کا ماوراۓ عدالت قتل کیا جاتا ہے؟

کیا میرے ملک کے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے؟

کیا ہمیں اپنے حقوق کی جنگ کے لئے کشمیر جانا پڑیگا تب پاکستانی قوم کہےگی مت مارو عقیدے پر، مت پھینکو لاشیں جوانوں کی، مت گھسیٹو ان کی عورتوں کو سڑکوں پر.....کون جواب دیگا؟

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے مطابق ملک میں انسانی حقوق کی بتدریج پامالی ہورہی ہے لیکن یہ بات صرف انکو سنائی دیتی ہے جو اسکا شکار ہیں. 

سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف کے مطابق کشمیر میں لڑنے والے آزادی کے مجاہدین ہیں لیکن بلوچستان میں لڑنے والے باغی اور دہشتگرد. یہ ہے میرے ملک کا توازن؟ یہ ہے میرے ملک کا انصاف؟

سنہ ١٩٩٢ میں کراچی میں ہونے والا آپریشن کلین اپ جوسرکاری طور پر تقریباً ٢ سال تک جاری رہا، جس میں حکومتی بیان کے مطابق کوئی تیرہ-چودہ سو لوگ ہلاک ہوئے تھے لیکن حکومت نے ان لوگوں کی تعداد نہیں بتائی جو آج بھی لاپتہ ہیں. سپریم کورٹ پاکستان میں آج بھی متحدہ قومی موومنٹ کے لاپتہ افراد کے کیسز دائر ہیں اور خاندانوں کو امید ہے کہ کبھی تو کوئی تو پلٹے گا. 

انیس سال گزر گئے لیکن ان کیسز کی فائل کورٹ میں ٹھہر گئی ہیں.

کراچی شہر میں ایک بارپھر پچھلے ٣ سال سے آپریشن جاری ہے جس میں سندھ رینجرز کے اختیارات میں تو مسلسل توسیح ہورہی ہے لیکن ان کے عمل پر کوئی سوال نہیں ہورہا ہے. ٢٠١٤ میں جب ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے سندھ رینجرز سے ملاقات اور میٹنگز کی کوشش کی تو مایوسی کا سامنا ہوا. ٢٠١٥ کے آخر میں بھی کمیشن نے  ماوراۓ عدالت قتل پر سوالات اٹھاے جن پر کوئی خاطر خواہ جواب نہ مل سکا.

مئی ٢٠١٦ میں متحدہ کے کارکن آفتاب احمد کی رینجرز کی حراست میں تشدد سے ہلاکت ہوگئی. جسم پر لگے تشدد کے نشان ایسے تھے شیطان نے بھی شرم سے سر جھکا لیا تھا. آرمی چیف نے تحقیقات کا حکم دیا اور آفتاب کے ساتھ سوالات بھی دفن ہوگئے.

کیا پاکستان کے مظلوم طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ امید رکھیں کے جتنی آواز اور للکار ہمارے وزیراعظم اور  فوج کے  سربراہ کی کشمیر میں ہونے والے مظالم پر اٹھی تھے، اتنی ہی ملک کہ اندر مچے انتشار اور ظلم پر اٹھے گی؟

کیا ہماری قوم کو جتنا غم کشمیری ماؤں کا ہے، اتنا ہی پاکستانی ماؤں کا ہوگا؟

شاید نہیں......کیوںکہ مرنے والے کشمیری نہیں تھے!






Jun 23, 2016

قسمت میں مری … چین سے جینا لکھ دے

Originally published here HumSub

مشہور زمانہ قوال امجد صابری کو آج شہر کراچی میں چند نامعلوم افراد نے موت کے گھاٹ اتار دیا اور یوں ان کی قسمت میں جینا تو نہیں البتہ مرنا لکھا گیا۔


شروع کے چند گھنٹے تو قاتل ہمیشہ ہی نامعلوم رہتے ہیں کیوںکہ کے کراچی کی روایت ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کیوں اور کس نے مارا ہے۔ امجد صابری کی بھی موت کے کچھ دیر بعد ہی طالبان کے کمانڈر قاری سیف الله محسود نے ذمےداری قبول کرلی۔
کیا اس کے بعد بھی آپ کو کوئی وجہ چاہیے کہ دن دیہاڑے شہر قائد میں ایک قوال کو کیوں ماردیا؟ نہ سیاسی وابستگی نہ کسی فرقے سے تعلق۔۔۔۔ لیکن ایک تعلق تھا اور وہ تھا اہل بیت  سے محبت۔۔۔۔
سنہ 2014 میں امجد صابری نے پاکستان کے ایک پرائیویٹ چینل پر مارننگ شو میں ایک قوالی گائی تھی اور مذہب کے ٹھیکداروں کو یہ اتنا ناگوار گزرا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس دائر ہوگیا اور امجد صابری اور قوالی لکھنے والے دونوں افراد پر توہین رسالت کا نوٹس جاری ہوا۔
سندھ اور پنجاب وہ صوبے ہیں جہاں اسلام کی پہنچ صوفیوں کے ذریعے ہوئی اور آج بھی سال میں کئی عرس ہوتے ہین اور دھمال پڑتی ہے۔ یہ صرف عقیدت ہے، خدا کو چاہنے کی اپنی لگن اور روایت ہے۔ اس چاہت اور روایت کو اب جنونیت کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔
مزاروں پر، امام بارگاہوں پر، مسجدوں پر دھماکے ہوتے ہیں اور دہشت گرد یہ جوز دیتے ہیں کہ مرنے والے کافر تھے۔ ان دہشت گردوں کے تو خون منہ کو لگا ہے لیکن ایک اور بھی دہشت گرد ہیں جو میرے آپ کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور ان کے ہاتھوں پربھی کئی بےگناہوں کا، عظیم ہستیوں کا خون لگا ہے۔
انہیں کہتے ہیں اپولوجسٹ یا حمایتی !
اگر مگر، ادھر ادھر، فلانا ڈھماکا تمام طرح کی دلیل لے کر میدان میں اترتے ہیں اور جہالت کے ہجوم میں خود کو نیوٹرل ثابت کر کے دہشت گردی کی حمایت کر دیں گے۔ اگر آپ کو بس سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر مار دیں، احمدی ہونے پر جلا دیں، سیاسی وابستگی پر ماروائے عدالت قتل کردیں تو بھی یہ خاموشی اختیار کرلیں گے اور کہیں گے کہ ہم سیاسی اور فرقہ وارانہ رنگ سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ انسان کی تخلیقی سوچ میں وابستگی لازم ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ظلم اور مظلوم میں غیر جانبداری کا راستہ چن لے۔
حمایتی یا نیوٹرل لوگ ایسی دلیلیں اور تاویلیں دیں گے جیسے دہشت گرد اپنی بندوقیں صاف کر رہے تھے اور مقتول سامنے آ گئے۔
یہی وجہ ہے کہ ملک میں زبان رکھنے والے گونگے ہوگئے ہیں اور طالبانی سوچ نے اپنے دہانے کھول لئے ہیں۔
امجد صابری قوال جیسی ہی ہستیاں تھیں جنہوں نے نہ صرف ملک بلکہ اسلام کا بھی نرم گوشہ دنیا کو دکھایا اور بتلایا کہ مذہب میں عقیدت ہی میں عظمت ہے۔
بدلے میں کیا ملا؟
 پینتالیس سال کی عمر میں 5 گولیاں !
پاکستان جیسے ملک میں حکومت سے لے کر عام آدمی تک یہ اخلاقی ذمےداری ہے کہ وہ ظلم پر بولے ورنہ یہ وہ آگ ہے جس کے شعلے آپ کے دروازے ہی پر دہک رہے ہیں اور مستقبل میں آپ کا دروازہ جلنے کا امکان بھی موجود ہے۔

Jun 18, 2016

رمضان کا شیطان

Originally published here HumSub

عام خیال میں رمضان کا تعلق صرف پیٹ کی بھوک اور حلق کی پیاس سے ہے. یہی وجہ ہے کے جب رمضان آتا ہے تو اشیا کی قیمتیں اور خریداروں کا رونا، دونوں ہی آسمانوں کو چھو رہا ہوتا ہے. غریب اپنا پسینہ بیچ کر رحمتیں خریدتا ہے تو امیر اصراف کر کے دین سے انصاف کرتا ہے.

کیا پکوڑے، چاٹ، روح افزا کے آگے بھی روزہ ہے؟

اصل میں روزہ ان سب سے بھی پہلے ہے. بچپن میں دینیات کی کتاب میں پڑھا تھا کہ روزہ انسان کے جسم اور نفس دونوں کا ہوتا ہے لیکن آج کل تو نفس ایسے غائب ہے جیسےڈائناسورکی نسل کے ساتھ ہی اسکی بھی تدفین ہوگئی تھی.

دنیا بھر کی مشہور ہستیوں کی جانب سے رمضان کے مقدّس مہینے پرمسلمانوں کے نام پیغامات آتے ہیں جن میں اسلام کی بنیادی باتوں کا ذکر ہوتا ہے جیسے صبر، تقویٰ، فلاحی خدمات وغیرہ وغیرہ.

پاکستان میں شروعات ہوتی ہیں قتل سے، مار دھاڑ سے، اور دھمکیوں سے.

 ٧ جون کو پہلا روزہ انتہائی جوش و خروش سے رکھا گیا اور ٹھیک اس کے اگلے دن لاہور میں دن دہاڑے ایک ماں نے اپنی سترہ سالہ بیٹی کوپیٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا. اس انسانیت سوز واقعے کی وجہ نئی نہیں ہے. ہمیشہ کی طرح پسند کی شادی اور غیرت کے نام پر قتل.

قاتل بھی وہ ماں جس کو پشیمانی بھی نہیں اور ندامت نام کی چڑیا وہ جانتی نہیں.

ماں کو اور بھائی کو پولیس نے حراست میں لے لیا، چند روز بعد مولویوں نے فتویٰ بھی دے دیا کے غیرت کے نام پر قتل غیر اسلامی ہے. حالانکہ کوئی ان مسلمانوں سے پوچھے کہ تمھیں انسانیت کے اصولوں کے لئے بھی فتویٰ چاہیے؟ ہم اپنے ساتھ ساتھ مذہب کو بھی نچلے درجے پر کھینچ لاۓ ہیں اس دعوے کے ساتھ کہ اسلام ضابطہ حیات ہے. یہ کونسا ضابطہ ہے کہ جس میں حیات ہی نہیں رہتی؟

صبر و استقلال کا یہ عالم ہے کہ اندرون سندھ میں ایک انتہائی ضعیف انسان شام چھ کے قریب خیرات میں ملی بریانی کھا رہا تھا تو اسکو پولیس والوں نے لہولہان کردیا. قصور؟ افطار میں گھنٹہ باقی تھا اور وہ بوڑھا شخص ہندو تھا. 
کوئی پوچھے ان دو نیک مسلمان پولیس والوں سےکہ کس حدیث کی روشنی میں انہوں نے ایک غریب لاچار بوڑھے شخص کو رمضان کی پاداش میں بری طرح سے مارا پیٹا تھا؟ اگر آپ میں بھوک کی برداشت نہیں ہے تو روزہ رکھ کر خدا اور اسکی  خدائی پر احسان نہ کریں.

مغرب میں جو لوگ روزہ رکھتے ہیں انہیں تو پھر چاہئے ہر دوسرے  انگریز یا ہندو کی دھلائی کریں اور کہہ دیں میرا روزہ ہے.

آخر ہم رویوں کی انتہا پر کیوں پہنچ جاتے ہیں؟ ہمارے اندر سے رواداری، انکساری، اور سب سے بڑھ کر اختلافات کو قبول کرنے کی صلاحیت ختم ہورہی ہے.  

آج جب ہم نے ١٢ روزے مکمّل کرلئے ہونگے تب گجرانوالہ میں ایک سات ماہ کی حاملہ عورت کو اس کے  گھروالوں نے قتل کردیا ہے کیوںکہ اس نے آج سے ٣ سال پہلے پسند کی شادی کی تھی. اس مقتولہ کا پہلا بچہ، اسکا شوہر کس کے پاس فریاد لے کر جاۓ گا کہ اس مقدّس مہینے کا بھی مان نہ رکھا اور دو جانوں کو صفہ ہستی سے مٹا دیا.

بھول گئے ہیں پاکستان کے مسلمان کہ خاتم النبین نے بھی بی بی خدیجہ سے پسند کی شادی تھی. 

ویسے تو مجھے اپنی قوم پر یقین ہے کہ وہ رمضان ک چاند پر لگا گرہن ہے لیکن پھر بھی ایک امید جاگتی ہے کہ شاید ہم کبھی سمجھ پائیں کہ روزہ نفس کا ہے آپ کے معدے کا نہیں. جنگ خود سے ہے کسی شیطان سے نہیں. 

یہ قصّے کہانیاں ہیں کہ شیطان ٣٠ دن قید ہوجاتا ہے. یہ تو خدا کو اپنے بندوں سے امید تھی کہ وہ اپنے اندر کا شیطان قید کر لینگے پر ہائے رے افسوس!


May 28, 2016

قیامت-- Qayam'at



اک روز میری حیات میں ایسا ہے
جب ایمان بھی تیرے حوالے کیا 
سرکار کے سب کچھ نام کیا

میں ان راستوں سے اب گزروں تو  
 دھوپ کی چمک چلّاتی  ہے 
تیرا ہمسفر کہاں ہے؟

درخت جھک کر ٹٹولتے ہیں، 
میرا سایا نہیں ملتا.....
ہوا ٹھہر کر پوچھتی ہے،
آج تیرا سائبان نہیں دیکھتا؟

اس اک روز کے جب 
تیرے سینے پر سانس جا ٹھہری تھی 
گردن کے خم پر زندگی کی حرارت تھی
تب میری آنکھوں پر
تیرے ہونٹوں نے مہر لگا دی  تھی 

اس روز کا سورج ٹھنڈا تھا
پھر بھی قیامت جاری تھی!


بانوسازی
٢٣ جنوری، ٢٠١٠

May 21, 2016

جلن


تم میں ایسا کچھ بھی نہیں جو اُس کو عام ذندگی میں پسند ہو. پھر بھی تم اُس کی سب سے خاص پسند ہو.

دِل و جان سے پسند ہو!

تمہاری طبیعت اُس کے مُخالِف ہے پھر بھی وہ صرف تمہاری سِمت ہی دوڑتا ہے.
سارے رشتے پار لگا کر تمہارے لئے رُکتا ہے.

مجھ میں ویسا کچھ بھی نہیں جو تُم میں ہے. نہ وہ کھلکھلاہٹ، نہ وہ کَھنَک، نہ مَچلتی دِل لگی، نہ وہ شوخ بے باکی، نہ وہ چمکتی نظر، نہ ہی زمانے کی سمجھ.

پھر بھی اُس کی سانس لمحے کو رک سی جاتی ہے. میری گَردن کے خَم پر مُڑ جاتی ہے!





بانوسازی
مئی ۲۰، ۲۰۱۶
رات ۱۱: ۱۰

Apr 12, 2016

صفائی -- Safa'yi


اس نے چونک کر آنکھیں کھولی اور اپنے سرہانے پر رکھی ہوئی گھڑی دیکھی تو یہی کوئی رات کہ ساڑھے تین بج رہے تھے. یوں لگا جیسے نیند کو اچانک سے کوئی کام یاد آگیا ہو اوروہ اسے اکیلا چھوڑکر چلی گئی ہو.
ایسا نہیں کہ یہ پہلی بار ہوا تھا لیکن اب اکثر ہونے لگا تھا وہ یونہی آنکھیں کھول کر ادھر ادھر تکتی جیسے دن چڑھا ہوا ہو اور اسے کوئی کام نہ مل رہا ہو کرنے کو.

کھڑکی سے جو روشنی چھن چھن کر اندر آرہی تھے، اس میں غور سے آس پاس دیکھا تو اس کو اپنی بکھری ہوئی سوچیں نظر آیئں. 

خود پر پڑی چادر کو سرکا کر پرے کرتی ہے اور دھیان سے پیر نیچے رکھتی ہے، کیا معلوم کوئی سوچ نیچے آ کر دب نہ جائے. اس نے اب تک  کتنی ہی سوچوں کو سمجھنے سے پہلے ہی دبا ڈالا تھا بنا جانے ہوئے کہ یہ دبی ہوئی سوچیں کرچیاں بن جاتی ہیں اور انسان کہ دماغ کی شریانوں کو پھاڑ دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں.


وہ دل ہی دل میں سوچتی ہے کہ عجیب بات ہے یہ جو ڈھیر ساری سوچیں بکھری پڑی ہیں اسکو دن میں کیوں نہیں نظر آتیں؟ وہ تو ہر شہ قرینے سے سجا کر رکھنے کی عادی ہے. جو شہ جہاں رکھ دی جاتی ہے وہیں سے ملتی ہے اور یہ سوچیں دیکھو............عجیب الجھی الجھی پڑی ہیں ہر کونے میں.

اسکے گھر میں تو کبھی مٹی کے جالے نہیں لگے تو یہ سوچیں کیسے جگہ جگہ پھیلی ہوئی ہیں؟


سلجھے ہوئے مکان میں اتنی الجھنیں؟
اس نے سوچا چلو جب تک نیند اپنے کام نپٹا کر آتی ہے میں بھی تھوڑی صفائی کرلوں.


وہ برآمدے میں کھلنے والی کھڑکی کی طرف بڑھی، وہاں کونے میں ایک سوچ سمٹی ہوئی تھی جیسے کسی کا خوف ہو. یہ اس کے بچپن سے وابستہ تھی  جب اسکو زیادہ بولنے کی اجازت نہیں تھی کیوںکہ "لڑکیاں زیادہ نہیں بولتی". 
یہ وہ سوچ تھی جس نے ڈر کے مارے خود کو گونگا کرلیا تھا.
ذرا آگے بڑھی تو کتابوں پر اسکی جوانی کی سوچوں کا اجتماع تھا جنہوں نے اسے بغاوت کا مطلب سمجھایا تھا. کئی بار اس نے جب ان سوچوں کو الفاظ دینے کی کوشش کی تو یہی  سننے کو ملا، "جب بولنا الٹا ہی بولنا". جس کو زمانے نے الٹا جانا وہ تو بس منطق کی تلاش تھی.


 اسی تلاش میں اس نے کتنی ہی سوچوں کو اپنے ذھن کے میدان میں کھلا چھوڑ دیا تھا.

کسی  تھکے ہارے مزدور کی طرح اس کے شانے اور نظریں نیچے جھک گئی اور وہ کمرے میں رکھے ہوئے صوفہ پر جا کر بیٹھ گئی. اب جو چاروں طرف نظریں دوڑآیں  تو ہر کونے کھدرے میں سوچوں کا انبار نظر آیا. 


اسکی پلکیں بھاری ہونے لگیں تو وہیں دراز ہوگئی اور خود کو یہ کہہ کر تسّلی دے دی، یہ "صفائی" پھر کبھی سہی! 




بانو سازی 
اپریل ١١، ٢٠١٦
رات ١١:٢٩