Jul 27, 2016

کشمیر کو رونے والو، اپنا گریباں جھانک کر دیکھو

Originally published here HumSub

آزادی بڑی شہہ ہے!
 بچہ پیدا ہونے کو ہو تو ماں کے رحم سے آزادی، وجود میں آے تو گود سے آزادی، چلنا سیکھے تو ہاتھ چھڑا کر بھاگنے کی آزادی اور یوں اسے قدم قدم پر چھوٹی چھوٹی آزادیوں کی راہ دکھتی ہے. یہی وہ راہ ہوتی ہے جو اسکے ذہن میں بغاوت کے بھی بیج بوتی ہے لیکن ان بیجوں تب تک وہ نہیں سینچتا جب تک اسکی آزادی کو روندا نہ جاۓ.

یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب صحیح اور غلط کے فیصلے کنارے لگا دیے جاتے ہیں.

٨ جولائی ٢٠١٦ کو کشمیر کی حزب المجاہدین کے ٢٢ سالہ کمانڈر برہان ونی بھارتی فوج سے تصادم میں ہلاک کردئے گئے. 



کیا آپ کو حزب المجاہدین کے تعارف کی ضرورت ہے؟
نہیں!

کیا آپ کو برہان ونی کے متعلق جاننے کی ضرورت ہے؟
نہیں!

پھر بھی ایک سرسری سا بنیادی، بلکہ یوں کہئے یاد دہانی کے لئے کچھ حقائق بیان کرتی ہوں.

حزب المجاہدین کشمیر کے حقوق کے لئے ١٩٨٩ میں وجود میں آئی اور موجودہ وقت میں ہندوستان، امریکا، اور یورپین یونین کی جانب سے دہشتگرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے. یہ تنظیم بنیادی طور پر پاکستان کی حامی ہے اور پاکستان بھی اس کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے. برہان ونی ٢٠١١ میں، نوجوانوں اور سوشل میڈیا میں مشہوری کے بعد باقائدہ طور پر حزب میں شامل ہوئے تھے. اس شمولیت سے پہلے کا ایک سال وہ تربیت میں گزار چکے تھے.

برہان ونی کے والد کا کہنا ہے کہ، برہان کے بڑے بھائی کو ٢٠١٥ میں بھارتی فوج نے تشدد سے ماردیا تھا کیوںکہ وہ برہان ونی کے بھائی تھے. دوسری طرف بھرتی فوج کا بیان ہے کہ، ان کے بھائی خالد بھی مجاہد تھے. کون سچا کون جھوٹا یہ میں اور آپ آزادی کی جنگ میں کبھی نہیں جان سکتے.......کیوںکہ شیطانوں کی نظر میں شیطان بھی ایک فرشتہ ہے.

نابالغ عمر، کچا ذہن، اور کشمیری جدوجہد. کیا کوئی پاکستانی برہان ونی کو قصوروارٹھہرائے گا؟ 

یقینن نہیں!

آخر پھر یہی پاکستان تب کیوں نہیں چیختا چلاتا، اورخون کے آنسو نہیں روتا جب عقیدے کی بنیاد پر سینکڑوں ہزارہ شیعہ ماردیے جاتے ہیں؟ تب کیوں نہیں دن منایا جاتا جب بلوچستان میں بےحساب مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں؟ اس وقت انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہوتی جب کراچی میں زبان اور سیاسی بنیاد پرلوگوں کا ماوراۓ عدالت قتل کیا جاتا ہے؟

کیا میرے ملک کے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے؟

کیا ہمیں اپنے حقوق کی جنگ کے لئے کشمیر جانا پڑیگا تب پاکستانی قوم کہےگی مت مارو عقیدے پر، مت پھینکو لاشیں جوانوں کی، مت گھسیٹو ان کی عورتوں کو سڑکوں پر.....کون جواب دیگا؟

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے مطابق ملک میں انسانی حقوق کی بتدریج پامالی ہورہی ہے لیکن یہ بات صرف انکو سنائی دیتی ہے جو اسکا شکار ہیں. 

سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف کے مطابق کشمیر میں لڑنے والے آزادی کے مجاہدین ہیں لیکن بلوچستان میں لڑنے والے باغی اور دہشتگرد. یہ ہے میرے ملک کا توازن؟ یہ ہے میرے ملک کا انصاف؟

سنہ ١٩٩٢ میں کراچی میں ہونے والا آپریشن کلین اپ جوسرکاری طور پر تقریباً ٢ سال تک جاری رہا، جس میں حکومتی بیان کے مطابق کوئی تیرہ-چودہ سو لوگ ہلاک ہوئے تھے لیکن حکومت نے ان لوگوں کی تعداد نہیں بتائی جو آج بھی لاپتہ ہیں. سپریم کورٹ پاکستان میں آج بھی متحدہ قومی موومنٹ کے لاپتہ افراد کے کیسز دائر ہیں اور خاندانوں کو امید ہے کہ کبھی تو کوئی تو پلٹے گا. 

انیس سال گزر گئے لیکن ان کیسز کی فائل کورٹ میں ٹھہر گئی ہیں.

کراچی شہر میں ایک بارپھر پچھلے ٣ سال سے آپریشن جاری ہے جس میں سندھ رینجرز کے اختیارات میں تو مسلسل توسیح ہورہی ہے لیکن ان کے عمل پر کوئی سوال نہیں ہورہا ہے. ٢٠١٤ میں جب ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے سندھ رینجرز سے ملاقات اور میٹنگز کی کوشش کی تو مایوسی کا سامنا ہوا. ٢٠١٥ کے آخر میں بھی کمیشن نے  ماوراۓ عدالت قتل پر سوالات اٹھاے جن پر کوئی خاطر خواہ جواب نہ مل سکا.

مئی ٢٠١٦ میں متحدہ کے کارکن آفتاب احمد کی رینجرز کی حراست میں تشدد سے ہلاکت ہوگئی. جسم پر لگے تشدد کے نشان ایسے تھے شیطان نے بھی شرم سے سر جھکا لیا تھا. آرمی چیف نے تحقیقات کا حکم دیا اور آفتاب کے ساتھ سوالات بھی دفن ہوگئے.

کیا پاکستان کے مظلوم طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ امید رکھیں کے جتنی آواز اور للکار ہمارے وزیراعظم اور  فوج کے  سربراہ کی کشمیر میں ہونے والے مظالم پر اٹھی تھے، اتنی ہی ملک کہ اندر مچے انتشار اور ظلم پر اٹھے گی؟

کیا ہماری قوم کو جتنا غم کشمیری ماؤں کا ہے، اتنا ہی پاکستانی ماؤں کا ہوگا؟

شاید نہیں......کیوںکہ مرنے والے کشمیری نہیں تھے!






0 comments: