May 28, 2016

قیامت-- Qayam'at



اک روز میری حیات میں ایسا ہے
جب ایمان بھی تیرے حوالے کیا 
سرکار کے سب کچھ نام کیا

میں ان راستوں سے اب گزروں تو  
 دھوپ کی چمک چلّاتی  ہے 
تیرا ہمسفر کہاں ہے؟

درخت جھک کر ٹٹولتے ہیں، 
میرا سایا نہیں ملتا.....
ہوا ٹھہر کر پوچھتی ہے،
آج تیرا سائبان نہیں دیکھتا؟

اس اک روز کے جب 
تیرے سینے پر سانس جا ٹھہری تھی 
گردن کے خم پر زندگی کی حرارت تھی
تب میری آنکھوں پر
تیرے ہونٹوں نے مہر لگا دی  تھی 

اس روز کا سورج ٹھنڈا تھا
پھر بھی قیامت جاری تھی!


بانوسازی
٢٣ جنوری، ٢٠١٠

1 comments:

Pen Friend said...

Azaad Nazam ,,, Pukhta khayal ,,, mager mutalya ki kami ... !!!