Jun 18, 2016

رمضان کا شیطان

Originally published here HumSub

عام خیال میں رمضان کا تعلق صرف پیٹ کی بھوک اور حلق کی پیاس سے ہے. یہی وجہ ہے کے جب رمضان آتا ہے تو اشیا کی قیمتیں اور خریداروں کا رونا، دونوں ہی آسمانوں کو چھو رہا ہوتا ہے. غریب اپنا پسینہ بیچ کر رحمتیں خریدتا ہے تو امیر اصراف کر کے دین سے انصاف کرتا ہے.

کیا پکوڑے، چاٹ، روح افزا کے آگے بھی روزہ ہے؟

اصل میں روزہ ان سب سے بھی پہلے ہے. بچپن میں دینیات کی کتاب میں پڑھا تھا کہ روزہ انسان کے جسم اور نفس دونوں کا ہوتا ہے لیکن آج کل تو نفس ایسے غائب ہے جیسےڈائناسورکی نسل کے ساتھ ہی اسکی بھی تدفین ہوگئی تھی.

دنیا بھر کی مشہور ہستیوں کی جانب سے رمضان کے مقدّس مہینے پرمسلمانوں کے نام پیغامات آتے ہیں جن میں اسلام کی بنیادی باتوں کا ذکر ہوتا ہے جیسے صبر، تقویٰ، فلاحی خدمات وغیرہ وغیرہ.

پاکستان میں شروعات ہوتی ہیں قتل سے، مار دھاڑ سے، اور دھمکیوں سے.

 ٧ جون کو پہلا روزہ انتہائی جوش و خروش سے رکھا گیا اور ٹھیک اس کے اگلے دن لاہور میں دن دہاڑے ایک ماں نے اپنی سترہ سالہ بیٹی کوپیٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا. اس انسانیت سوز واقعے کی وجہ نئی نہیں ہے. ہمیشہ کی طرح پسند کی شادی اور غیرت کے نام پر قتل.

قاتل بھی وہ ماں جس کو پشیمانی بھی نہیں اور ندامت نام کی چڑیا وہ جانتی نہیں.

ماں کو اور بھائی کو پولیس نے حراست میں لے لیا، چند روز بعد مولویوں نے فتویٰ بھی دے دیا کے غیرت کے نام پر قتل غیر اسلامی ہے. حالانکہ کوئی ان مسلمانوں سے پوچھے کہ تمھیں انسانیت کے اصولوں کے لئے بھی فتویٰ چاہیے؟ ہم اپنے ساتھ ساتھ مذہب کو بھی نچلے درجے پر کھینچ لاۓ ہیں اس دعوے کے ساتھ کہ اسلام ضابطہ حیات ہے. یہ کونسا ضابطہ ہے کہ جس میں حیات ہی نہیں رہتی؟

صبر و استقلال کا یہ عالم ہے کہ اندرون سندھ میں ایک انتہائی ضعیف انسان شام چھ کے قریب خیرات میں ملی بریانی کھا رہا تھا تو اسکو پولیس والوں نے لہولہان کردیا. قصور؟ افطار میں گھنٹہ باقی تھا اور وہ بوڑھا شخص ہندو تھا. 
کوئی پوچھے ان دو نیک مسلمان پولیس والوں سےکہ کس حدیث کی روشنی میں انہوں نے ایک غریب لاچار بوڑھے شخص کو رمضان کی پاداش میں بری طرح سے مارا پیٹا تھا؟ اگر آپ میں بھوک کی برداشت نہیں ہے تو روزہ رکھ کر خدا اور اسکی  خدائی پر احسان نہ کریں.

مغرب میں جو لوگ روزہ رکھتے ہیں انہیں تو پھر چاہئے ہر دوسرے  انگریز یا ہندو کی دھلائی کریں اور کہہ دیں میرا روزہ ہے.

آخر ہم رویوں کی انتہا پر کیوں پہنچ جاتے ہیں؟ ہمارے اندر سے رواداری، انکساری، اور سب سے بڑھ کر اختلافات کو قبول کرنے کی صلاحیت ختم ہورہی ہے.  

آج جب ہم نے ١٢ روزے مکمّل کرلئے ہونگے تب گجرانوالہ میں ایک سات ماہ کی حاملہ عورت کو اس کے  گھروالوں نے قتل کردیا ہے کیوںکہ اس نے آج سے ٣ سال پہلے پسند کی شادی کی تھی. اس مقتولہ کا پہلا بچہ، اسکا شوہر کس کے پاس فریاد لے کر جاۓ گا کہ اس مقدّس مہینے کا بھی مان نہ رکھا اور دو جانوں کو صفہ ہستی سے مٹا دیا.

بھول گئے ہیں پاکستان کے مسلمان کہ خاتم النبین نے بھی بی بی خدیجہ سے پسند کی شادی تھی. 

ویسے تو مجھے اپنی قوم پر یقین ہے کہ وہ رمضان ک چاند پر لگا گرہن ہے لیکن پھر بھی ایک امید جاگتی ہے کہ شاید ہم کبھی سمجھ پائیں کہ روزہ نفس کا ہے آپ کے معدے کا نہیں. جنگ خود سے ہے کسی شیطان سے نہیں. 

یہ قصّے کہانیاں ہیں کہ شیطان ٣٠ دن قید ہوجاتا ہے. یہ تو خدا کو اپنے بندوں سے امید تھی کہ وہ اپنے اندر کا شیطان قید کر لینگے پر ہائے رے افسوس!


May 28, 2016

قیامت-- Qayam'at



اک روز میری حیات میں ایسا ہے
جب ایمان بھی تیرے حوالے کیا 
سرکار کے سب کچھ نام کیا

میں ان راستوں سے اب گزروں تو  
 دھوپ کی چمک چلّاتی  ہے 
تیرا ہمسفر کہاں ہے؟

درخت جھک کر ٹٹولتے ہیں، 
میرا سایا نہیں ملتا.....
ہوا ٹھہر کر پوچھتی ہے،
آج تیرا سائبان نہیں دیکھتا؟

اس اک روز کے جب 
تیرے سینے پر سانس جا ٹھہری تھی 
گردن کے خم پر زندگی کی حرارت تھی
تب میری آنکھوں پر
تیرے ہونٹوں نے مہر لگا دی  تھی 

اس روز کا سورج ٹھنڈا تھا
پھر بھی قیامت جاری تھی!


بانوسازی
٢٣ جنوری، ٢٠١٠

May 21, 2016

جلن


تم میں ایسا کچھ بھی نہیں جو اُس کو عام ذندگی میں پسند ہو. پھر بھی تم اُس کی سب سے خاص پسند ہو.

دِل و جان سے پسند ہو!

تمہاری طبیعت اُس کے مُخالِف ہے پھر بھی وہ صرف تمہاری سِمت ہی دوڑتا ہے.
سارے رشتے پار لگا کر تمہارے لئے رُکتا ہے.

مجھ میں ویسا کچھ بھی نہیں جو تُم میں ہے. نہ وہ کھلکھلاہٹ، نہ وہ کَھنَک، نہ مَچلتی دِل لگی، نہ وہ شوخ بے باکی، نہ وہ چمکتی نظر، نہ ہی زمانے کی سمجھ.

پھر بھی اُس کی سانس لمحے کو رک سی جاتی ہے. میری گَردن کے خَم پر مُڑ جاتی ہے!





بانوسازی
مئی ۲۰، ۲۰۱۶
رات ۱۱: ۱۰

Apr 12, 2016

صفائی -- Safa'yi


اس نے چونک کر آنکھیں کھولی اور اپنے سرہانے پر رکھی ہوئی گھڑی دیکھی تو یہی کوئی رات کہ ساڑھے تین بج رہے تھے. یوں لگا جیسے نیند کو اچانک سے کوئی کام یاد آگیا ہو اوروہ اسے اکیلا چھوڑکر چلی گئی ہو.
ایسا نہیں کہ یہ پہلی بار ہوا تھا لیکن اب اکثر ہونے لگا تھا وہ یونہی آنکھیں کھول کر ادھر ادھر تکتی جیسے دن چڑھا ہوا ہو اور اسے کوئی کام نہ مل رہا ہو کرنے کو.

کھڑکی سے جو روشنی چھن چھن کر اندر آرہی تھے، اس میں غور سے آس پاس دیکھا تو اس کو اپنی بکھری ہوئی سوچیں نظر آیئں. 

خود پر پڑی چادر کو سرکا کر پرے کرتی ہے اور دھیان سے پیر نیچے رکھتی ہے، کیا معلوم کوئی سوچ نیچے آ کر دب نہ جائے. اس نے اب تک  کتنی ہی سوچوں کو سمجھنے سے پہلے ہی دبا ڈالا تھا بنا جانے ہوئے کہ یہ دبی ہوئی سوچیں کرچیاں بن جاتی ہیں اور انسان کہ دماغ کی شریانوں کو پھاڑ دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں.


وہ دل ہی دل میں سوچتی ہے کہ عجیب بات ہے یہ جو ڈھیر ساری سوچیں بکھری پڑی ہیں اسکو دن میں کیوں نہیں نظر آتیں؟ وہ تو ہر شہ قرینے سے سجا کر رکھنے کی عادی ہے. جو شہ جہاں رکھ دی جاتی ہے وہیں سے ملتی ہے اور یہ سوچیں دیکھو............عجیب الجھی الجھی پڑی ہیں ہر کونے میں.

اسکے گھر میں تو کبھی مٹی کے جالے نہیں لگے تو یہ سوچیں کیسے جگہ جگہ پھیلی ہوئی ہیں؟


سلجھے ہوئے مکان میں اتنی الجھنیں؟
اس نے سوچا چلو جب تک نیند اپنے کام نپٹا کر آتی ہے میں بھی تھوڑی صفائی کرلوں.


وہ برآمدے میں کھلنے والی کھڑکی کی طرف بڑھی، وہاں کونے میں ایک سوچ سمٹی ہوئی تھی جیسے کسی کا خوف ہو. یہ اس کے بچپن سے وابستہ تھی  جب اسکو زیادہ بولنے کی اجازت نہیں تھی کیوںکہ "لڑکیاں زیادہ نہیں بولتی". 
یہ وہ سوچ تھی جس نے ڈر کے مارے خود کو گونگا کرلیا تھا.
ذرا آگے بڑھی تو کتابوں پر اسکی جوانی کی سوچوں کا اجتماع تھا جنہوں نے اسے بغاوت کا مطلب سمجھایا تھا. کئی بار اس نے جب ان سوچوں کو الفاظ دینے کی کوشش کی تو یہی  سننے کو ملا، "جب بولنا الٹا ہی بولنا". جس کو زمانے نے الٹا جانا وہ تو بس منطق کی تلاش تھی.


 اسی تلاش میں اس نے کتنی ہی سوچوں کو اپنے ذھن کے میدان میں کھلا چھوڑ دیا تھا.

کسی  تھکے ہارے مزدور کی طرح اس کے شانے اور نظریں نیچے جھک گئی اور وہ کمرے میں رکھے ہوئے صوفہ پر جا کر بیٹھ گئی. اب جو چاروں طرف نظریں دوڑآیں  تو ہر کونے کھدرے میں سوچوں کا انبار نظر آیا. 


اسکی پلکیں بھاری ہونے لگیں تو وہیں دراز ہوگئی اور خود کو یہ کہہ کر تسّلی دے دی، یہ "صفائی" پھر کبھی سہی! 




بانو سازی 
اپریل ١١، ٢٠١٦
رات ١١:٢٩


Mar 6, 2016

عورت۔۔۔ شارع عام نہیں ہے

Originally published here HumSub



برصغیر میں ویسے تو عورت نے انفرادی طور پر بڑی ترقی کرلی ہے لیکن افسوس بنیادی طور پر وہ اب بھی اپنے دفاع میں لڑ رہی ہے۔ اب پڑھنے والے کہیں گے بی بی صاف صاف کہو بلکہ فرق بیان کرو۔
تو جناب مدعا کچھ یوں ہے کہ آپ نے عورت کے وجود کو وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں جگہ دے دی۔ بصورت ماں، بہن، بیٹی، بہو، بیوی، وغیرہ وغیرہ لیکن بنیادی طور پر اس کو صرف عورت بلکہ انسان کا درجہ دینے سے قاصر رہے اور اس کو اپنی ضروریات کے دائرے میں باندھ کر رکھا۔ کسی کے لئے وہ بچے پیدا کرتی رہے، تو کہیں چولھا چکّی میں الجھی رہے۔ غرض اس کی بنیادی لگن کو اس کے وجود سے الگ کردو۔
معاشرہ پڑھ لکھ گیا ہے کچھ سمجھ بوجھ بھی آگئی ہے اس لئے اکثر اوقات ہم سن لیتے ہیں کہ لوگ اپنی بیٹیوں، بہنوں،بیویوں کو ان کے بنیادی حقوق سے آگاہ کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے حقوق بھی پورے کر رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ معاشرے کا شاید سواں حصّہ ہوں گے اور ان کو معاشرے کی اکثریت نہیں مانتی بلکہ وقتاً فوقتاً غیرت کی گھٹی پلانے کی کوشش کرتی ہے۔
"لڑکی کو باہر پڑھنے بھیج دیا؟ ارے مت ماری گی ہے کیا؟"
”اے اتنا پڑھا لکھا کر کیا کرنا ہے۔ آخر کو تو گھر ہی سنبھالنا ہے نا۔"
"لڑکی اتنی دیر سے دفتر سے آتی ہے؟ دیکھ لینا دفتر کے نام پر کوئی اور کام نہ ہورہا ہو."

\"تمہارا تو اپنی بیوی پر کوئی زور ہی نہیں چلتا۔ ذرا لگام ڈال کر رکھو میاں۔\”
اب کوئی زمانے سے پوچھے بیوی ہے یا گھوڑا؟ یا صحیفوں میں لکھا ہے کہ گھر سنبھالنا صرف اور صرف زنانہ ذمےداری ہے؟
ہمارے معاشرے میں ماشااللہ لڑکیوں کی تربیت پر اتنا دھیان رکھا جاتا ہے کہ لڑکوں کی تربیت کرنا والدین بھول جاتے ہیں۔ جب کہ اصل مدعا تو یہ ہے کہ مرد حضرات کو بھی تعلیم و تربیت دونوں کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے کے آپ لڑکی کو یہ سکھائیں کہ دوپٹہ سلیقے سے اوڑھو، پہلے لڑکے کو سکھائیں کہ بیٹا دوپٹہ ہو یا نہ ہو تم اپنی نظر اوپر یا نیچے ہی رکھنا۔۔۔۔۔۔۔کہیں بیچ میں نہ بھٹکا دینا۔
آپ میں سے کتنے ماں باپ ہوں گے جنہوں نے کہا ہوگا کہ چہرہ گردن کے اوپر ہے، نیچے نہیں ؟ کوئی بھی نہیں ہوگا ایسا کیوںکہ یہ تو خطّے کی روایت ہے کہ عورت ہی غلط ہے، فتنہ ہے، فساد ہے، شیطان کی نانی ہے۔۔۔۔۔نانا کہہ دیتے لیکن نہیں محاورے میں بھی نہ بخشا۔
مسئلہ پھر وہیں کا وہیں! عورت، عورت تو ہے مگر ساتھ میں انسان بھی ہے۔ کوئی بے جان چیز نہیں جو بس ضرورت ہو اور آپ کی محکوم بھی۔ میں نے طالب علمی کے زمانے میں ایک جملہ سنا تھا جو کچھ یوں تھا، \”مرد اگر 100 عورتوں کے ساتھ بھی سوجائے تو فرق نہیں۔\”
یہ ہے ہماری تربیت جو لڑکوں کو سکھاتی ہے کہ عورت صرف ساتھ سونے کی شے ہے، اور یہ کہ تم پر ہر گناہ معاف ہے کیوںکہ تم مرد ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی لڑکی یا عورت اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرے، حق کے لئے کھڑی ہو، یا اپنے بنیادی فیصلے خود لینا چاہے تو اس کو تہمتوں سے نوازا جاتا ہے۔
"باغی ہے."
"ہاتھ سے نکل گئی۔"
اس کے علاوہ جو کہا جاتا ہے اسے کیا لکھنا۔ طلاق ہوتی ہے تو کہتے ہیں لڑکی کا قصور ہوگا، لڑکی خلع لے تو بھی اس کا جواز اس کے سر ڈال دیں گے۔ ریپ ہوگا تو بھی لڑکی میں ہی کھوٹ ہوگا جی۔۔۔۔۔کپڑے ایسے ہوں گے، لائن دی ہوگی، کردار ہی خراب تھا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ویشیا کا ریپ ہوجائے تو وہ ریپ کے کھاتے میں ہی نہیں آتا، پولیس کچہری تو دور کی بات ہے۔ کیوںکہ وہ تو ویشیا تھی، جسم بیچتی تھی تو وہ انکار کیسے کرسکتی ہے۔ مرد کا انکار، انکار ہے لیکن عورت کا انکار اس کا نخرہ ہے یا مرد کی توہین۔
یہی وجہ ہے کے جب کوئی لڑکی گھر سے باہر قدم رکھتی ہے تو اس کو جواز، جواب، اور جدوجہد سب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشرے کی خصلت یہ ہے کہ آپ کی بہن، بیٹی، بیوی، ماں اگر گھر سے باہر نکلی ہے تو بس اب وہ \”دستیاب\” ہے کیوںکہ یہ وہی قوم ہے جو اپنی عورتوں کو ایسے لپیٹ کر رکھتے ہیں جیسے دکاندار شیشے کا برتن اخبار میں لپیٹ میں رکھتا ہے۔
اس دور کے مرد اور عورت یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عورت اگر مضبوط ہوگی، پڑھی لکھی ہوگی، تو ایک نسل کا مجموعی فائدہ ہو گا۔ آپ کو مغالطہ ہے کہ دروازے سے باہر قدم رکھنے والی ہر بچی، لڑکی اور عورت بس آپ کے دروازے میں داخل ہونے لئے نکلی ہے۔
نہیں صاحب! وہ اپنا مقام بنانے نکلی ہے، اپنا وجود ڈھونڈنے نکلی ہے۔ وہ چیز نہیں ہے جس کی آپ نے قیمت لگا دی اور کبھی تو بنا قیمت کے ہی بروئے استعمال لے آئے۔
وجود زن سے کائنات میں بھرنے والے رنگ کو تو سمجھ گئے ہوں گے آپ شاید، لیکن وجود کو نہیں سمجھ سکے۔

Jan 27, 2016

شرمندہ


کتنی بار سوچا
ایک افسانہ لکھوں 
تمہاری بےوفائی کا 
اپنے انتظار کا،

کھوکھلے وعدوں کا
پختہ یقین کا 

زندہ خوابوں کا 
مردہ ارادوں کا 

بےنام مجبوری کا 
بانجھ امیدوں کا 

پھر،
یہ سوچ کر قلم 
رکھ دیا 

کیا انجام لکھوں 
وقت کے آگے 
......محبّت کے شرمندہ ہونے کا ! 





بانو سازی 
جنوری ٢٣، ٢٠١٦

Jan 16, 2016

تمہاری تہذیب



"مجھے یہ فائلز بھیج دینا اور ہاں ان تمام سوالوں پر بھی کام کرلینا جو آج پوچھے گئے ہیں. میں اگلے دو تین دن تک شاید موجود نہ ہوں."

یہ تمام ہدایات تہذیب نے اپنی ٹیم کو دیں اور اپنا فون اٹھا کر دیکھنے لگی. اسی دوران میں اسکا فون بج اٹھا اور وہی کال تھی جسکا اسکو انتظار تھا. تہذیب اپنی جگہ سے اٹھی ، ٹیم کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور خود آکر کھڑکی پر کھڑی ہو گئی. 

فون کی دوسری جانب اسکا بھائی تھا.

بارہ گھنٹے یا شاید اس سے کچھ کم ہی وقت گزرا ہوگا جب تہذیب کو خبر کی گئی تھی کہ "وہ" نہیں رہا.

تب سے لے کر اب تک جانے تہذیب کیسے رہ گئی تھی؟ یہ سوال اس نے خود سے پوچھا لیکن کوئی جواب نہیں آیا کیوں کہ وہ یقین اور بے یقینی کے بیچ اپنے قدم جما رہی تھی. اس خبر کے ساتھ پیغام بھی تھا کہ ممکن ہو تو پہنچ جائیے، ہمارے پاس آپ کو دینے کے لئے کچھ سامان بھی موجود بھی ہے. 

ہمیشہ کی طرح آج اس نے فون اٹھا کر بھی کو سلام نہیں کیا بلکے سیدھا سوال.

"ٹکٹ ہوگئی ؟"

"ہاں! لیکن وہ....."

"کیا؟"

"تم اکیلے ؟"

"مجھے کمزور سمجھتے ہو؟"

"نہیں تو. لیکن شاید کوئی ساتھ چلے تو بہتر ہوگا"

"اس نے اکیلے مرنے کی ہمّت کرلی تھی تو اب میں بھی جینے کی ہمّت کرلوں گی."

"تمہارا جانا ضروری نہیں."


"بہت ضروری ہے. دفنانا جو ہے........اس کو اور خود کو اس کے ساتھ!"


لائن کٹ گئی.

کھڑکی سے باہر دن کا سورج ڈھل رہا تھا لیکن اس کے درد کا چاند چڑھ چکا تھا.





بانو سازی 
جنوری ١٦، ٢٠١٦
رات ٢:٣٤

ٹکڑوں میں باتیں


گزر رہی ہے تو گزار رہے ہیں بَحقِّ محبت بکھرتے جارہے ہیں

--------------

جوش گم گیا، ہوش کھو گئے اے دل نامراد،اب کدھر چل دئیے

---------------

مصروف کرلیا ذات کو زندگی میں تم کو بھولنے کی بھی فرصت نہیں حال احوال کی کوئی امید نہ رکھنا اس سفر میں ٹھہرنےکا جواز نہیں



#بانوسازی

Nov 17, 2015

روشن کاغذ -- Roshan Kaghaz


پرانے وقتوں میں لوگ خط وغیرہ  سنبھال کر رکھتے تھے. کبھی صندوقوں میں تو کبھی تکیے کے اندر، کتابوں کے بیچ یا پھر تہہ لگے کپڑوں کے درمیان سینت سینت کر.

 ایسی تحریروں کا گمنامی میں رہنا ہی ان کے مالکان کے لئے عافیت تھا. ہر کاغذ ہر کسی کے لئے نہیں ہوتا. کچھ کاغذات کے جملہ حقوق محفوظ ہوتے ہیں. یہ وہ الفاظ ہوتے ہیں جو اکیلے میں پڑھو تو بنا بات رلا دیں یا بے وجہ ہنسا دیں.

 صرف جائیدادیں نسل در نسل نہیں ہوتی، یہ خطوط بھی ہوتے ہیں. خطوط جن کی ملکیت میں حوالے کر دئے جاتے ہیں وہ یا تو سمجھتے نہیں ہیں یا سمجھ کر ضایع کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں.

میرے پاس بھی ہماری ایسی کچھ تحریریں ہیں !

ہزاروں، سینکڑوں تو نہیں لیکن اتنی ہیں جنہیں کوئی انگلیوں پر نہیں گن سکتا.  

خیر گنّنا کیسا؟ کوئی کمائی تھوڑی نا ہے.
بس کاغذ پر روشن وقت ہے.

آٹھ سال کا وقت!
 کچھ  خط جو میرے ذھن میں ہی لکھے رہ گئے اور کچھ جو تم تک پہنچ گئے. اکیسویں صدی کہ لوگ ہیں ہم تو ہمارے الفاظ بھی جدید کاغذوں پر محفوظ ہیں.
 عرصہ ہوا تھا قلم اٹھا کر کاغذ کو روشن کئے مگر یاد ہے نا ایک لکھا تھا تم کو چند سال پہلے؟

شاید نہ یاد ہو.
میں یاد نہیں تو میرا خط کیسے؟

یہ الفاظ بھی نا ....... وقت پرتو دھوکہ دے جاتے ہیں اور وقت گزرنے کے بعد اس دھوکے کی سزا کاٹتے ہیں. میں، تم، اور وقت تو گزر گئے یہ لیکن وہیں کے وہیں ثبت ہو کر رہ گئے. انہیں ابھی بھی شبہہ سا ہے یا تم پلٹو گے یا وقت.

لیکن یہ کیسے ممکن ہو کیوںکہ کچھ تحریروں کو صرف پڑھنا تھا، ان پر ایمان نہیں لانا تھا.

کتنی بار سوچا یہ سارے خطوط اور انکی نشانیاں مٹا دوں. عجیب بے جان سا بوجھ ہے لیکن ہر بار کوئی اچھی یاد سوچ کر بہانہ بنا کر رکھ لیا کہ یوں مسکرانے کی کوئی وجہ تو باقی ہے.

میں اکثر وہ خطوط کھول کر پڑھنے لگتی ہوں اور اس وقت سے گزرتی ہوں. آج بھی ایک خط کھول لیا اور بےدھیانی میں تمہارےبنے خواب پڑھنے لگی.

اب کئی روز تک نیند ان کاغذوں میں جاگتی رہے گی.




بانو سازی 
نومبر ١٧، ٢٠١٥
رات ١٢:٤٣

Oct 3, 2015

ٹوٹ پھوٹ


١)
"تم" نے ہم پر امید کے دَر کیا بَند کئے ہم دَر و دیوار سے بھی اُلجھنے لگ گئے


٢)
اُن سے خفا ہو کر اُنہی پہ مرتے ہیں عِشق والے کب انصاف کرتے ہیں


٣)
وصل کی امید میں ہجر سے دل لگایا روح کی پرواز پر انتظار کا پہرا بٹھایا


-- بانوسازی

Sep 14, 2015

"تم"


"کتنے ہی کاغذ سیاہ کردوں، ہر لفظ تم پر لکھ دوں، کہانیاں کہہ دوں، لیکن تمہاری حقیقت سے محروم رہے گی یہ زندگی......افسانوی زندگی" #بانوسازی

Jul 30, 2015

منکر -- Munkir


تم اپنے آپ میں
ایک کہکشاں ہو
جس میں میرے نام کا
سِتارہ ہی نہیں


اُن روشن آنکھوں میں
میرے خیال کی
چمک ہی نہیں،
نَبض کی روانی میں
کسی یاد کا
گُزر بھی نہیں.


میرے ہونے کا
ذکر ہی نہیں
تم میں کھونے کا
اب ڈر بھی نہیں.



بانو سازی 
٣٠ جولائی  ، ٢٠١٥
رات ١:٠٠


Tum apnay aap main
Ek kehkashan ho
Jis main mere naam ka
Sitara hi nahin

Unn roshan ankhon main
Mere khayal ki
Chamak hi nahin,
Nabz ki rawani main
Kisi yaad ka
Guzar bhi nahi.

Mere hone ka
Zikr hi nahin
Tum main khonay ka
Ab darr bhi nahi.


Bano.
July 30th, 2015
01:00 am






Jul 16, 2015

"داسی"


خدا کی خدائی میں تمہیں "خدا" بنا دیا
ہماری سجدہ ریزی نے ہمیں کافر بنا دیا


تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے بُت تَراش کر 
مسجد میں رکھ چلے،مندر میں سجادیا


قیامت کا کہتے ہیں کوئی وقت مُقَّرر ہے
روزہوتا ہے حَشربَپا،سہنے کا عادی بنادیا


کاتبِ تقدیر سے مانگا،تو ہَنس کرصدا آئی
دینِ عشق میں یاد نہیں کسے "خدا" بنادیا 






بانو سازی 
١٦ جولائی  ، ٢٠١٥
رات ١١؛٣٣


Khuda ki khuda'i main tumhein "khuda" bana dia
Humari sajda-rezi nay humein kaafir bana dia

Tumhein khabar nahin ke tumhare bu't taraash kar
Masjid main rakh chalay, mandir main saja dia

Qayamat ka kehte hain koi waqt muqarrar hai
Roz hota hai hashr bapa, sehne ka aadi bana dia

Katib-e-Taqdir say manga, tau hans kar sad'aa ayi
Deen-e-Ishq main yaad nahi kisey "khuda" bana dia




Bano.
July 16th, 2015
11:33 pm


Jun 8, 2015

شیعہ کہانی



یہ میری اپنی اور میرے آس پاس والوں کی کہانی ہے  جو قسمت سے یا مرضی سے شیعان علی کے دائرے میں ہیں.

ہم نے آزادی کی جنگ کے قصّے سن رکھے ہیں کیسے بلوائیوں نے گھر اجاڑے ، عزتیں اتاریں، اور فلانہ ڈھمکانا ا سب سنا پڑھا لیکن کہیں فرقے کا ذکر نہیں سنا. الٹا میرے بڑے جنہوں نے ایک چھوڑ دو ہجرتیں دیکھیں اور ساتھ جانے کیا کیا دیکھا جس کا ذکر وہ کبھی خشک آنکھوں سے نہیں کرتے، کہتے ہیں شیعہ سنی فسادات ہند اور بنگال کا کبھی مسلۂ نہیں رہا. 
ہندو مجلس سنتے تھے اور حسین کے نام کی نیاز، سکینہ کے نام کی سبیل، اورعبّاس کو باب الحوائج مانتے تھے / ہیں. انسانی اور مذہبی ہم آہنگی بنیاد تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ ہجرتوں کی قصّہ گوئی بن کر رہ گئی بس. 

میں خود سے شروع کروں تو میری پہلی یاداشت تب کی ہے جب چوتھی جماعت میں تھی. سکول کے بعد وین کے انتظار میں تھی جب میں نے دیکھا کہ میری ہم جماعت اپنی خالی پانی کی بوتل لئے کھڑی ہے اور ادھر ادھر پانی کے  لئے کسی کو ڈھونڈ رہی ہے. 
میری پرورش میں ایک جملہ بہت شامل رہا وہ تھا "پانی پر کبھی انکار نہیں کرتے چاہے کچھ ہو، تم کوئی یزید تھوڑی ہو."   

تو بس اسی جملے کی بنیاد پر بانو صاحبہ ڈیڑھ ہوشیار بنتے ہوئے اس بچی کو پانی دینے لگیں اپنی بوتل سے لیکن سامنے سے عجیب بات سننے کو ملی. اس نے کہا "تم شیعہ ہو پانی میں تھوکتی ہوگی میں نہیں پیوں گی." میں ہاتھ میں بوتل کا گلاس لئے حیران و پریشان رہ گئی اور خود وہ پانی پی گئی. 

چوتھی کلاس کی بچی کو کیا عقل فرقے کی نہ کبھی ہمیں فرقہ واریت سکھائی گئی سو گھرپہنچتے ہی اماں کے آگے اپنا مرثیہ لے کر بیٹھ گئی کہ شیعہ کیا ہے؟ میرے پانی میں کون تھوکتا ہے؟ اور ثانیہ کی بچی نے ایسا کیوں کہا؟ بہرحال اماں نے کچھ مجھے سمجھایا اور کچھ میری استانی کو کہ بچے سکول میں کیا گفتگو اور رویہ رکھتے ہیں. 

پانی کے تھوک، حلیم میں بچوں کے خون سے لے کر اور بہت ساری بیہودہ اور بے بنیاد فرقوی شک و شبہات لے کروقت گزارا بڑے ہوگئے لیکن پھر بھی میں نے اور مجھ جیسے کئی شیعوں نے خوف کی چادر کبھی نہیں لپیٹی.

تکفیری اور دیوبندی جیسے نام کانوں میں شاد و نادر ہی پڑھتے تھے لیکن اکیسویں صدی خود تو آیئ ساتھ اپنے بہت جوڑ توڑ لائی.  

٢٢ فروری ٢٠٠٣  کو کراچی میں لشکر جھنگوی  نے امام بارگاہ مہدی میں دوران نماز گھس کر ٩ شیعہ کو شہید کردیا تھا. سننے میں کتنی معمولی تعداد لگتی ہے نہ؟ 
سنۂ ٢٠٠٤ میں کل ملا کر ایک سو انتیس شیعہ شہید ہوئے اور چار سو  زخمی. 
اس سال کے دو بڑے دھماکے لیاقت بازار کوئٹہ اور حیدری مسجد کراچی کے تھے؛ لیکن عام شیعہ پھر بھی چوکنا نہ ہوا کہ آنے والا وقت ہر گھر سے جنازہ اٹھواے گا اور ہماری نسل کشی ہوگی. ہم یتیم مسکین نہیں ہونگے بلکہ ہونگے ہی نہیں.

میں ہر سال اپنے بھائی  کو عاشور کے جلوس میں بعد فجر چھوڑ کر آتی ہوں کیوںکہ حفاظتی اقدامات کی وجہ سے گاڑی نہیں لے جاتا. سنۂ ٢٠٠٩، اٹھائیس دسمبر کو میرے خاندان کا ہر مرد اور بچہ اس دھماکے کا گواہ ہے جو پچاس سے زائد شیعوں کو شہید اور سینکڑوں گھروں کو سوگوار کر گیا. چھوٹے چھوٹے بچے لاشوں کو پھلانگتے ہوئے وہاں سے نکلے اوراگلے روز نماز جنازہ پڑھنے گئے. 

میں نے ایک بار پھر اپنے بھائی کو اسی سال اربعین پر جاتے دیکھا. 

وہ دن اور آج کا دن ہے میں ہر روز اس کا چہرہ ایسے ہی دیکھتی ہوں جیسے آخری بار ہو کیوںکہ وہ ایک شیعہ ہے اور کبھی بھی ٹارگٹ ہو سکتا ہے.  

اور یہ صرف میرا وطیرہ نہیں ہر اس گھر کا ہے جو شیعان علی سے تعلق رکھتا ہے. لوگ کہتے ہیں محرم میں کالا مت پہنوکہ نشاندہی ہوگی لیکن ہم اتنی ہی ضد سے پہنتے ہیں،  انگلیوں میں چھلا ڈال کر رکھتے ہیں جو ہماری مائیں نظر دلاتی ہیں.

یہ نسل کشی ایک سوچے سمجھے منصوبے کہ تحت ہے جس کی شروعات کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے ہوئی. 

پچھلے دس سے پندرہ سالوں میں ١٣،٠٠٠ سے زائد ہزارہ شیعہ کا قتل عام ہوا اور ١٥،٠٠٠ سے زائد زخمی ہوئے. 

اور پھر لوگ کہتے ہیں شیعہ مت کہو، کہو پاکستانی مرا ہے؟

پچھلے سات سے آٹھ سالوں میں ہم شیعوں نے اتنے  جنازے اٹھاۓ اپنے جوانوں، بوڑھوں، اور بچوں کے، کہ اب تعداد بھی یاد نہیں رہی ہے.
تکفیری سوچ نے لمحوں میں ہماری جواں سال عورتوں کو بیوہ، بچوں کو یتیم، اور ہماری دو دو تین تین نسلوں کوشہادت کے رتبے پر پہنچا دیا.......لیکن سلام ہے پاکستانی قوم پر جس کی اکثریت نے ہمارے لئے نہ آنسو بہاے، نہ گلے پھاڑ پھاڑ کر بین کیا. 

کیوں کہ ہم شیعہ ہیں، کشمیری یا برما کے مسلمان نہیں!

پاکستان کا آزاد میڈیا بھی لفظ "شیعہ" کا استعمال کرنے سے گریز کرتا ہے. DAWN News، Express Tribune  جیسے بڑے بڑے اخبارات بھی کھل کر یہ نہیں بتاتے کہ ہزارہ کو کس بنیاد پر ٹارگٹ کیا جاتا ہے؟ کوئی ذاتی یا کاروباری دشمنی نہیں ہے، یہ فرقہ واریت ہے تو پھر کیوں نہیں بولتے ہو؟

کیا "یا علی مدد" کہنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ شہر کا شہر ہمارا خون ہاتھ پر لگاے پھرتا ہے؟

شیعوں کا ناحق خون بہانے والے  تکفیریوں جان لو کہ جس جنّت کہ پیچھے تم اپنی جان گنواتے ہو، اس کے سردار "حسن و حسین" ہیں، اور لبّیک یاحسین کہنے والے ہم شیعہ! 









May 14, 2015

Blasphemy---کفر


کسی روز جو تو سنے،

تو تجھ کو سناؤں،
ہر وہ لفظ
جو کہا نہیں
سارے خیال جو 
 سچ ہوئے نہیں.

کتنے خواب
جو 
حقیقت کبھی سہی.

وہ ملاقاتیں 
جو تجھ سے 
ملیں نہیں.

بیاں کر کے
 بتاؤں، 
وہ احساس جو 
تپش میں 
بدلا نہیں.

اس لمس کی 
مہک،
جو تیری اترن 
سے 
بھینچی تھی. 

مانگوں، 
وہ وقت جو 
ہر بشر کا ہے 
اک میرا نہیں.

مدعا یہ کہ، 
حراست میں ہوں 
اور تو 
قیدی مانتا ہی نہیں.

عبادتوں کا مقصد
دھڑکن کا کلمہ
تم ہوئے 
اب میرے 
سجدے "اس" کے 
نہیں!




بانو سازی 
١٤ مئی ، ٢٠١٥
رات ١:٢٢





May 4, 2015

وابستگی


زمانہ آ ہی گیا کہ تمہاری خبر بھی نہیں اس نے کہا، ہم رابطے میں نہیں.
میں نے سچ سن لیا کہ اب وابستگی ہی نہیں!

بانوسازی 
مئی ٤، ٢٠١٥



Zamana aa hi gaya key,
Tumhari khabar bhi nahi.
Us ney kaha,
Hum raabtay main nahi!

Maine sach sun liya,
Keh

Ab wabas'tagi hi nahin!



Bano B.
May 4th, 2015