Jan 15, 2019

بےخوابی

ایک بار پھر نیند  سے میری ناراضگی ہوگئی ہے. کتنے دن اور کتنی راتیں گزر جاتی ہیں اور میں خود کو خلا میں محسوس کرتی ہوں. ایسی خلا جس میں نیند نام کا سیارہ نہیں ہے. 

قصور نیند کا بھی نہیں ہے. اس بیچاری کو تمہاری بانہوں میں اترنے کی عادت تھی، صرف اس سینے پر سر جھکا کر آنکھیں موندنے کی اجازت تھی. اب احساس تو ہے مگر وجود نہیں تو ہم دونوں اکثر لڑتے ہیں. کبھی نیند تھک کر میرے پاس سوجاتی ہے یا پھر اڑ کر تمہارے سرہانے رکھے ٹیبل لیمپ پر جا بیٹھتی ہے. 

مجھے یقین ہے، میری نیند دبے قدموں سے تمہارے پاس آتی ہے اور تمہارے گال سے لگی داڑھی سہلا کر تمھیں جگا دیتی ہے بلکل ویسے جیسے پچھلی زندگی میں ایک رات، میں چوروں کی طرح  تمہارے پاس آئ تھی اور خود کو لٹا کر صبح کا سورج دیکھا تھا. اگلی زندگی کے اندھیرے اس اجالے میں مجھے دکھائی ہی نہ دئیے.
میں نے نیند سے کہہ رکھا ہے، تمھارے گھر کا طواف کرلیا کرے، میرے لمس کو زندہ کردیا کرے. اس دروازے پر پھر سے ہاتھ رکھ دے جو تمھارے دفتر سے واپس آنے پر کھلتا تھا اور ساتھ ہی میری مسکراہٹ بھی کھلتی تھی. صبح کی چائے سے نکلتی بھاپ پر میری شکل بنا چھوڑے جو بس تم دیکھو. میری خوشیوں کا سورج تمہاری سفید شرٹ پر چمکا دے. اس آئینے کو چوم لے جس میں تم مجھے دیکھا کرتے تھے. تمھارے چھوڑے میٹھے کی پلیٹ کو جھوٹا کردے جیسے میں کرتی تھی تمھارے حصّے کا چھین کر.

سب سے آخر میں بستر کی سلوٹ پر میری حرارت بچھا دے تاکہ تمہاری بےچینیاں ان میں دفن ہوجائیں. 

میری فکر مت کرنا. میری نیند نے تمھارے لکھے خطوں کو سینے سے لگا لیا ہے. تم نہ سہی، تمہاری انگلیوں سے نکلی روشنائی سہی !




#بانوسازی 
١٥ جنوری 
رات ٣ بج کر ٢ منٹ 



0 comments: